بھارت2دہائیوں میں14ہزار کشمیری4 ہزارسیکورٹی اہلکار قتل

وادی میں موجودعسکریت پسندوں کو پاکستان کی پشت پناہی حاصل ہے، حالات بہتر ہوئے ہیں،بھارتی وزارت داخلہ.

4سال میں 1547 عسکری واقعات رونما ہوئے، 7سال میں3732مرتبہ دراندازی کی گئی، میڈیا رپورٹ. فوٹو: اے ایف پی

بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں کشمیریوں کے قتل عام کا اعتراف کرتے ہوئے گزشتہ 2 دہائیوں کے دوران 14 ہزار عام شہریوں اور 4 ہزار سے زائد سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں کاانکشاف کیا ہے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق بھارتی وزارت داخلہ نے 2012-13 کی سالانہ رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ریاست کے حالات میں کافی بہتری آئی ہے عسکری کارروائیوں میں کمی ہوئی ہے جبکہ دراندازی کے واقعات میں اضافہ ہورہا ہے جو قابل تشویش ہے۔ گزشتہ 2 دہائیوں سے کشمیر کے لوگوں کو کافی مشکلات و مصائب کا سامنا کرنا پڑا، عسکریت پسندوں کو پاکستان کی پشت پناہی حاصل ہے۔ سالانہ رپورٹ میں بڑھتی ہوئی دراندازی پر تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ سرحدوں پرجدید آلات نصب کیے جارہے ہیں۔




تاکہ دراندازی کو مکمل طور پر ختم کیاجاسکے۔ وزارت داخلہ نے گزشتہ 4 برسوں کے دوران عسکری کارروائیوں کے بارے میں اعدادوشمار ظاہر کرتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ریاست جموں وکشمیر کے اطراف میں 2009 میں 499، 2010 میں 488، 2011 میں 340اور2012 میں 220عسکری کارروائیاں رونما ہوئی ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ 2012 میں عسکری کارروائیوں میں 35فیصد کمی ہوئی۔ عام شہریوں کی ہلاکتوں میں 54فیصد اور سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کے ہلاکتوں میں 52فیصد کمی واقع ہوئی ہے ۔ 2011 میں ایک سو 2012 میں 72عسکریت پسند ہلاک ہوئے۔

جبکہ 2005 میں 557کشمیری 2006میں 389شہری 2007میں 158شہری 2008 میں 91 افراد 2009 میں 71کشمیری 2010 میں 47افراد 2011 میں 31کشمیری 2012 میں 15 شہری عسکری کارروائیوں کا نشانہ بنے۔ عسکریت پسندوں کی ہلاکتوں پر رپورٹ میں کہا کہ 2005 میں 917سال 2006 میں 591سال 2007 میں 472سال 2008 میں 339سال 2009 میں 239سال 2010 میں 232عسکریت پسند فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے دوران ہلاک ہوئے ۔ 2005 میں دراندازی کے 597واقعات، سال2006 میں 573سال 2007 میں 535سال 2008 میں 342سال 2009 میں 485سال 2010 میں 489سال2011 میں 247اور سال 2012 میں 264دراندازی کے واقعات رونما ہوئے۔
Load Next Story