اورنگی میں 6 سالہ بچی زیادتی کے بعد قتل

اس سانحہ کی الم ناک نوعیت ملک میں وقوع پذیر ہونے والے دیگر سفاکانہ واقعات کا تسلسل ہیں

اس سانحہ کی الم ناک نوعیت ملک میں وقوع پذیر ہونے والے دیگر سفاکانہ واقعات کا تسلسل ہیں۔ فوٹو: فائل

DHAKA:
کراچی کے علاقہ اورنگی ٹاؤن میں 6 سالہ بچی رابعہ کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا گیا، عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اس بہیمانہ واردات کے خلاف بچی کے والدین اور اہل علاقہ احتجاج کرتے ہوئے جب سڑکوں پر آگئے تو پولیس کی آنسو گیس کی شیلنگ اور براہ راست فائرنگ کے نتیجہ میں ایک شخص عبدالرحمان جاں بحق اور دو افراد شدید زخمی ہوگئے جنہیں تشویشناک حالت میں جناح اسپتال داخل کیا گیا۔معصوم رابعہ کے دردناک قتل اور زیادتی کی ظالمانہ واردات نے قصور کی زینب'مردان اور دیگر شہروں میں ہونے والے جنسی جرائم کی یاد دلادی، یوں محسوس ہوتا ہے کہ قانون کی حکمرانی کا چراغ گل ہوگیا ہے اور معاشرہ جنسی بھیڑیوں کے رحم وکرم پر ہے۔

پاکستان بھر کے مختلف شہروں اور قصبوں میں آئے روز ایسی خبریں آتی رہتی ہیں جن میں معصوم بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات رونما ہوتے ہیں اور ان واقعات میں زیادہ تر بچیوں کو قتل کر دیا جاتا ہے۔پاکستان کے معاشرے میں حیوانیت جس رفتار سے بڑھ رہی ہے'اس سے ہمارے معاشرے کے بارے میں عالمی سطح پر انتہائی غلط تاثر ابھر رہا ہے۔ جس معاشرے میں معصوم بچوں پر تشدد ہوتا ہو 'بچیوں کے ساتھ جنسی زیادتی ہوتی ہو اور انھیں قتل کیا جاتا ہو' اس کا مطلب یہی ہے کہ زوال کی رفتار بہت تیز ہو گئی ہے ۔کراچی میں جس بچی کو قتل کیا گیا 'اس بچی کی لاش کچرا کنڈی سے ملی۔


پولیس کے مطابق رابعہ کی عمر 6سال اور وہ بلوچ پاڑہ کی رہائشی تھی، اس کے والد کے بیان کے مطابق بچی 15 اپریل کو کھیلنے کے لیے گھر سے باہر نکلی اور لاپتہ ہوگئی، والد نے اس کی گمشدگی کا مقدمہ اورنگی ٹاؤن تھانہ میں درج کرایا اور تین افراد کو نامزد کیا جن میں دو ملزمان کو گرفتار کیا گیا تاہم منگل کو جب رابعہ کی لاش کچرا کنڈی سے برآمد ہوئی تو والدین سمیت سیکڑوں مشتعل مظاہرین کا احتجاج واقعتاً فطری تھا جس سے پولیس حکام کو تدبر اور موثر حکمت عملی سے نمٹنے کی ضرورت تھی مگر پولیس نے اپنی روایتی بے تدبیری سے کام لیا جس کے باعث ایک قیمتی جان چلی گئی اور دو افراد زخمی ہوئے۔ واضح رہے اورنگی ٹاؤن ایشیا کی سب سے بڑی گنجان آبادی شمار ہوتی تھی جو اب پھیل کر ایک منی کراچی بن چکی ہے جہاں جرائم پیشہ افراد امن پسند شہریوں کے لیے وبال جان بنے ہوئے ہیں۔

اس سانحہ کی الم ناک نوعیت ملک میں وقوع پذیر ہونے والے دیگر سفاکانہ واقعات کا تسلسل ہیں، قانون شکن عناصر اور جرائم پیشہ مافیا پر حکومتی گرفت کے کمزور ہونے کی وجہ سے معصوم بچیوں سے زیادتی اور انھیں بیدردی سے قتل کرنے کی وحشیانہ وارداتوں کا سلسلہ بڑھتا جارہا ہے، لہذا پولیس حکام رابعہ کے قتل میں ملوث ملزمان کو جلد گرفتار کریں ، یہ لوگ کسی رحم کے مستحق نہیں۔ اورنگی پولیس کے لیے یہ ٹیسٹ کیس ہے، ملزمان بچ کر نہ جانے پائیں۔ سندھ حکومت رابعہ کے والدین اور لواحقین کی حفاظت اور دستگیری کے لیے ہر ممکن مدد کرنے کو یقینی بنائے۔ پولیس اگر جانفشانی سے کام کرے اور کراچی کی سیاسی و سماجی تنظیمیں عوام کی رہنمائی کریں اور جرائم پیشہ عناصر کی سرکوبی میں اپنا کردار ادا کریں تو کوئی وجہ نہیں ہے کہ شہر کو جرائم سے پاک نہ کیا جا سکے۔امید کی جاتی ہے کہ ادارے اپنے فرائض آئین اور قانون کے مطابق انجام دیں گے۔
Load Next Story