علامہ بریانی کا بیانیہ

علامہ نے بھی جب تعویذات و عملیات اور اپنے مشہور چورنوں کی وجہ سے شہرت پائی۔

barq@email.com

HANGU:
امید ہے اب تک آپ کو ہمارے اس '' بیانئے '' کا علم ہو چکا ہو گا کہ ہمارا '' بیانیہ ''کچھ زیادہ بہادرانہ بیانیہ نہیں ہوتا ہے کیونکہ ہم اپنا یہ بیانیہ بار بار دہرا کر تقریباً رجسٹر کر چکے ہیں کہ نہ تو کوئی خاص بہادر ہیں اور نہ اتنے زیادہ مومن کہ کسی '' جابر سلطان '' کے آگے اپنا بیانیہ بلند کر سکیں بلکہ جابر سلطان تو دور ہم '' صابر بیوی '' کے آگے بھی '' بیانیہ حق '' بلند کرنے کے حق میں نہیں کیونکہ حالات و واقعات اتنی تیزی سے بدل رہے ہیں کہ ہر بات پر ۔ کہیں ایسا نہ ہوجائے کہیں ویسا نہ ہوجائے کا دھڑکا لگا رہتا ہے۔

ان حالات میں بکری کو شیر بننے میں دیر ہی کتنی لگتی ہے ۔اوریہ '' بیانیہ '' تو خود ہمارے نام ہی سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ دنیا ''خانوں '' سے تقریباً پھٹی پڑ رہی ہے اور ہم '' جان '' کے اندر اپنی جان چھپاتے ہیں، در اصل ہمارے بزرگ بھی ہوشیاری اور احتیاط کے معاملے میں بالکل ہم پر گئے تھے اس لیے انھوں نے ' 'خان '' کے بیانئے میں ممکنہ خطرات بھانپ کر ہمارا بیانیہ '' جان '' کر دیا تھا کہ جان ہے تو جہان ہے، جان بچی تو لاکھوں پائے۔اس لیے اس وقت ہمارے ارد گرد جو '' بیانیہ '' چل رہا ہے وہ کچھ اچھا بیانیہ نہیں ہے، ایسا لگتا ہے کہ سنجیدہ سے سنجیدہ معاملے کو بھی رنجیدہ بنانے کی ہوا سی چلی ہو بلکہ یوں کہئے کہ ٹریجڈی میں بھی کامیڈی کرنے کا بیانیہ چل رہا ہے اور اتنا زیادہ چل رہا ہے کہ کامیڈی کی کوشش میں معاملہ '' پھکڑ پن ''اور بازاری جگت بازی تک پہنچ جاتا ہے ۔

اب ہم اگر تھوڑے بہادر ہوتے تھوڑے مومن ہوتے اور باقی پشتون ہوتے تو اس نئے پاکستانی بلکہ پاکستان کی سیاسی کامیڈی پر بہت کچھ کہنا چاہتے ہیں لیکن نہیں کہہ سکتے کہ فضا ہی ایسی بنی ہوئی ہے کہ گدھے کی جگہ کلال کو نہ داغا جائے اور لومڑی کو اونٹ کا بچہ بنا کر اونٹ کی طرح ٹیڑھا میڑھا نہ کر دیا جائے ۔اور یہ کوئی ہوائی خدشہ نہیں ایک دوبار ہم بھگت بھی چکے ہیں، ایک مرتبہ یہ ہوا کہ ناجائز اسلحہ رکھنے کے جرم میں ایک شخص کو سزا دیتے ہوئے سو روپے جرمانہ کر ڈالا، اس زمانے میں سو روپے بہت ہوتے تھے کہ مزدور کی دیہاڑی دو روپے تھی، ہم نے مجسٹریٹ سے نہایت ہی عاجزانہ لہجے میں عرض کیا کہ حضور یہ شخص بہت غریب ہے اگر کچھ اور رعایت ... ہماری بات مکمل ہونے سے پہلے ہی جیسے عدالت میں کوئی دھماکا ہوا ہو ۔تم مجھے ڈکٹیٹ کر رہے ہو ، ابھی توہین عدالت میں ہتھکڑی لگوا دی جائے گی ۔

ہم چپ رہے ہم رو دیے کہ منظور تھا پردہ اپنا لیکن عدالت کے دل میں کچھ رحم آیا اور ہمیں ہتھکڑیاں لگوانے کے بجائے اس شخص کا جرمانہ پانچ سو کر دیا اور زبانی جو کچھ سنایا گیا وہ الگ ۔خدا کا کرنا ایسا ہوا شاید ہمارے جلے دل کی آہ کا اثر تھا کہ ایک محترمہ عدالت میں داخل ہوئی، بعد میں معلوم ہوا کہ و ہ ایک بہت بڑی فیملی سے تعلق رکھتی تھی اور کسی کونسل کی چیئرمین تھی اور کسی بات پر ویسی ہی بگڑی تھی جیسے ہماری بات پرآنریبل مجسٹریٹ صاحب بگڑے تھے، وہ عدالت کے بیچوں بیچ کھڑی تھی اور تقریر کے انداز میں عدالت کی عزت افزائی کر رہی تھی، آواز اتنی بلند تھی کہ کچہریوں کے بہت سارے وکیل موکلین سائلین اور عملے بھی آگئے، بات کسی نوٹس کی تھی جو اسے بھیجا گیا تھا ۔ بے ربط اور آزادانہ اظہار خیال کے دوران پتہ چلا کہ وہ منصف کسی عام گھرانے سے تھا جو اس محترمہ کے خاندان سے گہرا تعلق رکھتا تھا۔


اور اب منصف ہو کر ان کے منہ آرہا ہے جس کا جدی پشتی جاننے والا ہے ۔ لیکن اس وقت '' عدالت '' کہاں چلی گی جو ہماری درخواست دھماکا بن گئی تھی حاتمہ اس ڈرامے کا یوں ہوا کہ شور سن کر اے سی صاحب بھی آگئے اور انھوں نے معاملہ رفع دفع کرنے کے لیے محترمہ کو شانت کیا اور اپنے دفتر میں چائے پلوانے کے لیے لے گئے، چند اور واقعات بھی ہیں لیکن ان میں خدشہ ہے کہ ایک مرتبہ پھر کسی نازک آبگینے کو ٹھیس نہ لگ جائے اور کرچیاں ہمارا چہرہ لہو لہان نہ کردیں ۔ البتہ ہم علامہ بریانی عرف برڈفلو اور چشم گل چشم عرف سوائن فلو کے درمیان ہونے والی ایک سرد و گرد جنگ کا احوال ضرور سنا سکتے ہیں ۔

جھگڑا اصل میں ایک پرانی بات پر تھا جب علامہ بریانی اتنے زیادہ علامہ بریانی نہ تھے اپنے والد یک وفات پر جب اس نے جدی پشتی دھندہ سنبھالا تو ''تازہ واردان بساط ہوائے دل تھا ۔ آمدنی بھی کوئی خاص نہیں تھی۔ '' بازو'' بھی اس کے پیچھے نہ تھے اور ان دنوں چشم گل چشم پورے عروج پر تھا۔ خود اپنے صین آف اسکولز کا چیئرمین بھی تھا ۔ بیٹے بھی مختلف دھندوں میں چل نکلے تھے ۔ ان دنوں علامہ نے اس سے اپنے کسی اسکول میں کوئی جاب مانگی جاب تو قہر خداوندی نے اسے دی اور ٹیچر کی دی لیکن عملاً اپنا چپراسی سمجھا اور خوب خوب ذلیل کیا ۔

کہتے ہیں دن اور رات '' رہٹ '' کے ڈول میں کبھی بھرے کبھی خالی ۔ علامہ نے بھی جب تعویذات و عملیات اور اپنے مشہور چورنوں کی وجہ سے شہرت پائی اور مسجد کی ساتھ والی شاملاتی زمین پر دارالعلوم کی بنیاد رکھی اور چندے کے دو چار چکر امریکا آسٹریلیا اور یورپ کے لگائے اور عرب ممالک میں اپنے دفاتر قائم کیے تو نہ صرف اس پر ہن برسنے لگا بلکہ گاؤں کے سارے نئے پرانے معززین بھی اس کے حلقہ بگوش ہوئے تو اس نے اپنی توہینات اور تضحیکات کا بدلہ لینے کے لیے قہر خداوندی کو تاکا ، اس کے دو چار اسکولوں کی زمینوں کو ناجائز ثابت کیا اور اپنے '' خطبوں '' کے ذریعے قہر خداوندی کو بدمعاش غنڈہ موالی اور چوروں کا چور بھی مشہور کرنے لگا۔

ڈاکٹر امرود کے مشورے پر آخر کار ایک قہر خداوندی نے علامہ کے پیر پکڑ لیے کہ حضور بس کیجیے اور اپنے خیال میں معاملہ رفع کردیا۔ لیکن یہ اس کی خام خیالی تھی دوسرے دن جمعہ تھا اور اس میں علامہ نے جس طرح قہر خداوندی کی مٹی پلید کی اس پر تو بعضے غیر جانبدار لوگ بھی چہ میگوئیاںکرنے لگے اور اگر چشم گل چشم کا نہیں تواپنے مرتبے کا لحاظ تو کرتا ایک مسجد کا امام ایک مدرسے کا مہتمم اور علامہ ہوتے ہوئے کم از کم زبان تو ...؟

چاہتے توہم بھی ہیں کہ علامہ سے کچھ کہیں لیکن کیسے کہیں کہ ہمارا بیانیہ اتنا بہادرانہ ہے ہی نہیں کہ کسی کے بیانئے پر بیانیہ دیں ۔
Load Next Story