جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ

جاگیردار طبقہ ہمارے ملک میں نہ صرف سیاست اور اقتدار پر قابض ہے بلکہ جمہوریت کا سب سے بڑا علمبردار بنا بیٹھا ہے۔

zaheerakhtar_beedri@yahoo.com

ہوسکتا ہے یہ بات افسانوی لگے لیکن یہ افسانہ نہیں ایک واضح حقیقت ہے کہ آج پاکستان میں جاگیردارانہ نظام کے خلاف ہر طرف سے جو آوازیں اٹھ رہی ہیں یہ اچانک ظہور پذیر ہونے والا کوئی واقعہ نہیں بلکہ بائیں بازو کی قربانیوں کا ثمر ہے، جو بائیں بازو نے اس زمانے میں دیں جب جاگیرداری اور سامراج کے خلاف بات کرنا جرم سمجھا جاتا تھا، بائیں بازو کی جماعت نیب کے منشور میں سب سے پہلا آئٹم جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ تھا۔

نیب کے زیر اہتمام کسان کانفرنس ہوتی تھیں، بائیں بازو ہی سے تعلق رکھنے والے حیدر بخش جتوئی ہاری تنظیموں کی سربراہی کرتے تھے اور بائیں بازو ہی سے تعلق رکھنے والے میجر اسحاق نے شدت نگر تحریک کی قیادت کی تھی جو کسانوں کی بغاوت کے نام سے مشہور ہے، بد قسمتی سے پاکستان میں ریاستی طاقت سے بائیں بازو کو کچلنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک کا یہ سب سے اہم اور بنیادی مسئلہ پس منظر میں چلا گیا تھا، لیکن میڈیا میں موجود ترقی پسند قلمکاروں نے اس مسئلے کو اس طرح اجاگر کیا کہ ہر سیاسی اور مذہبی جماعت اس مسئلے پر بولنے پر مجبور ہوگئی اور بعض جماعتوں نے اس نظام کے خلاف بھرپور آواز اٹھائی، بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی منتشر جماعتوں کے منشور میں آج بھی زرعی اصلاحات کا مطالبہ سرفہرست ہے۔

آج ہم نے اس مسئلے پر ایک بار پھر اس لیے قلم اٹھانا ضروری سمجھا کہ ہماری سیاسی اور مذہبی جماعتیں اس اہم قومی مسئلے پر دوغلے پن کا مظاہرہ کرتی دکھائی دے رہی ہیں، ہر سیاسی اور مذہبی جماعت زبان سے تو جاگیردارانہ نظام کے خاتمے کی ضرورت کو تسلیم کر رہی ہے لیکن اس کے خاتمے کے لیے کوئی عملی جدوجہد کے لیے تیار نظر نہیں آتی، اسی طرح کئی جماعتیں انقلاب اور نظام کی تبدیلی کے نعرے تو لگا رہی ہیں لیکن ان کے منشور میں انقلاب اور نظام کی تبدیلی کے لیے کوئی پروگرام نظر نہیں آتا، اس کی دو وجوہات ہوسکتی ہیں۔

ایک یہ کہ کوئی جماعت انقلابی یا نظام کی تبدیلی کا مطلب ہی نہیں سمجھتی، دوسرے یہ کہ یہ جماعتیں اپنے انقلاب اور نظام کی تبدیلی کے حوالے سے مخلص نہیں اور عوام کو انقلاب اور نظام کی تبدیلی کے خالی خولی نعروں سے بہلانا چاہتی ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ایسی جماعتیں جو اپنی بات کا آغاز ہی ''جاگیردارانہ نظام کے خاتمے'' سے کرتی تھیں ان کے منشور سے بھی جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ غائب ہے۔

اس حوالے سے سب سے پہلے اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے جو ہماری سیاسی سماجی اور اقتصادی ترقی کی راہ میں نیم قبائلی جاگیردارانہ نظام ایک آہنی دیوار کی طرح کھڑاہے۔ ہماری انتخابی اور جمہوری زندگی کے سر پر جاگیردارانہ نظام برگد کے پیڑ کی طرح کھڑا ہے، اس کے منحوس سائے میں کوئی عوامی سیاست، کوئی سماجی تبدیلی، اقتصادی ترقی ممکن ہی نہیں۔


یہی وجہ ہے کہ مغربی ملک صدیوں پہلے اس ازکار رفتہ نظام سے چھٹکارا حاصل کرچکے ہیں اور پسماندہ ملکوں نے نو آبادیاتی نظام سے نجات حاصل کرتے ہی پہلا کام یہ کیا کہ اس بدترین جاگیردارانہ نظام سے چھٹکارا حاصل کرلیا، لیکن پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں یہ غلاظت موجود ہی نہیں بلکہ قانون ساز اداروں اور کابینائوں میں اپنی بدبو اس طرح پھیلا رہی ہے کہ پورا ملک پورا معاشرہ ناک پر رومال رکھے ہوئے ہے، سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ہمارے سیاستدان اور مذہبی رہنما اس نظام کی بدبو سے گھبرا کر اسے ختم کرنے کے نعرے لگارہے ہیں یا عوام کو اس بدبو سے نجات دلانے کے دعوے کرکے بے وقوف بنانا چاہتے ہیں؟

جاگیردارانہ نظام نے ہماری سماجی زندگی ہی میں جمود پیدا نہیں کیا ہے بلکہ ہمارے ملک کی سیاست کو بھی میراثی سیاست میں بدل کر رکھ دیا ہے اور ہماری صنعتی ترقی کے آگے ایک دیوار کھڑی کررکھی ہے، اسی نظام کی عنایت ہے کہ ہمارے ملک میں ابھی تک قبائلی سرداری نظام نہ صرف موجود ہے بلکہ ایسے ہولناک جلوے دکھارہا ہے کہ سارا ملک خیبر سے کراچی تک لہولہان ہے، بچوں کے اسکول، بزرگوں کے مزار، مسجدیں، امام بارگاہیں تک لہو لہان ہیں، ساری انتظامیہ سر پر ہاتھ رکھے بیٹھی ہے حتیٰ کہ سکیورٹی فورسز تک غیر محفوظ ہوکر رہ گئی ہیں، اگر قیام پاکستان کے ساتھ ہی جاگیردارانہ نظام کو ختم کردیا جاتا تو ہمارا ملک صنعتی ملکوں میں شامل ہوجاتا اور صنعتی کلچر کے فروغ سے قبائلی اور سرداری نظام میں تبدیلی آتی اور عوام تعلیم کی اہمیت سے نہ صرف آگاہ ہوتے بلکہ نئی نسلیں اسکولوں کو جلانے، اسکولوں کو بموں سے اڑانے کے بجائے نئے اسکول بنانے اور تعلیم کی ضرورت سے عوام کو آگاہ کرتی نظر آتیں۔

ہمارے ملک میں جاگیردارانہ نظام اس قدر مضبوط اور طاقتور ہے کہ کوئی سیاستدان کوئی مذہبی رہنما اس کے خلاف بغاوت کرنے کے بجائے ان سے اتحاد کرنے، انھیں اپنی سیاسی طاقت میں اضافے کا ذریعہ سمجھنے پر مجبور ہے اور اسی ذہنیت کی وجہ سے یہ نظام اور مستحکم ہورہا ہے۔ جاگیردار طبقہ ہمارے ملک میں نہ صرف سیاست اور اقتدار پر قابض ہے بلکہ جمہوریت کا سب سے بڑا علمبردار بنا بیٹھا ہے، اس طبقے کی جمہوریت پسندی کا عالم یہ ہے کہ ایوب خان نے جب زرعی اصلاحات کے ذریعے اس طبقے سے لاکھوں ایکڑ زمینیں چھین لیں تو انھیں جمہوریت پسند طبقے نے محض اپنی چھینی ہوئی زمینیں واپس لینے کے لیے مسلم لیگ کو دو ٹکڑوں میں بانٹ دیا اور ایک دھڑا کنونشن لیگ کے نام سے بناکر ایوب خان کی خدمت میں پیش کردیا اور ایوب خان اس کنونشن لیگ کے پردے میں حکومت کرتا رہا۔

اسی مارشل لاء مخالف طبقے نے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف 1977 میں وہ فراڈ تحریک چلائی جس کی امریکا نے سرپرستی کی اور تحریک چلانے والوں پر ڈالروں کی بارش کردی۔ 1977 کے الیکشن میں صرف چند سیٹوں پر دھاندلی کا الزام تھا، بھٹو نے اکثریتی نشستیں حاصل کرلی تھیں اس کے باوجود اس بد دیانت طبقے نے بھٹو کے خلاف نہ صرف جمہوری تحریک چلائی بلکہ ضیاء الحق جیسے جمہوریت اور بھٹو کے قاتل کی حکومت کا حصہ بن گئے، اس کے بعد یہ سلسلہ مشرف دور تک چلتا رہا، مشرف نے جب اقتدار سنبھالا تو جاگیردار طبقے نے مٹھائیاں بانٹیں اور پھر مسلم لیگ (ق) کو مشرف کی خدمت میں پیش کیا اور اس فوجی حکومت میں دس سال تک شامل رہے۔

بین الاقوامی سطح پر اگر ہم اس طبقے کی ''جمہوریت پسندی'' پر نظر ڈالیں تو یورپ کا طویل ترین کلیسائی نظام ہمارے سامنے آتا ہے، سیکڑوں سال پر محیط اس کلیسائی دور میں کلیسائی نظام کے دو پارٹنروں میں ایک پارٹنر سچی قیادت تھی، دوسری جاگیردار طبقہ تھا، اس اچھوتے کولیشن نے نہ صرف عوام کی مذہبی قیادت اپنے ہاتھوں میں لے لی بلکہ اقتدار پر بھی قبضہ کرلیا، اس دو طرفہ قبضے نے یورپ کو پسماندگی اور کلیسائی مظالم اور بدعنوانیوں اور پرکاریوں کے ایسے دلدلوں میں دھکیل دیا کہ یورپ کے عوام چیخ پڑے اور اس جاگیردار اور پادری اتحاد کے خلاف وہ انقلابی تحریک چلائی جو دنیا میں تحریک اصلاح کے نام سے مشہور ہے۔

یورپ کے عوام نے اس گٹھ جوڑ کے خلاف ایک طویل جنگ لڑی اور بے پناہ قربانیوں کے بعد یہ جنگ جیتی، کلیسائی نظام کے خاتمے اور بھاپ کی دریافت نے یورپ کو ترقی کی اس راہ پر ڈال دیا جس پر چل کر یورپ اس ناقابل یقین صنعتی سائنس و ٹیکنالوجی ترقی کی معراج پر پہنچا جس کا مشاہدہ ساری دنیا کررہی ہے۔ اس ترقی کی راہ میں مذہبی قیادت اور جاگیردار طبقہ صدیوں تک دیوار کی طرح حائل رہا۔ کیا پاکستان عشروں سے اس طرح کے کولیشن کا سامنا نہیں کررہا ہے، کیا پاکستان کی ترقی کے راستے میں ایسا ہی کلیسائی نظام حائل نہیں ہے؟ اس صورتحال پر سنجیدگی سے غور کی ضرورت ہے!
Load Next Story