4 ہفتے سے زائد پرانا خون مریضوں کیلیے نقصان دہ ہے ڈاکٹر زاہد

خون لگوانے سے قبل بیگ پر تاریخ، ڈونرکا نام اور فون نمبر چیک کیاجائے.

دل اورانتہائی نگہداشت کے مریضوں کے لیے پرانا خون انتہائی مضرہے فوٹو: فائل

سندھ بلڈ ٹرانسفوژن اتھارٹی نے کہا ہے کہ ضرورت مند مریض کو3 سے4 ہفتے پرانا خون لگواسکتے ہیں اس سے زیادہ معیاد والاخون مریض کونقصان پہنچا سکتا ہے۔

خون لگوانے سے قبل خون کے بیگ پر تاریخ، ڈونرکا نام اور فون نمبر چیک کیاجائے، ایک ماہ سے زائد پرانا خون نہیں لگوانا چاہیے، تمام بلڈ بینکس خون کے بیگ پر ڈونرکانام، فون نمبر اورتاریخ کا اندارج لازمی کریں جبکہ خون سے نکالے جانے والے پلیٹی لیٹ کو پہلے ایک گھنٹے یا زیادہ سے زیادہ4 گھنٹے کے اندرلگوانا چاہیے بصورت دیگراس کی افادیت ختم ہونے لگتی ہے، یہ بات سندھ بلڈ ٹرانسفوژن اتھارٹی کے سربراہ ڈاکٹر زاہد انصاری نے ایکسپریس سے گفتگو میں کہی۔


انھوں نے بتایاکہ ایک خون کے بیگ میں5 اجزا ہوتے ہیں جس میں سفید سیل، پلیٹی لیٹ، سرخ سیل، پلازمہ اور ایف ایف پی شامل ہیں، ڈاکٹرمریض کوضرورت کے لحاظ سے وہی اجزا دے جس کی اس کوضرورت ہو، انھوں نے کہاکہ مریض کو 3 سے 4 ہفتے سے زیادہ پرانے خون کی منتقلی سے متاثرہ خون رگوں کے افعال کو متاثرکرسکتاہے، انھوں نے کہا کہ بلڈ بینکوں میں5 ہفتے تک اسٹورکیے جانے والے خون کے انتقال کو جائز سمجھتے ہیں تاہم 4 ہفتوں سے زائد پراناخون مریض کے نظام خون کومتاثر کرسکتا ہے، ہارٹ سرجری اورانتہائی نگہداشت کے مریضوںکیلیے پرانا خون انتہائی مضر ہوتاہے۔



ڈاکٹر زاہد انصاری نے بتایاکہ اتھارٹی کے تحت اب تک 162بلڈ بینکس رجسٹرڈ ہیں اوران تمام بلڈ بینکوں کو ہدایت جاری کردی گئی ہے کہ ضرورت مند مریضوںکو4 ہفتے سے زائد پرانا خون فراہم نہ کیاجائے، اس سلسلے میں سرویلینس سیل بھی قائم کردیاگیا ہے، انھوں نے بتایا کہ 10نئے بلڈ بینکوں نے اتھارٹی سے رجسٹریشن کیلیے درخواست دی ہے جن کا معائنہ کیاجارہا ہے، قواعد پر پورا اترنے پر انھیں رجسٹرڈ کیا جائے گا، اب تک131بلڈ بینکوںکوسیل کیاجاچکا ہے، انھوں نے بتایا کہ خون سے بنائے جانے والے پلیٹی لیٹ ضرورت مند مریضوں کو پہلے ایک سے4گھنٹے کے اندرلگوانے چاہیئں بعدازاں پلیٹی لیٹ کی افادیت ختم ہوجاتی ہے۔
Load Next Story