ارکان اسمبلی کے فنڈز کیوں

عام آدمی کا تعلق بنیادی مسائل سے ہوتا ہے انھیں صفائی، بجلی کی فراہمی، نکاسی آب اور راستوں کی تعمیر و مرمت کے۔۔۔

ISLAMABAD:
چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے کہ ارکان اسمبلی کا کام اپنی اپنی اسمبلیوں میں قانون سازی ہے، انھیں حکومت سالانہ فنڈ کیوں دیتی ہے۔ چیف جسٹس کو بتایا گیا کہ بلوچستان اسمبلی کے ہر رکن کو 38-38 کروڑ روپے کا فنڈ ترقیاتی کاموں کے نام پر دیا گیا ہے۔

فاضل چیف جسٹس کا تعلق بلوچستان سے ہے اور انھیں اس سلسلے میں ارکان اسمبلی کے بلوچستان میں استعمال کیے جانے فنڈ کا بخوبی علم ہوگا کہ وہ کس طرح استعمال کیے گئے اور کہاں گئے۔ سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے 2002 میں جب ملک میں عام انتخابات کرائے تھے تو واضح کردیا تھا کہ ارکان اسمبلی کو سالانہ فنڈز فراہم نہیں کیے جائیں گے کیونکہ ارکان اسمبلی کا کام اپنے علاقوں میں تعمیر و ترقیاتی کے کام کرانا نہیں ہے بلکہ اسمبلیوں میں قانون سازی ہے اور ارکان اسمبلی کو بلدیاتی معاملات سے دور رہنا چاہیے کیونکہ یہ کام بلدیاتی نمائندوں کا ہے اور وہ اسی لیے منتخب کیے جاتے ہیں۔

جنرل پرویز کے ضلعی حکومتوں کے نظام کے پہلے دو تین سال میں منتخب ناظمین اور کونسلروں نے بڑی آزادی اور مکمل اختیارات کے ساتھ کام کیا مگر بعد میں جب اسمبلیاں وجود میں آگئیں تو ارکان اسمبلی نے اپنی اپنی حکومتوں پر دباؤ ڈالا کہ ان کے سالانہ ترقیاتی فنڈ بحال کیے جائیں اور ضلعی حکومتوں کے ناظمین کے اختیارات میں کمی اور انھیں محکمہ بلدیات کے ماتحت کیا جائے۔ اس معاملے میں بیوروکریسی اور ارکان اسمبلی اکٹھے ہوگئے تھے۔ کیونکہ ضلعی نظام میں ملنے والے انتظامی اور مالی اختیارات کی وجہ سے جہاں بیوروکریٹ ناظمین کے ماتحت تھے وہاں ارکان اسمبلی کی اہمیت ختم ہوگئی تھی اور لوگ اپنے بلدیاتی مسائل کے حل کے لیے باآسانی ناظمین سے مل لیتے تھے اور انھیں ارکان اسمبلی کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی۔

عام آدمی کا تعلق بنیادی مسائل سے ہوتا ہے انھیں صفائی، بجلی کی فراہمی، نکاسی آب اور راستوں کی تعمیر و مرمت کے مسائل درپیش ہوتے ہیں اور یہ بلدیاتی معاملات ہیں جو متعلقہ یونین کونسل، میونسپل و ٹاؤن کمیٹی اور بلدیہ اعلیٰ و عظمیٰ کو حل کرنا ہوتا ہے۔ یہ کام ارکان اسمبلی اور سینیٹروں کا نہیںہوتا کہ وہ سڑکیں اور نالیاں بنوائیں، یہ لوگ قانون سازی کے لیے منتخب ہوتے ہیں اور انھیں اجلاسوں میں شرکت کے لیے آنے جانے کے ٹکٹ اور رہنے کے لیے سرکاری ہاسٹل ملتے ہیں اور یہ صوبائی اور وفاقی سطح پر اپنے کام کراتے رہتے ہیں۔ وزیراعظم، وزرائے اعلیٰ اور وفاقی و صوبائی وزیروں سے باآسانی مل لیتے ہیں اور انھیں مقررہ الاؤنسز اور مراعات سرکاری طور پر ملتی ہیں۔

یہ وفاقی اور صوبائی سطح پر فائدے اٹھاتے ہیں۔ وزیروں سے اپنے لوگ بھرتی کراتے ہیں، اپنے علاقوں میں افسروں کے تقرر و تبادلے اپنی مرضی سے کراتے ہیں، ارکان اسمبلی اور سینیٹروں کو عزت، پروٹوکول سمیت تمام قانونی سہولتوں اور مراعات ملتی ہیں مگر ان کے استعمال اور اختیار میں کوئی سرکاری فنڈ نہیں ہوتا جسے یہ اپنی مرضی اور من مانی سے خرچ کرسکیں۔


ناظمین تو مالی اور انتظامی طور پر بہت بااختیار اور سرکاری طور پر افسروں کے محتاج نہیں تھے جب کہ اس سے قبل 1979 کے بلدیاتی نظام میں چیئرمین اور میئرز کو بھی مالی اختیارات تھے مگر ان کی کنٹرولنگ اتھارٹی کمشنر، ڈپٹی کمشنر تھے اور وہ محکمہ بلدیات کے بھی محکوم تھے اور انھیں ارکان اسمبلی کو بھی اہمیت دینی پڑتی تھی۔ وزیروں کے دوروں کا انتظام اور اخراجات کرنا پڑتے تھے اور اعلیٰ سرکاری افسروں کی بھی ہر بات ماننا پڑتی تھی۔

1979 کے بلدیاتی نظام میں 1985 کے بعد سے ارکان اسمبلی کے سالانہ فنڈ مخصوص تھے جو ارکان اسمبلی کی مرضی سے خرچ ہوتے تھے اور ان کی مرضی کے علاقوں میں کاموں کے ٹھیکے دیے جاتے تھے جن سے ارکان اسمبلی کو معقول آمدنی ہوتی تھی اور اکثر کام کاغذوں ہی میں مکمل ہوجاتے تھے اور ٹھیکیداروں کو جعلی بلوں کے ذریعے ادائیگی کردی جاتی تھی۔ ایسے تعمیری کاموں کی رقم ضلعی انتظامیہ، متعلقہ محکمے کے افسروں اور متعلقہ رکن اسمبلی کی جیب میں جاتی تھی۔ مجھے صحافیوں کے ہمراہ بلوچستان کے اس وقت کے ایک رکن اسمبلی نے اپنے علاقوں کا دورہ کرایا تھا اور کہا تھا کہ اس وقت کے ڈپٹی چیئرمین نے کروڑوں روپے اپنے فنڈ سے اس علاقے میں سڑکوں کی تعمیر پر خرچ کیے ہیں جب کہ وہاں کوئی سڑک نہیں تھی اور مذکورہ سڑک کے لیے مختص رقم ہڑپ کرلی گئی تھی۔

اب بھی چیف جسٹس کو بتایا گیا ہے کہ بلوچستان کی سابق اسمبلی کے ہر رکن کو 38 کروڑ روپے سالانہ ترقیاتی فنڈ کی مد میں دیے گئے ہیں جن کا کس طرح استعمال ہوا ، یہ بعد میں ہی پتہ چلے گا۔ ضلعی نظام میں ضلعی حکومتوں، تحصیل، ٹاؤن اور یونین کونسلوں کے پاس فنڈ ہوتا تھا جن کے خرچ کا اختیار متعلقہ ناظمین اور کونسل کو ہوتا تھا اور ارکان اسمبلی بے بس تھے، لوگوں نے اپنے بنیادی مسائل کے سلسلے میں ارکان اسمبلی کے پاس جانا چھوڑ دیا تھا اور ارکان اسمبلی ویسے بھی اپنے ووٹروں کو دستیاب نہیں ہوتے تھے۔

ارکان اسمبلی کے دباؤ میں آکر اور اپنے سیاسی مفاد کے لیے جنرل پرویز مشرف نے 2005 کے ضلعی نظام میں ناظمین کے اختیارات بڑھانے کے بجائے کم کردیے تھے اور ارکان اسمبلی کے بند کیے گئے سالانہ فنڈز بحال کردیے تھے۔ کراچی میں اپنی سٹی حکومت میں متحدہ کے ناظمین نے اپنی بہترین کارکردگی کا مظاہرہ اس لیے کیا تھا کہ ان کے پاس فنڈز موجود تھے مگر وفاقی حکومت OZT کی مد میں ملنے والی رقم میں کٹوتی کرتی تھی اور صوبائی حکومت بھی پراپرٹی ٹیکس کی مد میں رقم کم فراہم کرتی تھی، ارکان اسمبلی کے فنڈز بحال ہونے پر متحدہ کے ارکان اسمبلی نے اپنے فنڈز سے اپنے علاقوں میں تعمیری کام کرائے جو ٹاؤن کونسلیں نہ کراسکتی تھیں۔

سابق حکومت میں تو بلدیاتی اداروں کو ترقیاتی فنڈز دینے کے بجائے ارکان اسمبلی کو فنڈز بڑی مقدار میں فراہم کیے گئے اور وفاقی حکومت نے بھی اپنی پسند کے ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹروں کو اربوں روپے سالانہ ترقیاتی فنڈز میں دیے اور اکثر جگہ اس فنڈ کے استعمال میں اقربا پروری اور کرپشن بلکہ دل کھول کر ریکارڈ کرپشن کی گئی۔ پنجاب میں کم اور باقی صوبوں میں کرپشن کے نئے ریکارڈ قائم ہوئے۔ ارکان اسمبلی اور سینیٹروں کی کمائی اور کرپشن کا ذریعہ یہی ترقیاتی فنڈز ہیں جن کے ذریعے نہ صرف انتخابی اخراجات وصول کرلیے جاتے ہیں بلکہ آئندہ انتخابات کے لیے بھی خرچہ نکال لیا جاتا ہے جو اب خرچ کرنے کا موقع آگیا ہے۔

آئین کے تحت ارکان اسمبلی کا کام قانون سازی ہے مگر انھیں سالانہ فنڈز سے زیادہ دلچسپی ہوتی ہے جس کی وجہ سے ملک بھر میں بلدیاتی ادارے تباہ اور عوام کے بنیادی مسائل بڑھ گئے ہیں۔
Load Next Story