انتخابات مبصرین کا بلوچستان فاٹا جانے کا فیصلہ اپنا ہوگا دفتر خارجہ
یہ حقیقی نمائندوں کو منتخب ہونے سے روکناہے، فوج، انٹیلی جنس ادارے اورایف سی صورتحال کے ذمہ دار ہیں،اخترمینگل
یورپی یونین اور دولتِ مشترکہ سمیت 11 ممالک نے عام انتخابات کا جائزہ لینے کی خواہش ظاہر کی ہے۔ فوٹو: فائل
پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ عام انتخابات کے دوران عالمی مبصرین کا بلوچستان اور فاٹا میں جانے یا نہ جانے کا فیصلہ ان کا اپنا ہوگا۔
یہ بات دفترِ خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کو اسلام اباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہی۔جب انہیں بتایا گیا کہ یورپی یونین کے مبصرین کے گروپ کے سربراہ نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان نے انھیں بتایا ہے کہ بلوچستان اور فاٹا میں سیکیورٹی کی صورتحال خراب ہے،اسلیے وہاں نہ جائیں تو اس پر انہوں نے کہا کہ اس بارے میں وزارتِ داخلہ سے رجوع کریں۔ترجمان نے کہا کہ یورپی یونین اور دولتِ مشترکہ سمیت 11 ممالک نے عام انتخابات کا جائزہ لینے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
ان میں نیشنل ڈیموکریٹک انسٹی ٹیوٹ، امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، ملائیشیا، جاپان، ترکی، مالدیپ اور موریشس شامل ہیں۔ادھر عالمی مبصرین کے بلوچستان نہ جانے پرسابق وزیراعلیٰ اختر مینگل نے مایوسی ظاہرکی ہے کہ یہ حقیقی نمائندوں کو منتخب ہونے سے روکنے کا آغاز ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کون سی قوتیں ہیں تو انہوں نے فوج، انٹیلیجنس اداروں اور فرنٹیئر کور کا نام لیا اور الزام لگایا کہ وہ صوبے کی صورت حال کے ذمہ دار ہیں۔
جب مینگل کویاد دلایا گیا کہ آرمی چیف توواضح کر چکے ہیں کہ فوج انتخابی عمل میں مداخلت نہیں کرے گی اور وہ انتخاب ملتوی نہیں کرانا چاہتی تو اختر مینگل نے کہا کہ وہ بلوچ قوم پرستوں کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں اور لگتاہے 2008 سے بدتر 'سلیکشن' کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے عالمی انتخابی مبصرین سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان ضرور آئیں اورانتخابات کی نگرانی کریں ۔
یہ بات دفترِ خارجہ کے ترجمان نے جمعرات کو اسلام اباد میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران کہی۔جب انہیں بتایا گیا کہ یورپی یونین کے مبصرین کے گروپ کے سربراہ نے کہا ہے کہ حکومت پاکستان نے انھیں بتایا ہے کہ بلوچستان اور فاٹا میں سیکیورٹی کی صورتحال خراب ہے،اسلیے وہاں نہ جائیں تو اس پر انہوں نے کہا کہ اس بارے میں وزارتِ داخلہ سے رجوع کریں۔ترجمان نے کہا کہ یورپی یونین اور دولتِ مشترکہ سمیت 11 ممالک نے عام انتخابات کا جائزہ لینے کی خواہش ظاہر کی ہے۔
ان میں نیشنل ڈیموکریٹک انسٹی ٹیوٹ، امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، ملائیشیا، جاپان، ترکی، مالدیپ اور موریشس شامل ہیں۔ادھر عالمی مبصرین کے بلوچستان نہ جانے پرسابق وزیراعلیٰ اختر مینگل نے مایوسی ظاہرکی ہے کہ یہ حقیقی نمائندوں کو منتخب ہونے سے روکنے کا آغاز ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کون سی قوتیں ہیں تو انہوں نے فوج، انٹیلیجنس اداروں اور فرنٹیئر کور کا نام لیا اور الزام لگایا کہ وہ صوبے کی صورت حال کے ذمہ دار ہیں۔
جب مینگل کویاد دلایا گیا کہ آرمی چیف توواضح کر چکے ہیں کہ فوج انتخابی عمل میں مداخلت نہیں کرے گی اور وہ انتخاب ملتوی نہیں کرانا چاہتی تو اختر مینگل نے کہا کہ وہ بلوچ قوم پرستوں کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں اور لگتاہے 2008 سے بدتر 'سلیکشن' کی تیاریاں کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے عالمی انتخابی مبصرین سے اپیل کی کہ وہ بلوچستان ضرور آئیں اورانتخابات کی نگرانی کریں ۔