وہ کہاں ہے جو انگریز لے جاتے تھے
ستر سال تو ہوگئے لیکن ’’گھروالوں‘‘ کو ’’تھانے‘‘ سے اپنا بازیافت شدہ سامان نہیں ملا ہے کہیں تھانے والے تو نہیں ڈکارگئے؟
barq@email.com
فیشن ایبل ''دانش و فلسفہ'' کی با ت کی جا ئے تو ماشاء اﷲ خیر سے اپنا پاکستان بھی ''یونان'' بنا ہوا ہے۔ خدا نظر بد سے بچائے گلی گلی کو چہ کوچہ بلکہ چینل چینل اور اخبار اخبار ، دانش و فلسفہ کے دریا بہائے جا رہے ہیں بلکہ سمندروں کو کالموں اور ٹاک شوز کے ''کوزوں'' میں بند کیا جارہا ہے ۔
فیشن ایبل ''دانش'' در اصل حکمرانیہ اور اشرافیہ کا ہی ''بغل بچہ'' ہوتا ہے، اس کا کام ہی عوام کو قصائی کے حوالے کرنا ہوتا ہے اور اگر تاریخ میں کھو جایا جائے تو اس فیشن ایبل عرف ابلاغیہ کا رشتہ اس پروہت یا برھمن سے جا ملتا ہے جس نے پہلے پہل تلوار کے ساتھ ساجھے داری کا آغاز کیا تھا۔ حکمران اشرافیہ نے بھی اسے ہنسی خوشی اپنا پارٹنر بنایا کہ عوام کا لانعام میں ''جسم'' کے ساتھ ساتھ ایک ''ذہن'' بھی پیدا ہونے لگا تھا اور اسے قابو کرنے کے لیے ''تلوار'' ناکافی پڑ رہی تھی، پھر اسے اپنا پارٹنر پروہت برھمن یا مذہبی پیشوا کے روپ میں مل گیا ، یوں تین طبقوں کھشتری، ویش اور شودر کے ساتھ کے ساتھ چوتھا طبقہ برھمن کی بھی تشکیل پا گیا جسے دوسری اصطلاح میں ''اہل شریعت'' بھی کہا جاتا ہے، جس کا کام حکمران کے ہر کام کے لیے دین سے جواز پیدا کرنا ہوتا ہے اور بدلے میں حکمران اسے بھی اجازت دیتا ہے کہ تو بھی لوٹ مچا لے۔یہ فیشن ایبل دانش بھی اسی دوسرے ساجھے دار کے تنے سے پھوٹی ہوئی شاخ ہے جسے آج کل ''ابلاغیہ'' کہتے ہیں جس کا کام آج کل ''شوشے'' چھوڑ چھوڑ کر حکمرانیہ اوراشرافیہ کو عوام الناس سے بچانا ہوتا ہے۔
اسی فیشن ایبل اورمصنوعی دانش میں آج کل ''نو آبادیاتی نظام'' یعنی کالونیلزم پر بھی زیادہ فوکس کیا جا رہا ہے لیکن ڈنڈی یہ ماری جاتی ہے کہ نو آبادیاتی سلسلہ انگریزوں تک ہی رکھا جاتا ہے۔ ورنہ اگر حقیقت کھوجی جائے تو ''نوآبادیاتی'' سلسلے کا آغاز اس وقت سے ہوتا ہے جب ہند میں خانہ بدوش تلوار بازوں نے ورودکیا ہے جنھیں آریا کہا جاتا ہے۔ اور ان خانہ بدوشوں نے ہند میں پہلے سے آباد باشندوں کو مغلوب کرکے ویش اور شودر کا درجہ دے دیا۔ یوں ان پر حکمرانی کا آغاز کیا۔ کم از کم گنگا جمنا تک تو ایسا ہی ہوا۔
یہ ہند میں پہلا ''نو آبادیاتی'' سلسلہ تھا، اس کے بعد ایک طویل سلسلہ ہے کہ پوری دنیا سے لوگ آتے ہیں اور اس سرزمین میں حکمران بن کر نو آبادیاتی سلسلہ چلاتے رہے۔ تا آں کہ یہ سلسلہ مغرب کے بجائے مشرق سے بھی شروع ہوا اور یورپی اقوام جہازوں میں بیٹھ کر پانی کے راستے آ پہنچی۔
اور اس نو آبادیاتی یا کلونیلزم کا سلسلہ شروع ہوا جس پر ہندوستان اور پاکستان میں آج کل بہت زیادہ دانش بگھاری جاتی ہے۔ انگریزی سامراج اور نو آبادیاتی نظام پر سب سے بڑا الزام یہ ہے کہ وہ مختلف ملکوں پر قبضہ کرکے وہاں کی دولت اور وسائل کو لوٹ رہے تھے اور یہ سچ بھی ہے بلکہ یہی سچ ہر حکمرانیہ پر منطبق ہوتا ہے چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب یا قوم و نسل یا ملک و براعظم سے ہو ، حکمران، حکمران ہوتا ہے اور وہ حکمران کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہوتا۔
ہندو نہ مسلم نہ سکھ نہ عیسائی اور نہ ہی آریا یونانی یا ترک وغیرہ جو پندرہ فیصد ہو کر بھی پچاسی فیصد پر سوار ہوتا ہے۔ توانگریز بھی لوٹ رہے تھے، چلیے مان لیتے ہیں کہ سب سے زیادہ لوٹ رہے تھے۔ لیکن اصل سوال اب سامنے آنے والا ہے جواب کے لیے تمام فیشن ایبل دانش کو تیار کر دیجیے ۔ کہ ستر سال سے تو انگریز نہیں ہیں۔ وہ توبڑے ظالم تھے، ریلوے پٹڑیاں بچھا کر سڑکیں بناکر، سرنگیں کھود کر، نہریں نکال کر، واپس انگلستان چلے گئے۔ اگر انھوں نے بے تحاشا لوٹ مار کی ہوتی تواس سرزمین کے باسی بھکاری بن جاتے لیکن ایسا نہیں تھا۔
حساب کتاب جو فیشن ایبل دانش والوں نے ''کتابوں'' میں دکھایا ہے، وہ تو بہت زیادہ ہے، اصولی طور پر تو اب ''اپنے ہاتھ'' میں آ جانے پر ان ممالک کو ''مالامال'' ہونا چاہیے تھا کہ ساتھ ہی ان کو ایک نیا ذریعہ آمدن بھی ملا ہے۔ پلوں سڑکوں شہروں پر ٹیکس کا ذریعہ آمدن تو نیا ملا ہے۔ تو ''یہ'' اور ''وہ'' کل ملا کر دولت کا ایک بہت بڑا ڈھیر ان ممالک بلکہ ''ا س'' ملک میں ہونا چاہیے تھا۔ لیکن کہاں؟ ہاں البتہ قرضے کے بڑ ے بڑے پہاڑ ہیں جو ان باسیوں کے کاندھوں پر دھرے ہوئے ہیں جنہوں نے ظالم، غاصب ڈاکوؤں اور نو آبادیاتی والوں سے ''آزادی'' حاصل کی ہوئی ہے۔ آزادی و آبادی و دلشادیٔ انسان۔معلوم نہیں وہ کون سا لٹیرا چپکے سے آگیا اور ہماری اس گٹھڑی کو لے گیا جس میں ہم نے انگریز لٹیرے سے بچایا ہوا اندوختہ رکھا تھا۔
سفید چور تو نہیں تھاکیونکہ سفید چور کو تو ہم نے بھگا دیا تھا، یہ شاید کوئی ''کالا چور'' ہو گا جو کالے جادو کا بھی ماہر لگتا ہے کہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہی اس نے ہمارا سب کچھ چرا لیا۔ ایک نو آبادیاتی دانش مند نے بتایا ہے کہ انگریز ہمارا اتنا مال لوٹتے تھے کہ وہاں بینک اور قرضہ دینے والے گلی گلی پھر کر نعرے لگاتے تھے کہ قرضہ لے قرضہ لے لو لیکن کوئی قرضہ لینے والا ملتا نہیں تھا اور کیسے ملتا کہ ہر کوئی ہمارے ''مال'' سے مالا مال ہو رہا تھا اور ابھی تک ''مالا مال'' ہے۔
ذرا فیشن ایبل دانش والے جو نو آبادی نظام کی خرابیوں پر بڑی بڑی کتابیں لکھ چکے ہیں اور لکھ رہے ہیں اس کے ہر ہر پہلوں اور ہر ہر خرابی پر پی ایچ ڈی کر چکے ہیں کہ وہ ''مال'' کہاں ہے جواب نہیں لوٹا جا رہا ہے۔ ستر سال تو ہو گئے لیکن ''گھر والوں'' کو ''تھانے'' سے اپنا بازیافت شدہ سامان نہیں ملا ہے کہیں تھانے والے تو نہیں ڈکار گئے؟ لیکن تھانے والے تو ہمارے ہمدرد ہیں، ہمارے غم میں دوڑ دوڑ کر اتنے دبلے ہوگئے ہیں کہ دکھائی ہی نہیں دیتے نو آبادی نظام پر لعنت۔لیکن اس''خود آبادیاتی'' نظام پر کیا؟۔
یہاں تو خیر ابھی قرضوں کے حساب کتاب سے فراغت نہیں ملی ہے لیکن پڑوسی ملک کے کچھ بندوں نے باقاعدہ حساب کتاب لگا کر کہاہے کہ انگریز لوگ جتنا مال ہم سے دو سو سال میں لے گئے تھے، اس سے چار گنا مال اس ستر سال کے عرصے میں جا چکا ہے ،کون لے گیا ہے، یہ ذرا فیشن ایبل اور مصنوعی دانش والے بتائیں گے؟ ۔
فیشن ایبل ''دانش'' در اصل حکمرانیہ اور اشرافیہ کا ہی ''بغل بچہ'' ہوتا ہے، اس کا کام ہی عوام کو قصائی کے حوالے کرنا ہوتا ہے اور اگر تاریخ میں کھو جایا جائے تو اس فیشن ایبل عرف ابلاغیہ کا رشتہ اس پروہت یا برھمن سے جا ملتا ہے جس نے پہلے پہل تلوار کے ساتھ ساجھے داری کا آغاز کیا تھا۔ حکمران اشرافیہ نے بھی اسے ہنسی خوشی اپنا پارٹنر بنایا کہ عوام کا لانعام میں ''جسم'' کے ساتھ ساتھ ایک ''ذہن'' بھی پیدا ہونے لگا تھا اور اسے قابو کرنے کے لیے ''تلوار'' ناکافی پڑ رہی تھی، پھر اسے اپنا پارٹنر پروہت برھمن یا مذہبی پیشوا کے روپ میں مل گیا ، یوں تین طبقوں کھشتری، ویش اور شودر کے ساتھ کے ساتھ چوتھا طبقہ برھمن کی بھی تشکیل پا گیا جسے دوسری اصطلاح میں ''اہل شریعت'' بھی کہا جاتا ہے، جس کا کام حکمران کے ہر کام کے لیے دین سے جواز پیدا کرنا ہوتا ہے اور بدلے میں حکمران اسے بھی اجازت دیتا ہے کہ تو بھی لوٹ مچا لے۔یہ فیشن ایبل دانش بھی اسی دوسرے ساجھے دار کے تنے سے پھوٹی ہوئی شاخ ہے جسے آج کل ''ابلاغیہ'' کہتے ہیں جس کا کام آج کل ''شوشے'' چھوڑ چھوڑ کر حکمرانیہ اوراشرافیہ کو عوام الناس سے بچانا ہوتا ہے۔
اسی فیشن ایبل اورمصنوعی دانش میں آج کل ''نو آبادیاتی نظام'' یعنی کالونیلزم پر بھی زیادہ فوکس کیا جا رہا ہے لیکن ڈنڈی یہ ماری جاتی ہے کہ نو آبادیاتی سلسلہ انگریزوں تک ہی رکھا جاتا ہے۔ ورنہ اگر حقیقت کھوجی جائے تو ''نوآبادیاتی'' سلسلے کا آغاز اس وقت سے ہوتا ہے جب ہند میں خانہ بدوش تلوار بازوں نے ورودکیا ہے جنھیں آریا کہا جاتا ہے۔ اور ان خانہ بدوشوں نے ہند میں پہلے سے آباد باشندوں کو مغلوب کرکے ویش اور شودر کا درجہ دے دیا۔ یوں ان پر حکمرانی کا آغاز کیا۔ کم از کم گنگا جمنا تک تو ایسا ہی ہوا۔
یہ ہند میں پہلا ''نو آبادیاتی'' سلسلہ تھا، اس کے بعد ایک طویل سلسلہ ہے کہ پوری دنیا سے لوگ آتے ہیں اور اس سرزمین میں حکمران بن کر نو آبادیاتی سلسلہ چلاتے رہے۔ تا آں کہ یہ سلسلہ مغرب کے بجائے مشرق سے بھی شروع ہوا اور یورپی اقوام جہازوں میں بیٹھ کر پانی کے راستے آ پہنچی۔
اور اس نو آبادیاتی یا کلونیلزم کا سلسلہ شروع ہوا جس پر ہندوستان اور پاکستان میں آج کل بہت زیادہ دانش بگھاری جاتی ہے۔ انگریزی سامراج اور نو آبادیاتی نظام پر سب سے بڑا الزام یہ ہے کہ وہ مختلف ملکوں پر قبضہ کرکے وہاں کی دولت اور وسائل کو لوٹ رہے تھے اور یہ سچ بھی ہے بلکہ یہی سچ ہر حکمرانیہ پر منطبق ہوتا ہے چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب یا قوم و نسل یا ملک و براعظم سے ہو ، حکمران، حکمران ہوتا ہے اور وہ حکمران کے سوا اور کچھ بھی نہیں ہوتا۔
ہندو نہ مسلم نہ سکھ نہ عیسائی اور نہ ہی آریا یونانی یا ترک وغیرہ جو پندرہ فیصد ہو کر بھی پچاسی فیصد پر سوار ہوتا ہے۔ توانگریز بھی لوٹ رہے تھے، چلیے مان لیتے ہیں کہ سب سے زیادہ لوٹ رہے تھے۔ لیکن اصل سوال اب سامنے آنے والا ہے جواب کے لیے تمام فیشن ایبل دانش کو تیار کر دیجیے ۔ کہ ستر سال سے تو انگریز نہیں ہیں۔ وہ توبڑے ظالم تھے، ریلوے پٹڑیاں بچھا کر سڑکیں بناکر، سرنگیں کھود کر، نہریں نکال کر، واپس انگلستان چلے گئے۔ اگر انھوں نے بے تحاشا لوٹ مار کی ہوتی تواس سرزمین کے باسی بھکاری بن جاتے لیکن ایسا نہیں تھا۔
حساب کتاب جو فیشن ایبل دانش والوں نے ''کتابوں'' میں دکھایا ہے، وہ تو بہت زیادہ ہے، اصولی طور پر تو اب ''اپنے ہاتھ'' میں آ جانے پر ان ممالک کو ''مالامال'' ہونا چاہیے تھا کہ ساتھ ہی ان کو ایک نیا ذریعہ آمدن بھی ملا ہے۔ پلوں سڑکوں شہروں پر ٹیکس کا ذریعہ آمدن تو نیا ملا ہے۔ تو ''یہ'' اور ''وہ'' کل ملا کر دولت کا ایک بہت بڑا ڈھیر ان ممالک بلکہ ''ا س'' ملک میں ہونا چاہیے تھا۔ لیکن کہاں؟ ہاں البتہ قرضے کے بڑ ے بڑے پہاڑ ہیں جو ان باسیوں کے کاندھوں پر دھرے ہوئے ہیں جنہوں نے ظالم، غاصب ڈاکوؤں اور نو آبادیاتی والوں سے ''آزادی'' حاصل کی ہوئی ہے۔ آزادی و آبادی و دلشادیٔ انسان۔معلوم نہیں وہ کون سا لٹیرا چپکے سے آگیا اور ہماری اس گٹھڑی کو لے گیا جس میں ہم نے انگریز لٹیرے سے بچایا ہوا اندوختہ رکھا تھا۔
سفید چور تو نہیں تھاکیونکہ سفید چور کو تو ہم نے بھگا دیا تھا، یہ شاید کوئی ''کالا چور'' ہو گا جو کالے جادو کا بھی ماہر لگتا ہے کہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہی اس نے ہمارا سب کچھ چرا لیا۔ ایک نو آبادیاتی دانش مند نے بتایا ہے کہ انگریز ہمارا اتنا مال لوٹتے تھے کہ وہاں بینک اور قرضہ دینے والے گلی گلی پھر کر نعرے لگاتے تھے کہ قرضہ لے قرضہ لے لو لیکن کوئی قرضہ لینے والا ملتا نہیں تھا اور کیسے ملتا کہ ہر کوئی ہمارے ''مال'' سے مالا مال ہو رہا تھا اور ابھی تک ''مالا مال'' ہے۔
ذرا فیشن ایبل دانش والے جو نو آبادی نظام کی خرابیوں پر بڑی بڑی کتابیں لکھ چکے ہیں اور لکھ رہے ہیں اس کے ہر ہر پہلوں اور ہر ہر خرابی پر پی ایچ ڈی کر چکے ہیں کہ وہ ''مال'' کہاں ہے جواب نہیں لوٹا جا رہا ہے۔ ستر سال تو ہو گئے لیکن ''گھر والوں'' کو ''تھانے'' سے اپنا بازیافت شدہ سامان نہیں ملا ہے کہیں تھانے والے تو نہیں ڈکار گئے؟ لیکن تھانے والے تو ہمارے ہمدرد ہیں، ہمارے غم میں دوڑ دوڑ کر اتنے دبلے ہوگئے ہیں کہ دکھائی ہی نہیں دیتے نو آبادی نظام پر لعنت۔لیکن اس''خود آبادیاتی'' نظام پر کیا؟۔
یہاں تو خیر ابھی قرضوں کے حساب کتاب سے فراغت نہیں ملی ہے لیکن پڑوسی ملک کے کچھ بندوں نے باقاعدہ حساب کتاب لگا کر کہاہے کہ انگریز لوگ جتنا مال ہم سے دو سو سال میں لے گئے تھے، اس سے چار گنا مال اس ستر سال کے عرصے میں جا چکا ہے ،کون لے گیا ہے، یہ ذرا فیشن ایبل اور مصنوعی دانش والے بتائیں گے؟ ۔