خطرے کی گھنٹی سرکاری زرمبادلہ ذخائر 7 ارب ڈالر سے بھی نیچے آگئے
مرکزی بینک کے ڈالرذخائرایک ہفتے کے دوران43کروڑ7 لاکھ گھٹ کر 6 ارب69 کروڑ 74لاکھ ڈالررہ گئے،دیگربینکوں کے ڈپازٹس میں۔۔۔
مجموعی غیر ملکی ذخائر 6 سال کی کم ترین سطح 11 ارب 75 کروڑ 85 لاکھ ڈالر پر آگئے، پاکستان کے پاس آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں رہا، ماہرین فوٹو: اے ایف پی/ فائل
پاکستان کے غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر 6سال کی کم ترین سطح پر آگئے جبکہ مرکزی بینک کے پاس موجود زرمبادلہ کے ذخائر کی مالیت 7ارب ڈالر سے نیچے آگئی ہے۔
اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق 5 اپریل کو ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر کی مجموعی مالیت 11ارب 75کروڑ 85 لاکھ ڈالر ریکارڈ کی گئی ہے، ایک ہفتے کے دوران مجموعی ذخائر کی مالیت 44 کروڑ 38لاکھ ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے جس سے مرکزی بینک کے پاس موجود ذخائر 43کروڑ 7لاکھ ڈالر کمی کے ساتھ 7ارب12کروڑ81لاکھ ڈالر سے گھٹ کر 6 ارب 69 کروڑ 74لاکھ ڈالر رہ گئے جبکہ کمرشل بینکوں کے ذخائر کی مالیت 1 کروڑ 31لاکھ ڈالر کی کمی کے بعد 5ارب 6کروڑ 11لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئی جو 4اپریل کو5ارب 7کروڑ42لاکھ ڈالر تھے۔
آئی ایم ایف کو قرض کی ادائیگیوں کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر دباؤ کا شکار ہیں، ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر 2007-08 میں 12 ارب ڈالر کی سطح سے نیچے چلے گئے تھے اور جولائی 2011 تک بڑھ کر 18ارب 29کروڑ 48لاکھ ڈالر کی سطح تک پہنچ گئے تھے۔
ماہرین کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر پر بڑھتے ہوئے دباؤ سے پاکستان کے لیے ادائیگی کے توازن کو برقرار رکھنا بھی دشوار تر ہورہا ہے، آئی ایم ایف کو قرضوں کی ادائیگی، سرمایہ کاری میں کمی اور تجارتی خسارے میں اضافے کے باعث ڈالر کی طلب بڑھ رہی ہے اور پاکستان کے پاس آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں رہا۔
اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کے مطابق 5 اپریل کو ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر کی مجموعی مالیت 11ارب 75کروڑ 85 لاکھ ڈالر ریکارڈ کی گئی ہے، ایک ہفتے کے دوران مجموعی ذخائر کی مالیت 44 کروڑ 38لاکھ ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے جس سے مرکزی بینک کے پاس موجود ذخائر 43کروڑ 7لاکھ ڈالر کمی کے ساتھ 7ارب12کروڑ81لاکھ ڈالر سے گھٹ کر 6 ارب 69 کروڑ 74لاکھ ڈالر رہ گئے جبکہ کمرشل بینکوں کے ذخائر کی مالیت 1 کروڑ 31لاکھ ڈالر کی کمی کے بعد 5ارب 6کروڑ 11لاکھ ڈالر کی سطح پر آگئی جو 4اپریل کو5ارب 7کروڑ42لاکھ ڈالر تھے۔
آئی ایم ایف کو قرض کی ادائیگیوں کے باعث زرمبادلہ کے ذخائر دباؤ کا شکار ہیں، ملک میں زرمبادلہ کے ذخائر 2007-08 میں 12 ارب ڈالر کی سطح سے نیچے چلے گئے تھے اور جولائی 2011 تک بڑھ کر 18ارب 29کروڑ 48لاکھ ڈالر کی سطح تک پہنچ گئے تھے۔
ماہرین کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر پر بڑھتے ہوئے دباؤ سے پاکستان کے لیے ادائیگی کے توازن کو برقرار رکھنا بھی دشوار تر ہورہا ہے، آئی ایم ایف کو قرضوں کی ادائیگی، سرمایہ کاری میں کمی اور تجارتی خسارے میں اضافے کے باعث ڈالر کی طلب بڑھ رہی ہے اور پاکستان کے پاس آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کے علاوہ کوئی آپشن نہیں رہا۔