غداری
یہ غداری یا غداریاں آئین کے دائرے میں آتی ہیں اور چونکہ آئین ایک بالادست دستاویز ہے
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
ہر ملک میں نظم و ضبط اور امن و امان کے قیام کے لیے قانون اور انصاف کا ایک جامع نظام قائم کیا جاتا ہے، اسی طرح حکومتوں کی حفاظت کے لیے بھی ایک قانون موجود ہوتا ہے۔ پاکستان میں حکومت کی طاقت کے ذریعے تبدیلی کے خلاف غداری کا ایک قانون ہے جو آئین کے آرٹیکل 6کے نام سے جانا جاتا ہے۔
ماضی میں حکومتوں کی تبدیلی حکومتوں پر قبضے کے حوالے سے کوئی قانون نہیں ہوتا تھا جو حکمران طاقتور ہوتا تھا وہ اپنی فوجوں کے ذریعے دوسری حکومتوں پر قبضہ کرلیتا تھا چونکہ شاہی دور میں نہ آئین ہوتا تھا نہ آئین کا آرٹیکل 6 ہوتا تھا لہٰذا کسی غدار کے خلاف مقدمہ چلانے کا تصور ہی نہیں تھا ۔ طاقت کے ذریعے جب کوئی بادشاہ کسی حکومت پر قبضہ کرلیتا تھا تو اس کی حکومت جائز مان لی جاتی تھی لیکن ملک کے اندر سے کوئی شخص یا گروہ بادشاہ کے خلاف بغاوت کرتا تو وہ باغی مانا جاتا تھا اگر بغاوت کامیاب ہوجاتی تو وہ فاتح کہلاتا تھا۔
دنیا میں جمہوریت کے متعارف ہونے کے بعد جب حکومتوں نے آئین بنانا شروع کیا تو پھر حکومت کے خلاف بغاوت بہت بڑا جرم قرار دیا گیا جس کی سزا موت مقررکی گئی۔ پاکستان بننے کے بعد 1958 میں ایوب خان نے حکومت کا تختہ الٹ کر حکومت پر قبضہ کرلیا یہ ایک بغاوت تھی لیکن اس بغاوت کو تسلیم کرلیا گیا۔غیر جمہوری بغاوتوں کے خلاف ہر جمہوری ملک میں سیاستدان اور سیاسی جماعتیں مزاحمت کرتی ہیں بلکہ اگر سیاسی جماعتیں عوام میں مقبول ہوں تو باغی حکومت کے خلاف عوام کو سڑکوں پر لاکر سخت مزاحمت کرتی ہیں اور تاریخ میں ایسا ہوتا رہا ہے کہ بغاوتوں کو ناکام بھی بنادیا گیا۔ ایوب خان کی بغاوت کے خلاف نہ اہل سیاست نے مزاحمت کی نہ اس کے خلاف بغاوت کا کوئی مقدمہ قائم کیا گیا۔
اس کے برخلاف سیاستدانوں نے ایوب خان کی حکومت میں شمولیت اختیار کی۔ ایوب خان 10 سال حکومت کرتا رہا لیکن نہ اس کے خلاف غداری کا مقدمہ بنا نہ کوئی کارروائی ہوئی۔ 1968 میں جب عوام ایوب آمریت کے خلاف سڑکوں پر آئے اور سارے ملک میں عوامی احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا تو ایوب خان نے جنرل یحییٰ خان کو حکومت سونپ دی اس پر بھی کوئی بڑا ردعمل سامنے نہ آیا۔ بلکہ ہوا یہ کہ یحییٰ خان کی حکومت کے دوران مشرقی پاکستان الگ ہوگیا اور آزاد بنگلہ دیش کا قیام عمل میں آیا۔ اس وقت کے مقبول سیاستدان نے ادھر تم ادھر ہم کا نعرہ لگایا یحییٰ خان پر بھی بغاوت کا مقدمہ نہ بنا۔ حالات کے دباؤ کی وجہ 1970 کے الیکشن میں جیتنے والی پیپلز پارٹی کو باقی بچ جانے والے پاکستان کی حکومت سونپ دی گئی۔
بھٹو صاحب برسر اقتدار آئے تو انھوں نے آئین بنانے کی کوشش کی۔ تمام سیاستدانوں کے تعاون سے ایک متفقہ آئین بنا جسے بھٹو حکومت کا کارنامہ قرار دیا گیا۔ اسی آئین میں آرٹیکل 6 شامل کیا گیا جس کے تحت منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کو غداری قرار دیا گیا جس کی سزا موت مقرر کی گئی۔ اس بدقسمتی کو کیا کہیں کہ اس آئین کے خالق ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا جنرل ضیا الحق نے تختہ الٹ دیا اور بھٹو کوگرفتار کرلیا گیا اور بھٹو کو ایک قتل کے مقدمے میں ملوث کرکے سزائے موت دے دی گئی جسے عدالتی قتل کہا گیا۔ اس حوالے سے دلچسپ بلکہ شرمناک بات یہ تھی کہ سیاستدان ضیا الحق کی حکومت کا حصہ بن گئے ضیا الحق کے خلاف غداری کا کوئی مقدمہ بنا نہ کوئی سزا ہوئی، ضیا الحق 10 سال حکومت کرتا رہا۔
1985 میں ضیا الحق طیارے کے ایک حادثے میں ہلاک ہوگئے اس کے بعد 1999 تک بے نظیر اور نواز شریف کی حکومتیں قائم رہیں، بے نظیر وزیر اعظم تھیں اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی دونوں حکومتوں کے درمیان مستقل محاذ آرائی کا سلسلہ جاری رہا۔ پنجاب میں بے نظیر کو سرکاری پروٹوکول تک نہیں دیا گیا۔ بے نظیر اور نواز شریف کی حکومتوں کو سول صدر برخواست کرتے رہے۔ آخر کار 1999 میں نواز حکومت کو برخواست کردیا گیا جنرل مشرف اقتدار میں آئے نواز شریف کو گرفتار کرلیا گیا اور آخر کار ایک مبینہ معاہدے کے تحت وہ ملک بدر ہوئے اور سعودی عرب کے ایک محل میں پناہ گزیں رہے۔ جہاں انھوں نے گزر اوقات کے لیے ایک اسٹیل ملز قائم کرلی۔ جنرل مشرف 10 سال برسر اقتدار رہے اور ہماری سیاسی روایات کے مطابق مشرف حکومت میں ملک کے ممتاز سیاستدان شامل ہوگئے۔
چیف جسٹس کے واقعے کے بعد مشرف کا زوال شروع ہوا اور آخر کار انھیں صدارت سے سبکدوش ہونا پڑا۔ شومئی قسمت سے بے نظیرکے قتل کے تناظر میں 2008 کے الیکشن میں پیپلز پارٹی برسر اقتدار آئی اور 2013 تک اقتدار میں رہی، کہا جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی ملک کی واحد پارٹی ہے جس نے آئین کے مطابق اپنے 5 سال مکمل کیے اور اس کارنامے میں مسلم لیگ کے غیر اعلانیہ تعاون کا بڑا دخل ہے۔ 2013 کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کامیاب ہوئی اور برسر اقتدار آئی۔ پاناما لیکس کے انکشافات نے مسلم لیگ کے لیے مسائل کے پہاڑ کھڑے کردیے۔ عدالت عظمیٰ میں اس حوالے سے ریفرنسز دائر ہیں جس میں نواز شریف کے علاوہ ان کے دونوں بیٹے، بیٹی اور داماد ملوث ہیں۔
نواز شریف اور ان کی صاحبزادی اپنی تقاریر پریس کانفرنسوں وغیرہ میں بڑے زور شور سے اپنے کیسز کا دفاع کر رہے ہیں بلکہ یہ زور شور توہین عدالت تک جا پہنچا ہے باپ بیٹی کے خلاف توہین عدالت کے کیسز بھی دائر ہوچکے ہیں ادھر مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ بھی زیر سماعت ہے اگرچہ ایوب خان سے ضیا الحق تک سب ہی جرنیلوں نے منتخب حکومتوں کے تختے الٹے اور دس دس سال تک سیاستدانوں کے تعاون سے حکومت کرتے رہے لیکن ان کی خوش قسمتی ہے کہ ان کے خلاف جنرل مشرف کی طرح غداری کے مقدمات دائر نہیں کیے گئے جب کہ ضیا الحق نے جب بھٹو حکومت کا تختہ الٹا اس وقت 1973 کا آئین نافذ تھا جس کے آرٹیکل 6 کے تحت جنرل مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ زیر سماعت ہے اور اہل سیاست مشرف کی پھانسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
یہ غداری یا غداریاں آئین کے دائرے میں آتی ہیں اور چونکہ آئین ایک بالادست دستاویز ہے لیکن عوام یہ سوال کرتے ہیں کہ 70 سالوں سے ہمارے سیاستدان اپنی انتخابی مہموں میں عوام کی زندگی بدل دینے اور ان کے مسائل حل کرنے کے وعدے اور دعوے کرتے آ رہے ہیں لیکن نہ عوام کی زندگی بدلی نہ ان کے مسائل حل ہوئے، حکومت سے غداری کا معاملہ ایک فرد یا حکومت سے غداری کا مسئلہ ہے جس کی سزا موت ہے۔ 70 سال سے سیاستدان مسلسل عوام سے دھوکا کر رہے ہیں اور 20 کروڑ عوام کی زندگی جہنم بنی ہوئی ہے۔ کیا عوام سے جھوٹ بولنے جھوٹے وعدے کرنے اور عوام کی زندگی کو عذاب بنانا عوام سے غداری کے مترادف نہیں ہے۔ کیا آئین میں ترمیم کرکے عوام سے جھوٹے وعدوں کی کوئی سزا مقرر نہیں کی جانی چاہیے؟
ماضی میں حکومتوں کی تبدیلی حکومتوں پر قبضے کے حوالے سے کوئی قانون نہیں ہوتا تھا جو حکمران طاقتور ہوتا تھا وہ اپنی فوجوں کے ذریعے دوسری حکومتوں پر قبضہ کرلیتا تھا چونکہ شاہی دور میں نہ آئین ہوتا تھا نہ آئین کا آرٹیکل 6 ہوتا تھا لہٰذا کسی غدار کے خلاف مقدمہ چلانے کا تصور ہی نہیں تھا ۔ طاقت کے ذریعے جب کوئی بادشاہ کسی حکومت پر قبضہ کرلیتا تھا تو اس کی حکومت جائز مان لی جاتی تھی لیکن ملک کے اندر سے کوئی شخص یا گروہ بادشاہ کے خلاف بغاوت کرتا تو وہ باغی مانا جاتا تھا اگر بغاوت کامیاب ہوجاتی تو وہ فاتح کہلاتا تھا۔
دنیا میں جمہوریت کے متعارف ہونے کے بعد جب حکومتوں نے آئین بنانا شروع کیا تو پھر حکومت کے خلاف بغاوت بہت بڑا جرم قرار دیا گیا جس کی سزا موت مقررکی گئی۔ پاکستان بننے کے بعد 1958 میں ایوب خان نے حکومت کا تختہ الٹ کر حکومت پر قبضہ کرلیا یہ ایک بغاوت تھی لیکن اس بغاوت کو تسلیم کرلیا گیا۔غیر جمہوری بغاوتوں کے خلاف ہر جمہوری ملک میں سیاستدان اور سیاسی جماعتیں مزاحمت کرتی ہیں بلکہ اگر سیاسی جماعتیں عوام میں مقبول ہوں تو باغی حکومت کے خلاف عوام کو سڑکوں پر لاکر سخت مزاحمت کرتی ہیں اور تاریخ میں ایسا ہوتا رہا ہے کہ بغاوتوں کو ناکام بھی بنادیا گیا۔ ایوب خان کی بغاوت کے خلاف نہ اہل سیاست نے مزاحمت کی نہ اس کے خلاف بغاوت کا کوئی مقدمہ قائم کیا گیا۔
اس کے برخلاف سیاستدانوں نے ایوب خان کی حکومت میں شمولیت اختیار کی۔ ایوب خان 10 سال حکومت کرتا رہا لیکن نہ اس کے خلاف غداری کا مقدمہ بنا نہ کوئی کارروائی ہوئی۔ 1968 میں جب عوام ایوب آمریت کے خلاف سڑکوں پر آئے اور سارے ملک میں عوامی احتجاج کا سلسلہ شروع ہوا تو ایوب خان نے جنرل یحییٰ خان کو حکومت سونپ دی اس پر بھی کوئی بڑا ردعمل سامنے نہ آیا۔ بلکہ ہوا یہ کہ یحییٰ خان کی حکومت کے دوران مشرقی پاکستان الگ ہوگیا اور آزاد بنگلہ دیش کا قیام عمل میں آیا۔ اس وقت کے مقبول سیاستدان نے ادھر تم ادھر ہم کا نعرہ لگایا یحییٰ خان پر بھی بغاوت کا مقدمہ نہ بنا۔ حالات کے دباؤ کی وجہ 1970 کے الیکشن میں جیتنے والی پیپلز پارٹی کو باقی بچ جانے والے پاکستان کی حکومت سونپ دی گئی۔
بھٹو صاحب برسر اقتدار آئے تو انھوں نے آئین بنانے کی کوشش کی۔ تمام سیاستدانوں کے تعاون سے ایک متفقہ آئین بنا جسے بھٹو حکومت کا کارنامہ قرار دیا گیا۔ اسی آئین میں آرٹیکل 6 شامل کیا گیا جس کے تحت منتخب حکومت کا تختہ الٹنے کو غداری قرار دیا گیا جس کی سزا موت مقرر کی گئی۔ اس بدقسمتی کو کیا کہیں کہ اس آئین کے خالق ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کا جنرل ضیا الحق نے تختہ الٹ دیا اور بھٹو کوگرفتار کرلیا گیا اور بھٹو کو ایک قتل کے مقدمے میں ملوث کرکے سزائے موت دے دی گئی جسے عدالتی قتل کہا گیا۔ اس حوالے سے دلچسپ بلکہ شرمناک بات یہ تھی کہ سیاستدان ضیا الحق کی حکومت کا حصہ بن گئے ضیا الحق کے خلاف غداری کا کوئی مقدمہ بنا نہ کوئی سزا ہوئی، ضیا الحق 10 سال حکومت کرتا رہا۔
1985 میں ضیا الحق طیارے کے ایک حادثے میں ہلاک ہوگئے اس کے بعد 1999 تک بے نظیر اور نواز شریف کی حکومتیں قائم رہیں، بے نظیر وزیر اعظم تھیں اور پنجاب میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت تھی دونوں حکومتوں کے درمیان مستقل محاذ آرائی کا سلسلہ جاری رہا۔ پنجاب میں بے نظیر کو سرکاری پروٹوکول تک نہیں دیا گیا۔ بے نظیر اور نواز شریف کی حکومتوں کو سول صدر برخواست کرتے رہے۔ آخر کار 1999 میں نواز حکومت کو برخواست کردیا گیا جنرل مشرف اقتدار میں آئے نواز شریف کو گرفتار کرلیا گیا اور آخر کار ایک مبینہ معاہدے کے تحت وہ ملک بدر ہوئے اور سعودی عرب کے ایک محل میں پناہ گزیں رہے۔ جہاں انھوں نے گزر اوقات کے لیے ایک اسٹیل ملز قائم کرلی۔ جنرل مشرف 10 سال برسر اقتدار رہے اور ہماری سیاسی روایات کے مطابق مشرف حکومت میں ملک کے ممتاز سیاستدان شامل ہوگئے۔
چیف جسٹس کے واقعے کے بعد مشرف کا زوال شروع ہوا اور آخر کار انھیں صدارت سے سبکدوش ہونا پڑا۔ شومئی قسمت سے بے نظیرکے قتل کے تناظر میں 2008 کے الیکشن میں پیپلز پارٹی برسر اقتدار آئی اور 2013 تک اقتدار میں رہی، کہا جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی ملک کی واحد پارٹی ہے جس نے آئین کے مطابق اپنے 5 سال مکمل کیے اور اس کارنامے میں مسلم لیگ کے غیر اعلانیہ تعاون کا بڑا دخل ہے۔ 2013 کے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کامیاب ہوئی اور برسر اقتدار آئی۔ پاناما لیکس کے انکشافات نے مسلم لیگ کے لیے مسائل کے پہاڑ کھڑے کردیے۔ عدالت عظمیٰ میں اس حوالے سے ریفرنسز دائر ہیں جس میں نواز شریف کے علاوہ ان کے دونوں بیٹے، بیٹی اور داماد ملوث ہیں۔
نواز شریف اور ان کی صاحبزادی اپنی تقاریر پریس کانفرنسوں وغیرہ میں بڑے زور شور سے اپنے کیسز کا دفاع کر رہے ہیں بلکہ یہ زور شور توہین عدالت تک جا پہنچا ہے باپ بیٹی کے خلاف توہین عدالت کے کیسز بھی دائر ہوچکے ہیں ادھر مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ بھی زیر سماعت ہے اگرچہ ایوب خان سے ضیا الحق تک سب ہی جرنیلوں نے منتخب حکومتوں کے تختے الٹے اور دس دس سال تک سیاستدانوں کے تعاون سے حکومت کرتے رہے لیکن ان کی خوش قسمتی ہے کہ ان کے خلاف جنرل مشرف کی طرح غداری کے مقدمات دائر نہیں کیے گئے جب کہ ضیا الحق نے جب بھٹو حکومت کا تختہ الٹا اس وقت 1973 کا آئین نافذ تھا جس کے آرٹیکل 6 کے تحت جنرل مشرف کے خلاف غداری کا مقدمہ زیر سماعت ہے اور اہل سیاست مشرف کی پھانسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
یہ غداری یا غداریاں آئین کے دائرے میں آتی ہیں اور چونکہ آئین ایک بالادست دستاویز ہے لیکن عوام یہ سوال کرتے ہیں کہ 70 سالوں سے ہمارے سیاستدان اپنی انتخابی مہموں میں عوام کی زندگی بدل دینے اور ان کے مسائل حل کرنے کے وعدے اور دعوے کرتے آ رہے ہیں لیکن نہ عوام کی زندگی بدلی نہ ان کے مسائل حل ہوئے، حکومت سے غداری کا معاملہ ایک فرد یا حکومت سے غداری کا مسئلہ ہے جس کی سزا موت ہے۔ 70 سال سے سیاستدان مسلسل عوام سے دھوکا کر رہے ہیں اور 20 کروڑ عوام کی زندگی جہنم بنی ہوئی ہے۔ کیا عوام سے جھوٹ بولنے جھوٹے وعدے کرنے اور عوام کی زندگی کو عذاب بنانا عوام سے غداری کے مترادف نہیں ہے۔ کیا آئین میں ترمیم کرکے عوام سے جھوٹے وعدوں کی کوئی سزا مقرر نہیں کی جانی چاہیے؟