لوڈ شیڈنگ اور اووربلنگ

لائن لاسز پورے کرنے کیلئے صارفین کو وسیع پیمانے پر ناجائز جرمانوں، اضافی بلنگ کے ساتھ ساتھ جعلی بلز بھجوا رہی ہیں۔

شہروں اور دیہات میں 12سے18گھنٹے لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔ فوٹو فیضان داود

ملک میں لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ اس حقیقت کے باوجود جاری ہے کہ حالیہ دنوں میں بجلی کی پیداوار میں اضافہ کیا گیا ہے اور یہ پیداوار بڑھ کر 14ہزار میگاواٹ سے زیادہ ہو چکی ہے۔ اگرچہ ملک کے کچھ علاقوں میں بارشوں کی وجہ سے درجہ حرارت میں کمی واقع ہوئی ہے اور گرمی کا زور ٹوٹ چکا ہے تاہم حبس کی وجہ سے لوگ پریشان حال ہیں اور ان علاقوں کے لوگ تاحال مشکلات کا شکار ہیں جہاں ابھی تک بارشیں زیادہ نہیں ہوئیں اور وہ اب بھی شدید گرمی کی لپیٹ میں ہیں۔

ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ ملک میں بجلی کا شارٹ فال چار ہزار میگاواٹ برقرار ہے جس کے باعث شہروں اور دیہات میں 12سے18گھنٹے لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے۔ جمعرات کو بھی اس لوڈ شیڈنگ کے خلاف کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ دوسری جانب عدالت عظمیٰ نے حکومت اور نجی شعبے میں قائم بجلی گھروں یعنی آئی پی پیز کے درمیان ہونے والا معاہدہ طلب کر لیا ہے اور ہدایت کی ہے کہ بجلی کے بحران کے خاتمے کے لیے فریقین آپس میں بیٹھ کر پُرامن طریقے سے اس معاملے کو طے کریں جب کہ وزارت پانی و بجلی کے وکیل خواجہ طارق رحیم نے چیف جسٹس کی سربراہی میں فُل بینچ کو بتایا کہ حکومت اور آئی پی پیز کے مابین معاہدہ طے پا گیا ہے اور 44 سے 45 ارب روپے کی ادائیگی پر اتفاق ہو چکا ہے۔


بجلی کے حوالے سے ہی ایک انکشاف یہ ہوا ہے کہ صارفین کو جعلی بل بھیجے جا رہے ہیں۔ قومی اسمبلی کی پبلک اکائونٹس کمیٹی کا اجلاس چیئرمین ندیم افضل چن کی صدارت میں ہوا جس میں سیکریٹری پانی و بجلی ظفر محمود نے بتایا کہ بجلی تقسیم کرنے والی کمپنیاں لائن لاسز پورے کرنے کے لیے صارفین کو وسیع پیمانے پر ناجائز جرمانوں، اضافی بلنگ کے ساتھ ساتھ جعلی بلز بھجوا رہی ہیں۔ اراکین کمیٹی نے بجلی پیدا کرنے والی کمپنیوں کے بجلی فروخت اور نرخوں کے تعین کے نظام پر تحفظات کا اظہار کر دیا جب کہ سینیٹ میں قائمہ کمیٹی برائے پانی و بجلی نے کہا ہے کہ بجلی کے منصوبے کاغذی ہیں عملی کام نہیں ہو رہا ہے۔

یہ ساری صورتحال غماز ہے کہ بہرحال بجلی کی پیداوار بڑھانے اور اس کی تقسیم کے عمل کو زیادہ واضح اور شفاف بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ آئی پی پیز کو واجبات کی ادائیگیوں کے بعد بجلی کی پیداوار میں اضافہ ہو جائے گا اور یوں لوڈ شیڈنگ کچھ کم ہونے کی امید پیدا ہو گی۔ جہاں تک اووربلنگ کا تعلق ہے تو جن صارفین سے اووربلنگ کی گئی ہے ان کو اگلے بلوں میں اتنا ہی ریلیف دینے کا بندوبست کیا جانا چاہیے' یہ ان کا حق ہے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ آیندہ اووربلنگ روکنے کے مناسب انتظامات کیے جائیں اور اووربلنگ کے بجائے لائن لاسز اور بجلی چوری کم کرنے کی کوشش کی جائے۔

Recommended Stories

Load Next Story