شام میں فوجی کارروائی خواتین اور بچوں سمیت 57 افراد ہلاک ہیومن رائٹس واچ

النامین اورغباغیب شہروں میں شامی افواج کی بے رحمانہ کارروائی کے دوران 6 بچے،7خواتین،16باغی جنگجو اور16دیگر مارے گئے

متعدد گھروں پرشدید گولہ باری کی گئی،حقوق انسانی کی عالمی تنظیم کاشمال مشرقی علاقوں میں حملے سے متاثرہ 52 مقامات کا دورہ

AUCKLAND:
شام کے درعا صوبے کے دو شہروں میں صدر بشار الاسد کی حامی افواج کی کارروائیوں کے دوران خواتین اور بچوں سمیت 57 افراد ہلاک ہوئے۔

یہ بات شام میں حقوق انسانی کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے سیرین آبزرویٹری فارہیومن رائٹس کی طرف سے جاری رپورٹ میں کہی گئی۔ رپورٹ کے مطابق النامین اورغباغیب شہروں میں شامی مسلح افواج کی بے رحمانہ کارروائی کے دوران 6بچے، 7خواتین، 16باغی جنگجو، 16دیگر نامعلوم افراد اور صدر بشار الاسد کے حامی 12فوجی اہلکار مارے گئے۔


ادارے کے سربراہ رامی عبدالرحمن نے فرانسیسی خبر رساں ادارے کو بتایا کہ صدر بشار الاسد کی افواج نے دونوں شہروں میں کارروائی ان شہروں کے قریب ایک فوجی پوسٹ پر تعینات 12اہلکاروں کے باغیوں کیساتھ مل جانے کے ایک دن بعد کی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ فوجیوں نے کارروائی کے دوران متعدد گھروں پر شدید گولہ باری کی۔ ادھر حقوق انسانی کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ کے مطابق شام کی فضائیہ عام شہریوں پر جان بوجھ کر اور بلاتفریق فضائی حملے کر رہی ہے۔



ہیومن رائٹس واچ نے شام کے شمال مشرقی علاقوں میں 52 ایسے مقامات کا دورہ کیا جہاں اس طرح کے 59 حملے کیے گئے۔ تنظیم کے مطابق شام میں جاری تنازع کے دوران ہونے والی تقریباً ستر ہزار ہلاکتوں میں سے زیادہ تر حکومت کی غیرقانونی کارروائیوں کے نتیجے میں ہوئیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے چین اور روس پر تنقید بھی کی ہے کہ دونوں ممالک اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی شام کے خلاف کارروائی کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ہیومن رائٹس واچ نے سال 2012 میں اگست سے دسمبر تک شام کے شہر حلب، ادلیب اوراذقیہ میں ان جگہوں کا دورہ کیا جو حزب مخالف کے کنٹرول میں ہیں۔

Recommended Stories

Load Next Story