سندھ سرمایہ کاری بورڈ کے منصوبے متاثر نہیں ہونگے سیکریٹری فنانس
سرمایہ کاری بورڈ اور انٹر پرائسز ڈویلپمنٹ فنڈ حکومت کے زیر نگرانی کام کرتے رہیں گے
سرمایہ کاری بورڈ اور انٹر پرائسز ڈویلپمنٹ فنڈ حکومت کے زیر نگرانی کام کرتے رہیں گے
سندھ سرمایہ کاری بورڈ کومحکمہ خزانہ کے ساتھ منسلک کردیا گیا ہے جبکہ جاری کردہ منصوبے بغیرکسی تعطل کے جاری رہیں گے ۔ یہ بات سیکریٹری فنانس نوید کامران بلوچ نے سندھ سرمایہ کاری کی بندش سے متعلق پیدا ہونے والے ابہام کی وضاحت کرتے ہوئے اپنے ایک بیان میں کہی ۔ انھوں نے مزید وضاحت کی کہ سندھ سرمایہ کاری بورڈ اور سندھ انٹر پرائسز ڈویلپمنٹ فنڈ حکومت سندھ کے زیر نگرانی اپنے دائرہ کار میں کام کرتے رہیں گے ۔
سندھ سرمایہ کاری بورڈ کو اپریل 2010 میں اپ گریڈ کرتے ہوئے محکمہ سرمایہ کاری کا درجہ دیا گیا تھا جسے اب ڈی نوٹیفائیڈکردیا گیا ہے تاہم ایس بی آئی جسے مارچ 2009 میں قائم کیا گیا تھا وہ اب بھی قابل عمل ہے اور اس کے زیر نگرانی شروع کیے جانے والے تمام منصوبوں پر ہر صورت میں عمل درآمد کیاجائے گا۔ چیئرمین ایس بی آئی محمد زبیر موتی والا اور رخصت ہونے والی سیکریٹری سرمایہ کاری ناہید ایس درانی کی رہنمائی میں سماجی ' معاشی ترقی کے لیے صوبے میں کئی منصوبے نچلی سطح پر شروع کیے گئے ۔
قبل ازیں ایس بی آئی کو ونڈ انرجی منصوبے اور صوبے میں دیگر متبادل توانائی کے منصوبوں کی ترقی کے لیے فوکل ایجنسی کے طور پر نامزد کیا گیا تھا تاکہ مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کی جاسکے ۔ اس کے ساتھ ایس بی آئی نے صوبے کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے منصوبے شروع کیے ۔
سکھر میں ڈرائی پورٹ کا قیام ، ماربل سٹی کا قیام، لاڑکانہ اسپیثل اکنامک زون اور خیرپور اکنامک زون کا قیام 'ایجوکیشن سٹی کا منصوبہ اور زراعت کی ترقی کے لیے متعدد منصوبے شروع کیے جو وزیر اعلیٰ سندھ کی ہدایات پر اب تقریباً تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔ سندھ انٹرپرائز ڈویلپمنٹ فنڈ ایس بی آئی کا ایک ایسا منصوبہ ہے جس کے تحت زرعی شعبے میں بینکوں کے ذریعے قرضے پر ادا کیے جانے والے K IBOR کو سندھ انٹر پرائز ڈویلپمنٹ فنڈ ادا کرتا ہے۔ صوبائی وزیر خزانہ نے بھی سندھ بورڈ آف انویسٹمنٹ کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ میں ایس بی آئی کے تمام منصوبوں کے لیے اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
سندھ سرمایہ کاری بورڈ کو اپریل 2010 میں اپ گریڈ کرتے ہوئے محکمہ سرمایہ کاری کا درجہ دیا گیا تھا جسے اب ڈی نوٹیفائیڈکردیا گیا ہے تاہم ایس بی آئی جسے مارچ 2009 میں قائم کیا گیا تھا وہ اب بھی قابل عمل ہے اور اس کے زیر نگرانی شروع کیے جانے والے تمام منصوبوں پر ہر صورت میں عمل درآمد کیاجائے گا۔ چیئرمین ایس بی آئی محمد زبیر موتی والا اور رخصت ہونے والی سیکریٹری سرمایہ کاری ناہید ایس درانی کی رہنمائی میں سماجی ' معاشی ترقی کے لیے صوبے میں کئی منصوبے نچلی سطح پر شروع کیے گئے ۔
قبل ازیں ایس بی آئی کو ونڈ انرجی منصوبے اور صوبے میں دیگر متبادل توانائی کے منصوبوں کی ترقی کے لیے فوکل ایجنسی کے طور پر نامزد کیا گیا تھا تاکہ مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں کو سہولت فراہم کی جاسکے ۔ اس کے ساتھ ایس بی آئی نے صوبے کے تعلیم یافتہ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے منصوبے شروع کیے ۔
سکھر میں ڈرائی پورٹ کا قیام ، ماربل سٹی کا قیام، لاڑکانہ اسپیثل اکنامک زون اور خیرپور اکنامک زون کا قیام 'ایجوکیشن سٹی کا منصوبہ اور زراعت کی ترقی کے لیے متعدد منصوبے شروع کیے جو وزیر اعلیٰ سندھ کی ہدایات پر اب تقریباً تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں۔ سندھ انٹرپرائز ڈویلپمنٹ فنڈ ایس بی آئی کا ایک ایسا منصوبہ ہے جس کے تحت زرعی شعبے میں بینکوں کے ذریعے قرضے پر ادا کیے جانے والے K IBOR کو سندھ انٹر پرائز ڈویلپمنٹ فنڈ ادا کرتا ہے۔ صوبائی وزیر خزانہ نے بھی سندھ بورڈ آف انویسٹمنٹ کی جانب سے دی جانے والی بریفنگ میں ایس بی آئی کے تمام منصوبوں کے لیے اپنے بھرپور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔