علیم بھائی ہمیں آپ پر ناز ہے
اگر علیم ڈار اظہر زیدی کی بات نہ مانتے تو شایدآج اس مقام تک نہیں پہنچ پاتے۔
اگر علیم ڈار اظہر زیدی کی بات نہ مانتے تو شایدآج اس مقام تک نہیں پہنچ پاتے۔ فوٹو: فائل
''سر جی کیا میں اندر آ جاؤں'' دروازے کی اوٹ سے ایک گھبرائے ہوئے نوجوان نے جب اسپورٹس شاپ کے مالک سے اجازت طلب کی تو انھوں نے جواب دیا ''آؤ پتر یہاں کے دروازے ہمیشہ ہرکرکٹر کے لیے کھلے ہوتے ہیں'' وہ نوجوان پھر اندرآ گیا ، اس کا دوست بھی ساتھ تھا، دونوں نے بتایا کہ وہ پڑھائی کیلیے اندرون پنجاب سے لاہور آئے ہیں مگر کرکٹ میں نام کمانے کی بھی خواہش ہے، ان دونوں میں سے ایک کا نام علیم ڈار تھا جسے دنیا آج بہترین امپائر کے طور پر جانتی ہے، وہ شاپ زیدی اسپورٹس اور اس کے مالک اظہر زیدی ہیں جنھوں نے علیم ڈار کو اس مقام تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔
میں علیم بھائی کو 22،23 برس سے جانتا ہوں، اس وقت میں کرکٹ میگزین اخبار وطن کا ایڈیٹر تھا، منیر حسین مرحوم جب کبھی کرکٹرز کے انٹرویوز کرنے لاہور بھیجتے تو میرا بیشتر فارغ وقت زیدی اسپورٹس پر ہی گذرتا،وہاں سے جب کہیں جانا ہوتا تو زیدی صاحب کے ساتھ علیم ڈار ضرور ہوتے، گوکہ اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے میری زیدی صاحب سے اب اتنی قربت نہیں رہی لیکن میں بخوبی جانتا ہوں کہ عبدالرزاق، عمران نذیر اور سیکڑوں دیگر کرکٹرز کو اعلیٰ مقام تک پہنچانے میں ان کا کتنا بڑا کردار ہے، ٹیلنٹ پرکھنے کا ایسا گُر میں نے کم ہی لوگوں میں دیکھا۔ علیم ڈارکی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے، انکا تعلق جھنگ سے تھا،والد پولیس میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔
پوسٹنگ گوجرانوالہ میں ہو گئی تو علیم وہاں سے پڑھائی کیلیے لاہور آ گئے جہاں اسلامیہ کالج میں داخلہ لے لیا اور ہاسٹل میں رہنے لگے، انھوں نے چند ہی ماہ میں اپنے اعلیٰ اخلاق سے اظہر زیدی کا دل جیت لیا اور ان کے گھر پر ہی رہنے لگے،16 سال تک وہ وہیں رہے، ابتدا میں علیم فاسٹ بولر تھے، وقار یونس سے اس قدر مشابہت تھی کہ ایک روز زیدی اسپورٹس میں ایک لڑکا آٹوگراف مانگنے لگا، اتفاق سے وقار یونس کا چھوٹا بھائی بھی وہیں موجود تھا، یہ دیکھ کر وہ قہقہے لگانے لگا، میں نے بھی جب پہلی بار انھیں دیکھا تو حیرت میں پڑ گیا تھا، علیم ڈار ایسے ہی ورلڈ نمبر ون امپائر نہیں بن گئے ، اس کیلیے انھوں نے بڑی جدوجہد کی ہے، فاسٹ بولنگ میں مستقبل نہ دیکھ کر انھوں نے اسپن بولنگ شروع کی۔
17 فرسٹ کلاس میچزکھیلے مگر پھر اس حقیقت کا احساس ہو گیا کہ پاکستان کی نمائندگی کا موقع نہیں مل سکے گا، پھر وہ کوچنگ کے شعبے میں آنے کا سوچنے لگے تو اظہر زیدی نے سمجھایا کہ ''امپائرنگ کی طرف آؤ، تم گریجویٹ اور نوجوان ہو، اس شعبے میں پڑھے لکھے لوگوں کی کمی ہے، ترقی کر سکتے ہو'' علیم نے ان کا مشورہ مان لیا، چند میچز میں امپائرنگ کی مگر کم معاوضہ ملنے پر سوچا کہ اس کام کا کوئی فائدہ نہیں، ایسے میں کلب پی اینڈ ٹی جیمخانہ کے ہی ایک سابق ساتھی نے امریکا آ کر ٹیکسی چلانے کا مشورہ دیا تو وہ وہاں چلے گئے، کئی ماہ وہیں رہے،اظہر زیدی انھیں بار بار لاہور واپس آنے کا کہتے رہے مگر وہ نہ مانے، دوست بھی ناراض ہوا کہ آپ علیم ڈار کے دشمن ہیں۔
اس کی زندگی سیٹ ہو رہی ہے تو کیوں واپس بلا رہے ہیں، آج ایک تو کل وہ دو، تین ٹیکسیوں کا مالک بن کر خوب رقم کمائے گا، ہو سکتا ہے کہ اظہر زیدی نہ ہوتے تو علیم ڈار آج بھی امریکا میں ٹیکسی چلا رہے ہوتے مگر انھوں نے اپنی چھوٹی بچی کی قسم دے کر علیم ڈار کو واپس بلا لیا جسے علیم روز اسکول چھوڑنے و لینے جاتے اور اپنی سگی بہن کی طرح چاہتے تھے، اس قسم پر وہ بے بس ہو گئے اور لاہور واپس آنا ہی پڑا، پھر قسمت ساتھ دینے لگی، انھوں نے امپائرنگ میں نام کمانا شروع کیا،2000ء میں32 سال کی عمر میں پہلا ون ڈے انٹرنیشنل سپروائز کیا اور 2برس بعد آئی سی سی پینل کا حصہ بن چکے تھے ،2009 سے 2011 تک انھوں نے مسلسل 3 بار آئی سی سی کے بہترین امپائر کا ایوارڈ حاصل کیا،اس کے بعد بھی ورلڈ کپ سمیت کئی اہم ایونٹس میں امپائرنگ کی اوریہ سلسلہ اب بھی جاری ہے، علیم ڈار کی زندگی سے ہمیں سبق سیکھنا چاہیے۔
سب سے اہم بات یہ کہ ضروری نہیں آپ جو بننا چاہتے ہوں وہی بنیں ہو سکتا ہے اﷲ نے آپ کیلیے کسی اور شعبے میں کامیابی رکھی ہو، بس ہمت نہ ہاریں اورکوشش کرتے رہیں، اگر بڑے کچھ سمجھائیں تو ان کے مشورے پر عمل کریں، اگر علیم ڈار اظہر زیدی کی بات نہ مانتے تو شایدآج اس مقام تک نہیں پہنچ پاتے، ان کی کامیابی میں اعلیٰ اخلاق کا بھی بڑا اہم کردار ہے، یقین مانیے وہ 22،23 سال پہلے جیسے تھے اب بھی ویسے ہی ہیں، ہر کسی کی عزت کرنا، کسی سے بدتمیزی نہ کرنا یہ سب ان کی تربیت کا حصہ ہے، جیسا کہ میں نے پہلے بتایا کہ ابتدائی دور میں ان کے ساتھ خاصا وقت گذارنے کا موقع ملا مگر پھر وہ امپائر بن کر مصروف ہو گئے تو ملاقاتوں کا سلسلہ کم ہو گیا، مگر پھر بھی جب کبھی ملے ماضی جیسی گرمجوشی نظر آئی، جیساکہ ورلڈکپ میں امپائرنگ کیلیے وہ ڈھاکا میں تھے، وہاں ان کے بھائی رہتے تھے۔
ایک دن مجھ سے ملاقات ہوئی تو اپنے ہوٹل روم میںکھانے پر مدعو کرلیا، ان کے بھائی کے گھر سے کھانا آیا تھا، جب میں وہاںگیا تو امپائر بلی باؤڈن اور شاہد اسلم بھی موجود تھے، زمین پر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہوئے میں یہی سوچ رہا تھا کہ اتنے بڑے مقام پر پہنچنے کے باوجود اس بندے کی سادگی برقرار ہے،باؤڈن بھی چٹخارے لے کر پاکستانی کھانے کھا رہے تھے۔
علیم ڈار کا اپنا انداز ہے، وہ میڈیا میں کم آتے ہیں، لاہور میں اپنی اکیڈمی بنائی اور فارغ وقت وہیں گذرتا ہے، ریسٹورنٹ بھی بنایا ہے جس میں پارٹ ٹائم ملازمت کر کے نوجوان کرکٹرز اپنے اخراجات پورے کرلیتے ہیں،ریسٹورنٹ کی آمدنی کا کچھ حصہ خصوصی افراد کی فلاح و بہبود کیلیے بھی جاتا ہے۔
علیم ڈار کی خواہش ہے کہ وہ ان کیلیے ایک اسکول بھی قائم کریں، علیم شروع سے پانچ وقت کے نمازی ہیں، میں نے کبھی ان کے بارے میں کسی سے کوئی غلط بات نہیں سنی، اپنے محسنوں کو وہ نہیں بھولتے اس لیے اب بھی ہر کام اظہر زیدی کے مشورے سے کرتے ہیں،ان جیسے امپائر دنیا میں بہت کم ہوں گے جنھیں بارہا ٹیکنالوجی نے بھی درست ثابت کیا، ویرات کوہلی جیسے عظیم بیٹسمین بھی علیم ڈار کے مداح ہیں، ان کی ملک کیلیے بڑی خدمات اور وہ نوجوانوں کیلیے حقیقی رول ماڈل ہیں،حال ہی میں انھیں بڑا اعزاز حاصل ہوا اور وہ 350 انٹرنیشنل میچز سپروائز کرنے والے دنیا کے پہلے امپائر بن گئے، علیم بھائی ہمیں آپ پر ناز ہے،اسی طرح ملک کا نام روشن کرتے رہیں۔
نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں۔
میں علیم بھائی کو 22،23 برس سے جانتا ہوں، اس وقت میں کرکٹ میگزین اخبار وطن کا ایڈیٹر تھا، منیر حسین مرحوم جب کبھی کرکٹرز کے انٹرویوز کرنے لاہور بھیجتے تو میرا بیشتر فارغ وقت زیدی اسپورٹس پر ہی گذرتا،وہاں سے جب کہیں جانا ہوتا تو زیدی صاحب کے ساتھ علیم ڈار ضرور ہوتے، گوکہ اپنی کوتاہیوں کی وجہ سے میری زیدی صاحب سے اب اتنی قربت نہیں رہی لیکن میں بخوبی جانتا ہوں کہ عبدالرزاق، عمران نذیر اور سیکڑوں دیگر کرکٹرز کو اعلیٰ مقام تک پہنچانے میں ان کا کتنا بڑا کردار ہے، ٹیلنٹ پرکھنے کا ایسا گُر میں نے کم ہی لوگوں میں دیکھا۔ علیم ڈارکی کہانی بھی بڑی دلچسپ ہے، انکا تعلق جھنگ سے تھا،والد پولیس میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔
پوسٹنگ گوجرانوالہ میں ہو گئی تو علیم وہاں سے پڑھائی کیلیے لاہور آ گئے جہاں اسلامیہ کالج میں داخلہ لے لیا اور ہاسٹل میں رہنے لگے، انھوں نے چند ہی ماہ میں اپنے اعلیٰ اخلاق سے اظہر زیدی کا دل جیت لیا اور ان کے گھر پر ہی رہنے لگے،16 سال تک وہ وہیں رہے، ابتدا میں علیم فاسٹ بولر تھے، وقار یونس سے اس قدر مشابہت تھی کہ ایک روز زیدی اسپورٹس میں ایک لڑکا آٹوگراف مانگنے لگا، اتفاق سے وقار یونس کا چھوٹا بھائی بھی وہیں موجود تھا، یہ دیکھ کر وہ قہقہے لگانے لگا، میں نے بھی جب پہلی بار انھیں دیکھا تو حیرت میں پڑ گیا تھا، علیم ڈار ایسے ہی ورلڈ نمبر ون امپائر نہیں بن گئے ، اس کیلیے انھوں نے بڑی جدوجہد کی ہے، فاسٹ بولنگ میں مستقبل نہ دیکھ کر انھوں نے اسپن بولنگ شروع کی۔
17 فرسٹ کلاس میچزکھیلے مگر پھر اس حقیقت کا احساس ہو گیا کہ پاکستان کی نمائندگی کا موقع نہیں مل سکے گا، پھر وہ کوچنگ کے شعبے میں آنے کا سوچنے لگے تو اظہر زیدی نے سمجھایا کہ ''امپائرنگ کی طرف آؤ، تم گریجویٹ اور نوجوان ہو، اس شعبے میں پڑھے لکھے لوگوں کی کمی ہے، ترقی کر سکتے ہو'' علیم نے ان کا مشورہ مان لیا، چند میچز میں امپائرنگ کی مگر کم معاوضہ ملنے پر سوچا کہ اس کام کا کوئی فائدہ نہیں، ایسے میں کلب پی اینڈ ٹی جیمخانہ کے ہی ایک سابق ساتھی نے امریکا آ کر ٹیکسی چلانے کا مشورہ دیا تو وہ وہاں چلے گئے، کئی ماہ وہیں رہے،اظہر زیدی انھیں بار بار لاہور واپس آنے کا کہتے رہے مگر وہ نہ مانے، دوست بھی ناراض ہوا کہ آپ علیم ڈار کے دشمن ہیں۔
اس کی زندگی سیٹ ہو رہی ہے تو کیوں واپس بلا رہے ہیں، آج ایک تو کل وہ دو، تین ٹیکسیوں کا مالک بن کر خوب رقم کمائے گا، ہو سکتا ہے کہ اظہر زیدی نہ ہوتے تو علیم ڈار آج بھی امریکا میں ٹیکسی چلا رہے ہوتے مگر انھوں نے اپنی چھوٹی بچی کی قسم دے کر علیم ڈار کو واپس بلا لیا جسے علیم روز اسکول چھوڑنے و لینے جاتے اور اپنی سگی بہن کی طرح چاہتے تھے، اس قسم پر وہ بے بس ہو گئے اور لاہور واپس آنا ہی پڑا، پھر قسمت ساتھ دینے لگی، انھوں نے امپائرنگ میں نام کمانا شروع کیا،2000ء میں32 سال کی عمر میں پہلا ون ڈے انٹرنیشنل سپروائز کیا اور 2برس بعد آئی سی سی پینل کا حصہ بن چکے تھے ،2009 سے 2011 تک انھوں نے مسلسل 3 بار آئی سی سی کے بہترین امپائر کا ایوارڈ حاصل کیا،اس کے بعد بھی ورلڈ کپ سمیت کئی اہم ایونٹس میں امپائرنگ کی اوریہ سلسلہ اب بھی جاری ہے، علیم ڈار کی زندگی سے ہمیں سبق سیکھنا چاہیے۔
سب سے اہم بات یہ کہ ضروری نہیں آپ جو بننا چاہتے ہوں وہی بنیں ہو سکتا ہے اﷲ نے آپ کیلیے کسی اور شعبے میں کامیابی رکھی ہو، بس ہمت نہ ہاریں اورکوشش کرتے رہیں، اگر بڑے کچھ سمجھائیں تو ان کے مشورے پر عمل کریں، اگر علیم ڈار اظہر زیدی کی بات نہ مانتے تو شایدآج اس مقام تک نہیں پہنچ پاتے، ان کی کامیابی میں اعلیٰ اخلاق کا بھی بڑا اہم کردار ہے، یقین مانیے وہ 22،23 سال پہلے جیسے تھے اب بھی ویسے ہی ہیں، ہر کسی کی عزت کرنا، کسی سے بدتمیزی نہ کرنا یہ سب ان کی تربیت کا حصہ ہے، جیسا کہ میں نے پہلے بتایا کہ ابتدائی دور میں ان کے ساتھ خاصا وقت گذارنے کا موقع ملا مگر پھر وہ امپائر بن کر مصروف ہو گئے تو ملاقاتوں کا سلسلہ کم ہو گیا، مگر پھر بھی جب کبھی ملے ماضی جیسی گرمجوشی نظر آئی، جیساکہ ورلڈکپ میں امپائرنگ کیلیے وہ ڈھاکا میں تھے، وہاں ان کے بھائی رہتے تھے۔
ایک دن مجھ سے ملاقات ہوئی تو اپنے ہوٹل روم میںکھانے پر مدعو کرلیا، ان کے بھائی کے گھر سے کھانا آیا تھا، جب میں وہاںگیا تو امپائر بلی باؤڈن اور شاہد اسلم بھی موجود تھے، زمین پر بیٹھ کر کھانا کھاتے ہوئے میں یہی سوچ رہا تھا کہ اتنے بڑے مقام پر پہنچنے کے باوجود اس بندے کی سادگی برقرار ہے،باؤڈن بھی چٹخارے لے کر پاکستانی کھانے کھا رہے تھے۔
علیم ڈار کا اپنا انداز ہے، وہ میڈیا میں کم آتے ہیں، لاہور میں اپنی اکیڈمی بنائی اور فارغ وقت وہیں گذرتا ہے، ریسٹورنٹ بھی بنایا ہے جس میں پارٹ ٹائم ملازمت کر کے نوجوان کرکٹرز اپنے اخراجات پورے کرلیتے ہیں،ریسٹورنٹ کی آمدنی کا کچھ حصہ خصوصی افراد کی فلاح و بہبود کیلیے بھی جاتا ہے۔
علیم ڈار کی خواہش ہے کہ وہ ان کیلیے ایک اسکول بھی قائم کریں، علیم شروع سے پانچ وقت کے نمازی ہیں، میں نے کبھی ان کے بارے میں کسی سے کوئی غلط بات نہیں سنی، اپنے محسنوں کو وہ نہیں بھولتے اس لیے اب بھی ہر کام اظہر زیدی کے مشورے سے کرتے ہیں،ان جیسے امپائر دنیا میں بہت کم ہوں گے جنھیں بارہا ٹیکنالوجی نے بھی درست ثابت کیا، ویرات کوہلی جیسے عظیم بیٹسمین بھی علیم ڈار کے مداح ہیں، ان کی ملک کیلیے بڑی خدمات اور وہ نوجوانوں کیلیے حقیقی رول ماڈل ہیں،حال ہی میں انھیں بڑا اعزاز حاصل ہوا اور وہ 350 انٹرنیشنل میچز سپروائز کرنے والے دنیا کے پہلے امپائر بن گئے، علیم بھائی ہمیں آپ پر ناز ہے،اسی طرح ملک کا نام روشن کرتے رہیں۔
نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں۔