نگراں وزیر اعظم کا اچھا فیصلہ

نگراں وزیراعظم میر ہزار خان کھوسو نے نگراں وزیر داخلہ سے ان کے بیان کے بارے میں وضاحت طلب کی۔

نگراں وزیراعظم نے توقع ظاہر کی ہے کہ نگراں وزراء اور سرکاری مشینری عام انتخابات کے انعقادپراپنی توجہ مرکوز کریں گے۔ فوٹو: اے ایف پی/ فائل

گزشتہ دنوں نگراں وزیر داخلہ ملک محمد حبیب خان نے مسلم لیگ ن اور میاں نواز شریف کے بارے میں جو ریماکس دئیے تھے، ان پر ملک میں اختلافی بحث شروع ہونے پر نگراں وزیراعظم میرہزار خان کھوسو نے کابینہ کے اراکین کو سیاسی بیان بازی سے روک دیا ہے۔ یہ ہدایت انھوں نے نگراں وزیرداخلہ ملک محمد حبیب خان سے گفتگو کے بعد جاری کی۔ نگراں وزیراعظم میر ہزار خان کھوسو نے نگراں وزیر داخلہ سے ان کے بیان کے بارے میں وضاحت طلب کی۔

نگراں وزیر داخلہ نے نگراں وزیر اعظم کو بتایا کہ انھوں نے متذکرہ بیان اچھے ارادے کے ساتھ دیا تاہم ان کے اظہار خیال سے جو تاثر پیدا ہوا وہ ان کا مقصد نہ تھا۔ نگراں وزیر داخلہ نے بتایا کہ انھوں نے عام انتخابات کے لیے سازگار ماحول برقرار رکھنے کے پیش نظر تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ بلا امتیاز رابطہ کیا ہے۔ اس موقع پر نگراں وزیراعظم میر ہزار خان کھوسو کی نگراں کابینہ کو یہ یاد دہانی کرانا بالکل بجا ہے کہ نگراں حکومت کا مینڈیٹ نہ صرف آزادانہ، منصفانہ، شفاف اور معتبر انتخابات کو یقینی بنانا ہے بلکہ الیکشن کے لیے سازگار فضا بھی برقرار رکھنا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ نگراں حکومت اور سرکاری مشینری غیر جانبدار رہے اور کسی نگراں شخصیت کے بیان سے ایسا تاثر نہ ملے کہ وہ کسی سیاسی جماعت یا شخصیت کی حمایت کر رہے ہیں۔


نگراں وزیراعظم نے توقع ظاہر کی ہے کہ نگراں وزراء اور سرکاری مشینری عام انتخابات کے انعقادپراپنی توجہ مرکوز کریں گے اور تمام ضروری انتظامات کرے گی۔ علاوہ ازیں نگراں وزیراعظم نے وزارت داخلہ اور صوبائی حکومتوں کو عام انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں اور سیاسی رہنمائوں کو سکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایات بھی جاری کر دی ہیں۔ نگراں حکومت کے لیے عام انتخابات کا انعقاد معمول کا کام نہیں ہے' ماضی کے برعکس آج صورت حال مختلف ہے۔ نگراں وزیراعظم نے اگلے روز وزیر داخلہ کو پرائم منسٹر ہائوس طلب کر کے اچھا تاثر دیا ہے۔ موجودہ حالات میں یہ ضروری ہے کہ نگراں حکومت اور اس کے وزراء نہ صرف غیر جانبداری کا مظاہرہ کریںتاکہ کسی سیاسی جماعت کو اعتراض کا موقع نہ ملے۔

نگراں وفاقی وزیر داخلہ اپنے بیان کی جو مرضی وضاحت کریں لیکن یہ حقیقت ہے کہ ان کے بیان کی وجہ سے سیاسی فضا میں ارتعاش پیدا ہوا' میڈیا نے وہی کچھ پیش کیا جو انھوں نے کہا تھا، اس لیے میڈیا کے حوالے سے کوئی بات کرنا مناسب نہیں۔اس وقت پوری قوم نگراں حکومت کو دیکھ رہی ہے اور بجا طور پر اس سے توقع کرتی ہے کہ وہ غیر جانبدار انداز میں عام انتخابات منعقد کرائے گی۔ نگراں حکومت کا فرض ہے کہ حکومتی معاملات اس انداز سے انجام دے کہ کوئی شخص اس پر انگلی نہ اٹھا سکے۔

نگراں وزیر داخلہ کے بیان پر ملک کی سیاسی جماعتوں کا ردعمل فطری ہے' انتخابی ماحول میں اگر کوئی نگراں وزیر کسی سیاسی جماعت یا اس کے رہنما کے بارے میں کوئی بھی گفتگو کرے تو اسے رائے عامہ پر اثر انداز ہونے کے زمرے میں شامل کیا جائے گا' نگراں وزراء کو محض میڈیا پر آنے اور باتیں کرنے کے بجائے عملی اقدامات پر توجہ دینی چاہیے' نگراں وزیراعظم نے نگراں وزیر داخلہ کے حوالے سے فی الحال کوئی فیصلہ نہیں کیا' بہر حال انھوں نے اپنی کابینہ کے ارکان کو سیاسی بیان بازی سے روک کر درست اقدام کیا ہے۔
Load Next Story