شہر کی مارکیٹوں اور بسوں میں جیب کتروں کی وارداتیں بڑھ گئیں
زیادہ تر گروہ قیوم آباد، بلوچ کالونی، لیاقت آباد، سہراب گوٹھ کے اسٹاپس پر متحرک، صحافی ناصرالدین کی بھی جیب کٹ گئی.
ملزمان کو پولیس کی سرپرستی حاصل ہے۔
شہر میں جیب کتروں کے کئی گروہ کے سرگرم ہونے سے شہری پریشانی کا شکار ہیں زیادہ تر گروہ قیوم آباد ، بلوچ کالونی ، محمود آباد ، کلفٹن، لیاقت آباد، یونیورسٹی روڈ ، بولٹن مارکیٹ ، تین ہٹی ، سہراب گوٹھ ، اختر کالونی اور مین کورنگی روڈ پر واقع اسٹاپس پر متحرک ہیں۔
جیب کتروں نے روزنامہ ایکسپریس کے سینئر رپورٹر ناصر الدین کی بھی جیب کاٹ لی ، تفصیلات کے مطابق شہر میں جیب کتروں کے گروہ سرگرم ہونے کی وجہ سے خصوصاً پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والے مسافروں کو نہ صرف شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے بلکہ قیمتی دستاویزات اور نقدی سے بھی محروم ہونا پڑ رہا ہے ، ہفتے کو گلستان کوچ کے ذریعے قیوم آباد سے کلفٹن عبداﷲ شاہ غازی مزار جانے والے روزنامہ ایکسپریس کے سینئر رپورٹر ناصر الدین کی جیب کٹ گئی جس میں اے ٹی ایم کارڈ ، فیول کارڈ ، نقدی اور دیگر دستاویزات تھیں۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر میں جاری بدامنی ، دہشت گردی ، بم دھماکوں ، دستی بم حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں کی روک تھام کے لیے ساری توجہ پولیس اسنیپ چیکنگ اور ان میں ملوث ملزمان کی گرفتاری پر دے رہی ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جیب کتروں کا گروہ نہ صرف متحرک ہوگیا بلکہ سرگرمی سے اپنی کارروائیاں بھی جاری کیے ہیں جس میں پبلک ٹرانسپورٹ، بازار ، مزارات ، مارکیٹیں یا ایسے مقامات جہاں پر کسی واقعہ کی وجہ سے لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوجاتی ہے وہاں پر بھی اپنے ہاتھ کی صفائی دیکھا جاتے ہیں۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت شہر میں جیب کتروں کے کئی گروہ سرگرم ہیں اور انھوں نے اپنے اپنے علاقے منتخب کیے ہوئے ہیں جہاں پردوسرے گروپ کا کوئی کارندہ دخل اندازی نہیں کر سکتا ، جیب کتروں کے لیے قیوم آباد ، بلوچ کالونی ، محمود آباد ، کلفٹن ، لیاقت آباد ، یونیورسٹی،بولٹن مارکیٹ،تین ہٹی،سہراب گوٹھ، اختر کالونی اور مین کورنگی روڈ پر واقع بس اسٹاپس آمدنی کے ذرائع بنے ہوئے ہیں۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر میں سرگرم جیب کتروں کے متعدد گروپ کو پولیس کی بھی سرپرستی حاصل ہے اور یہ وہ پولیس اہلکار ہوتے ہیں جو علاقہ گشت پر مامور ہوتے ہیں اور ڈیوٹی کے دوران ان کا موبائل فون کے ذریعے جیب کتروں سے رابطہ رہتا ہے اور ڈیوٹی ختم کرنے سے قبل وہ اپنا حصہ لے کر چلے جاتے ہیں۔
جیب کتروں نے روزنامہ ایکسپریس کے سینئر رپورٹر ناصر الدین کی بھی جیب کاٹ لی ، تفصیلات کے مطابق شہر میں جیب کتروں کے گروہ سرگرم ہونے کی وجہ سے خصوصاً پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے والے مسافروں کو نہ صرف شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے بلکہ قیمتی دستاویزات اور نقدی سے بھی محروم ہونا پڑ رہا ہے ، ہفتے کو گلستان کوچ کے ذریعے قیوم آباد سے کلفٹن عبداﷲ شاہ غازی مزار جانے والے روزنامہ ایکسپریس کے سینئر رپورٹر ناصر الدین کی جیب کٹ گئی جس میں اے ٹی ایم کارڈ ، فیول کارڈ ، نقدی اور دیگر دستاویزات تھیں۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر میں جاری بدامنی ، دہشت گردی ، بم دھماکوں ، دستی بم حملوں اور ٹارگٹ کلنگ کی وارداتوں کی روک تھام کے لیے ساری توجہ پولیس اسنیپ چیکنگ اور ان میں ملوث ملزمان کی گرفتاری پر دے رہی ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جیب کتروں کا گروہ نہ صرف متحرک ہوگیا بلکہ سرگرمی سے اپنی کارروائیاں بھی جاری کیے ہیں جس میں پبلک ٹرانسپورٹ، بازار ، مزارات ، مارکیٹیں یا ایسے مقامات جہاں پر کسی واقعہ کی وجہ سے لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہوجاتی ہے وہاں پر بھی اپنے ہاتھ کی صفائی دیکھا جاتے ہیں۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت شہر میں جیب کتروں کے کئی گروہ سرگرم ہیں اور انھوں نے اپنے اپنے علاقے منتخب کیے ہوئے ہیں جہاں پردوسرے گروپ کا کوئی کارندہ دخل اندازی نہیں کر سکتا ، جیب کتروں کے لیے قیوم آباد ، بلوچ کالونی ، محمود آباد ، کلفٹن ، لیاقت آباد ، یونیورسٹی،بولٹن مارکیٹ،تین ہٹی،سہراب گوٹھ، اختر کالونی اور مین کورنگی روڈ پر واقع بس اسٹاپس آمدنی کے ذرائع بنے ہوئے ہیں۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر میں سرگرم جیب کتروں کے متعدد گروپ کو پولیس کی بھی سرپرستی حاصل ہے اور یہ وہ پولیس اہلکار ہوتے ہیں جو علاقہ گشت پر مامور ہوتے ہیں اور ڈیوٹی کے دوران ان کا موبائل فون کے ذریعے جیب کتروں سے رابطہ رہتا ہے اور ڈیوٹی ختم کرنے سے قبل وہ اپنا حصہ لے کر چلے جاتے ہیں۔