کراچی حصص مارکیٹ مندی کا شکار ہوگئی

انڈیکس50 پوائنٹس کی کمی سے 18714 ہوگیا، 14 ارب 55 کروڑ روپے کا نقصان۔

انڈیکس50 پوائنٹس کی کمی سے 18714 ہوگیا، 14 ارب 55 کروڑ روپے کا نقصان۔ فوٹو: فائل

کراچی اسٹاک ایکس چینج میں بعض منفی اطلاعات کے علاوہ انسٹی ٹیوشنل پرافٹ سیلنگ کے باعث جمعہ کومندی کے اثرات غالب ہوگئے تاہم بعض مقامی شعبوں کی سرمایہ کاری برقرار رہنے کی وجہ سے انڈیکس کی18700 کی حد مستحکم رہی۔

مندی کے باعث 52 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں جبکہ سرمایہ کاروں کے14 ارب54 کروڑ95 لاکھ28 ہزار107 روپے ڈوب گئے، چیئرمین ایس ای سی پی کی تقرری ختم کرنے کے عدالتی فیصلے، ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی کے رحجان سمیت دیگر منفی خدشات کے پیش نظر غیرملکیوں سمیت انسٹیٹیوشنز نے حصص کی آف لوڈنگ کو ترجیح دی اور ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں، میوچل فنڈز، این بی ایف سیز اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے مجموعی طور پر29 لاکھ78 ہزار757 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا جس سے مندی کی شدت ایک موقع پر112 پوائنٹس کی کمی تک جاپہنچی تھی لیکن اس دوران مقامی کمپنیوں کی جانب سے 1 لاکھ46 ہزار606 ڈالر، بینکوں ومالیاتی اداروں کی جانب سے3 لاکھ54 ہزار696 ڈالر اور انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے24 لاکھ77 ہزار455 ڈالر کی تازہ سرمایہ کاری نے مندی کی شدت کم کرنے میں معاونت کی۔




نتیجتاً کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای100 انڈیکس50.27 پوائنٹس کی کمی سے 18714.28 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 62.10 پوائنٹس کی کمی سے14596.52 اور کے ایم آئی30 انڈیکس143.83 پوائنٹس کی کمی سے 32977.39 ہوگیا، کاروباری حجم جمعرات کی نسبت 44.19 فیصد زائد رہا اور مجموعی طور پر18 کروڑ4 لاکھ88 ہزار210 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ331 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں138 کے بھائو میں اضافہ، 172 کے داموں میں کمی اور21 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔

Recommended Stories

Load Next Story