بھارت میں ریپر کہلوانے والوں کو ریپ میوزک کا کچھ پتہ نہیں بوھیمیا
میوزک امریکا میں ہی سیکھا، پاکستانی نژاد امریکی ریپرکی ’’ ایکسپریس‘‘ سے گفتگو
لاہور: پاکستانی نژاد امریکی گلوکار بوھیمیا ’’ایکسپریس‘‘ سے گفتگو کر رہے ہیں۔ فوٹو: فائل
پاکستانی نژاد امریکی ریپ گلوکار بوھیمیا نے کہاہے کہ کبھی سوچانہ تھا کہ ریپ میوزک کی دنیا میں مجھے ' کنگ آف پنجابی ریپ' کے خطاب ملے گا، میوزک اور شاعری سے لگائوچھوٹی عمر سے تھا لیکن زندگی کی بھول بُھلیوں اوراتارچڑھائونے میرے میوزک کوایک منفرد پہچان دی۔
میوزک کی ابتداء کپڑوں کی الماری میں چھپ چھپ کرگیت ریکارڈ کرنے سے ہوئی۔ بھارت کے معروف غزل گائیک پنکج اداس اورگلوکارابرارالحق سمیت دیگرکے امریکا میں منعقدہ پروگراموں میں بطور 'کی بورڈ' پلیئرپرفارم کرتا رہا، لیکن قسمت کی دیوی کچھ یوں مہربان ہوئی کہ پھرمیں نے اپنے گیتوں میں جب آپ بیتی بیان کی تواس نے سب کومتاثرکیا اورمیری شہرت کے چرچے امریکا سے ہوتے ہوئے دنیا کے بیشترممالک تک پہنچ گئے۔ بھارت میں خود کوریپرکہنے والوں کوریپ میوزک کی '' الف ب '' کی معلومات نہیں۔ ان خیالات کا اظہار گلوکار بوھیمیا نے '' ایکسپریس'' کوخصوصی انٹرویودیتے ہوئے۔
وہ ان دنوں پاکستان کے مختلف شہروں میں منعقدہ میوزک کنسرٹس میں پرفارمنس کے لیے گلوریس پروڈکشنزکی دعوت پرآئے ہوئے ہیں۔ بوھیمیا نے بتایا کہ ان کی پیدائش کراچی میں ہوئی لیکن ان کے بچپن کے سنہری دن پشاور میں گزرے۔ اسی دوران میوزک سے لگائو ہوااورپھرگیارہ برس کی عمر میں والدین کے ہمراہ امریکا شفقٹ ہوگیا۔ میرا اصل نام راجرڈیوڈ ہے لیکن فنی دنیا میں مجھے بوھیمیا کے نام سے جانا جاتا ہے۔انھوں نے کہا کہ بچپن سے ہی ملکہ ترنم نورجہاں اوربھارتی فلموں کے معروف پلے بیک مکیش کے گیتوں سے بہت متاثر تھا لیکن میوزک میں نے امریکا میں ہی سیکھا۔ مجھے شاعری کو بہت شوق تھا۔ میں نے بارہ برس کی عمر میں پہلا شعر کہا۔
ویسے توتمام والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بچہ پائلٹ، ڈاکٹریا انجینئربنے لیکن میرے والد نے غلطی یہ کی کہ مجھے چھوٹی عمر میں ہی بطورتحفہ ایک کی بورڈ لے دیا۔ اس کو بجانے لگا تووہ اچھا لگا اس کے بعد میں نے والدہ کو کہا کہ مجھے بڑا کی بورڈ چاہیے اورپھر یہ سلسلہ آگے ہی بڑھتارہا۔ ایک طرف میں اپنی ساتھ پیش آنیوالے واقعات کو شاعری کا انداز دیتا تودوسری جانب ان کی دھنیں بھی کمپوز کرتا۔ مگرکبھی سوچا نہیں تھا کہ میری اپنی کوئی پہچان ہوگی ۔ کوئی منزل کوئی ٹارگٹ زہن میں نہیں تھا۔ '' البتہ پاکستان کے اسپورٹس اسٹارجہانگیرخان اورعمران خان کی شہرت کے چرچے دیکھ کریہ خیال کبھی کبھی ضرور آتا تھا کہ کاش میں بھی ان کی طرح شہرت کی بلندیوں کو چھولوں اورمیری وجہ سے بھی پاکستان کانام دنیا میں متعارف ہو''۔
والدہ کی وفات سے گہرا صدمہ پہنچا اورمیں نے اپنے والد اوربہن بھائیوں کوچھوڑ کردوستوں کے ہمراہ رہنا شروع کردیا۔ میرے تمام دوست میوزک سے وابستہ تھے اس لیے ریاضت کا سلسلہ جاری رہا۔ والدہ کی وفات پر میں نے ایک گیت لکھا جس کودوستوںنے سوشل ویب سائٹ پردیا توکچھ وقت گزرنے کے بعد اس کی شہرت برطانیہ تک پہنچ گئی۔ پہلے انٹرویو کے لیے مجھ '' بی بی سی'' کی ٹیم نے رابطہ کیا تومیں حیران رہ گیا۔ پھر میں نے دوستوں کے ساتھ مل کر باقاعدہ اپنا ایک اسٹائل ترتیب دیا اورپھرجو بھی گایا وہ لوگوں کے دلوں میں اترتا چلا گیا۔ میں دنیا کا واحد پنجابی ریپرہوں جس کی پیدائش اردوبولنے والے شہرکراچی میں ہوئی اورہوش پشتوزبان کے شہرمیں پشاورمیں آئی لیکن میوزک کی جانب جب باقاعدہ آیا تویہاں انگریزی بولی جاتی تھی۔
میں نے پہلے انگریزی سیکھی لیکن جب بھی گانے لگتا توآمد کا سلسلہ پنجابی میں ہوتا۔ اس لیے میں نے اپنے گیت پنجابی زبان میں تیار کیے جودنیا کے بیشترممالک کی طرح بھارت بھی پہنچے۔ بالی وڈ اسٹار اکشے کمار نے اپنی فلم 'چاندنی چوک ٹوچائنہ' میں میرے گیت نا صرف شامل کیا بلکہ اس گیت کو میرے ساتھ فلمبندبھی کروایا۔ میں بالی وڈ کے لیے بھی بہت کام کررہاہوں جو آنیوالی فلموںمیں میرے چاہنے والے سن سکیں گے۔ واضح رہے کہ بوھیمیالاہور کے علاوہ فیصل آباد، میرپور، ملتان، گوجرانوالہ اوردیگرمقامات پرآئندہ دنوں میں پرفارم کرینگے۔
میوزک کی ابتداء کپڑوں کی الماری میں چھپ چھپ کرگیت ریکارڈ کرنے سے ہوئی۔ بھارت کے معروف غزل گائیک پنکج اداس اورگلوکارابرارالحق سمیت دیگرکے امریکا میں منعقدہ پروگراموں میں بطور 'کی بورڈ' پلیئرپرفارم کرتا رہا، لیکن قسمت کی دیوی کچھ یوں مہربان ہوئی کہ پھرمیں نے اپنے گیتوں میں جب آپ بیتی بیان کی تواس نے سب کومتاثرکیا اورمیری شہرت کے چرچے امریکا سے ہوتے ہوئے دنیا کے بیشترممالک تک پہنچ گئے۔ بھارت میں خود کوریپرکہنے والوں کوریپ میوزک کی '' الف ب '' کی معلومات نہیں۔ ان خیالات کا اظہار گلوکار بوھیمیا نے '' ایکسپریس'' کوخصوصی انٹرویودیتے ہوئے۔
وہ ان دنوں پاکستان کے مختلف شہروں میں منعقدہ میوزک کنسرٹس میں پرفارمنس کے لیے گلوریس پروڈکشنزکی دعوت پرآئے ہوئے ہیں۔ بوھیمیا نے بتایا کہ ان کی پیدائش کراچی میں ہوئی لیکن ان کے بچپن کے سنہری دن پشاور میں گزرے۔ اسی دوران میوزک سے لگائو ہوااورپھرگیارہ برس کی عمر میں والدین کے ہمراہ امریکا شفقٹ ہوگیا۔ میرا اصل نام راجرڈیوڈ ہے لیکن فنی دنیا میں مجھے بوھیمیا کے نام سے جانا جاتا ہے۔انھوں نے کہا کہ بچپن سے ہی ملکہ ترنم نورجہاں اوربھارتی فلموں کے معروف پلے بیک مکیش کے گیتوں سے بہت متاثر تھا لیکن میوزک میں نے امریکا میں ہی سیکھا۔ مجھے شاعری کو بہت شوق تھا۔ میں نے بارہ برس کی عمر میں پہلا شعر کہا۔
ویسے توتمام والدین کی خواہش ہوتی ہے کہ ان کا بچہ پائلٹ، ڈاکٹریا انجینئربنے لیکن میرے والد نے غلطی یہ کی کہ مجھے چھوٹی عمر میں ہی بطورتحفہ ایک کی بورڈ لے دیا۔ اس کو بجانے لگا تووہ اچھا لگا اس کے بعد میں نے والدہ کو کہا کہ مجھے بڑا کی بورڈ چاہیے اورپھر یہ سلسلہ آگے ہی بڑھتارہا۔ ایک طرف میں اپنی ساتھ پیش آنیوالے واقعات کو شاعری کا انداز دیتا تودوسری جانب ان کی دھنیں بھی کمپوز کرتا۔ مگرکبھی سوچا نہیں تھا کہ میری اپنی کوئی پہچان ہوگی ۔ کوئی منزل کوئی ٹارگٹ زہن میں نہیں تھا۔ '' البتہ پاکستان کے اسپورٹس اسٹارجہانگیرخان اورعمران خان کی شہرت کے چرچے دیکھ کریہ خیال کبھی کبھی ضرور آتا تھا کہ کاش میں بھی ان کی طرح شہرت کی بلندیوں کو چھولوں اورمیری وجہ سے بھی پاکستان کانام دنیا میں متعارف ہو''۔
والدہ کی وفات سے گہرا صدمہ پہنچا اورمیں نے اپنے والد اوربہن بھائیوں کوچھوڑ کردوستوں کے ہمراہ رہنا شروع کردیا۔ میرے تمام دوست میوزک سے وابستہ تھے اس لیے ریاضت کا سلسلہ جاری رہا۔ والدہ کی وفات پر میں نے ایک گیت لکھا جس کودوستوںنے سوشل ویب سائٹ پردیا توکچھ وقت گزرنے کے بعد اس کی شہرت برطانیہ تک پہنچ گئی۔ پہلے انٹرویو کے لیے مجھ '' بی بی سی'' کی ٹیم نے رابطہ کیا تومیں حیران رہ گیا۔ پھر میں نے دوستوں کے ساتھ مل کر باقاعدہ اپنا ایک اسٹائل ترتیب دیا اورپھرجو بھی گایا وہ لوگوں کے دلوں میں اترتا چلا گیا۔ میں دنیا کا واحد پنجابی ریپرہوں جس کی پیدائش اردوبولنے والے شہرکراچی میں ہوئی اورہوش پشتوزبان کے شہرمیں پشاورمیں آئی لیکن میوزک کی جانب جب باقاعدہ آیا تویہاں انگریزی بولی جاتی تھی۔
میں نے پہلے انگریزی سیکھی لیکن جب بھی گانے لگتا توآمد کا سلسلہ پنجابی میں ہوتا۔ اس لیے میں نے اپنے گیت پنجابی زبان میں تیار کیے جودنیا کے بیشترممالک کی طرح بھارت بھی پہنچے۔ بالی وڈ اسٹار اکشے کمار نے اپنی فلم 'چاندنی چوک ٹوچائنہ' میں میرے گیت نا صرف شامل کیا بلکہ اس گیت کو میرے ساتھ فلمبندبھی کروایا۔ میں بالی وڈ کے لیے بھی بہت کام کررہاہوں جو آنیوالی فلموںمیں میرے چاہنے والے سن سکیں گے۔ واضح رہے کہ بوھیمیالاہور کے علاوہ فیصل آباد، میرپور، ملتان، گوجرانوالہ اوردیگرمقامات پرآئندہ دنوں میں پرفارم کرینگے۔