پشاور ہائیکورٹ ایف سی واپس نہ کرنے پر برہم سیکریٹری داخلہ سمیت 3 افسروں کے وارنٹ گرفتاری

ہم عذاب میں ہیں، جمہوریت کاعلمبردارہے تو ڈرون حملوں میں مرنیوالوں کے ورثا کو معاوضہ کیوں نہیں دیتا

امریکا آرام سے بیٹھا ہے، ہم عذاب میں ہیں، جمہوریت کاعلمبردارہے تو ڈرون حملوں میں مرنیوالوں کے ورثا کو معاوضہ کیوں نہیں دیتا فوٹو: فائل

چیف جسٹس پشاورہائی کورٹ دوست محمدخان نے کہاہے کہ امریکا والے آرام سے ادھر بیٹھے ہوتے ہیں مگر دہشتگردی کے عذاب میں ہماری قوم کو مبتلا کردیا ہے۔

ڈرون حملوں کیخلاف دائر رٹ درخواستوں کی سماعت کے دوران انھوں نے ریمارکس دیے کہ حکومت اگر سلالہ چیک پوسٹ پرحملے کے بعداحتجاج کر کے نیٹوکی سپلائی معطل کرسکتی ہے تو بے گناہ شہریوں کیلیے دیت کیوں نہیں مانگ سکتی، امریکا اگرواقعی انسانی حقوق اورجمہوریت کا علمبردار ہے تو ڈرون حملوں میں جاں بحق افراد کے لواحقین کو بین الاقوامی قوانین کے تحت معاوضہ ادا کیوں نہیں کرتا لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی پارلیمنٹ کی بجائے کسی اور جگہ بنتی ہے۔




معیشت تباہی کے دہانے پرہے، بدقسمتی سے کمیشن تو بنادیے جاتے ہیں مگر حکومت اپنی کوتاہیوں کو چھپانے کیلیے اس کی رپورٹ منظرعام پر نہیں لاتی، آدھا ملک کھونے کے با وجودہم کچھ نہیں سیکھ سکے۔چیف جسٹس نے کہاکہ ہم تمام پہلوئوں کاجائزہ لیں گے اورجس حد تک ہمارا دائرہ اختیار جاتا ہے ہم اس حد تک فیصلہ کریں گے، ہائیکورٹ نے ایف سی پلاٹون صوبے کوواپس نہ کرنے پربرہمی کا اظہار کیا۔
Load Next Story