پاکستان میں قیمتی پتھروں کے اربوں ٹن کے قدرتی ذخائر حکومتی توجہ کے منتظر

ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی نےبلوچستان کے جیم اینڈ جیولری سیکٹر کی کسی بڑی کمپنی کو غیرملکی نمائش میں شرکت کا موقع نہیں دیا

بیرون ملک ہونے والی نمائشوں میں بلوچستان کے حقیقی تاجروں کو نظر انداز کرکے غیرمتعلقہ لوگوں کو نوازا جاتا ہے۔ فوٹو: فائل

KARACHI:
وفاقی وزارت تجارت کے ادارے ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی اور جیم اینڈ جیولری ڈیولپمنٹ کمپنی پاکستان میں پائے جانے والے قیمتی اور نیم قیمتی پتھروں کی صنعت پر توجہ دے تو پاکستان کے تمام اندرونی اور بیرونی قرضے صرف ایک پتھر کی تجارت سے ختم کرکے ملک کو مضبوط معیشتوں میں شامل کیا جاسکتا ہے۔

کراچی میں ہونیوالی جیم اینڈ جیولری نمائش میں شریک بلوچستان، گلگت بلتستان اور بلوچستان کے تاجروں اور ایکسپورٹرز نے ایکسپریس کو بتایا کہ گلگت بلتستان اور بلوچستان میں دنیا کے بہترین قیمتی اور نیم قیمتی پتھروں کے وسیع ذخائر موجود ہیں تاہم یہ ذخائر آج بھی 200سال پرانے طریقے سے بارود کے ذریعے دھماکہ کرکے نکالے جاتے ہیں جن سے 95فیصد ذخائر ضائع ہوتے ہیں اور صرف 5فیصد پتھر ہی حاصل ہوتا ہے جو بغیر کسی ویلیو ایڈیشن کے 100فیصد خام شکل میں فروخت کیا جاتا ہے۔

بلوچستان کے تاجر محمد ابراہیم لنگونے بتایا کہ صرف چاغی میں 100اقسام کے Calciteاسٹون، 20اقسام کے معدنی پتھر، 50 نیم قیمتی اور 20اقسام کے قیمتی پتھروں کے اربوں ٹن کے ذخائر موجود ہیں تاہم متعلقہ اداروں کی بے توجہی اور نمائشی سرگرمیوں کے سبب یہ ذخائر پہاڑ کی شکل میں کھڑے ملک اور قوم کی حالت پر افسوس کررہے ہیں، محمد ابراہیم کے مطابق بلوچستان کے قیمتی اور نیم قیمتی پتھروں میں سے 95فیصد پتھر مائننگ کے فرسودہ طریقے کے سبب ضائع ہورہا ہے اور 5فیصد پتھر بھی مقامی سطح پر کٹنگ پالشنگ کی جدید سہولتون کے فقدان اور تربیت یافتہ ہنرمندوں کی کمی کے سبب خام شکل میں ہی تین سے چار مڈل مینز کے ذریعے مقامی مارکیٹ میں فروخت ہورہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے قدرتی وسائل بالخصوص قیمتی اور نیم قیمتی پتھروں کی صنعت کے لیے جیم اینڈ جیولری ڈیولپمنٹ کمپنی نمائشی سرگرمیاں انجام دے رہی ہے۔ پتھروں کی تراش خراش کے لیے ماہر ہنرمند تیار کرنے میں 5سال کا عرصہ لگتا ہے تاہم جیم اینڈ جیولری ڈیولپمنٹ کمپنی یہ ماہرین صرف 40روز کی تربیت سے تیار کررہی ہے جن کے ہاتھوں تراشے گئے پتھر مقامی مارکیٹ میں بھی بمشکل فروخت ہوتے ہیں اور بیرونی خریدار بھی ان پتھروں کی خام پتھر کے برابر قیمت لگاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ خاران سے 30کلو میٹر کے فاصلے پر بلیو گرینائٹ کے اربوں ٹن کے ذخائر موجود ہیں جس کی بین الاقوامی مارکیٹ میں بہت ڈیمانڈ ہے بالخصوص فار ایسٹ ممالک میں اس پتھر کو مذہبی اہمیت حاصل ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے تاجروں کو ٹیکنالوجی، مہارت کے ساتھ مارکیٹنگ میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔




بیرون ملک ہونے والی نمائشوں میں بلوچستان کے حقیقی تاجروں کو نظر انداز کرکے غیرمتعلقہ لوگوں کو نوازا جاتا ہے۔ ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی نے آج تک بلوچستان کے جیم اینڈ جیولری سیکٹر کی کسی بڑی کمپنی کو غیرملکی نمائش میں شرکت کا موقع نہیں دیا اسی طرح جیم اینڈ جیولری ڈیولپمنٹ کمپنی کے کسی رکن نے آج تک بلوچستان میں کسی بھی قیمتی یا نیم قیمتی پتھر کی کان کی شکل تک نہیں دیکھی۔ انہوں نے اس تاثر کو غلط قرار دیا کہ بلوچستان میں سیکیوٹی کے مسائل معدنی وسائل کو بروئے کار لانے میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا منصوبوں میں مقامی افراد کو روزگار فراہم کیا جائے تو ہر قسم کے مسائل ختم کیے جاسکتے ہیں۔

نمائش میں شریک گلگت بلتستان کے تاجر افتخار حسین نے بتایا کہ قیمتی اور نیم قیمتی پتھر ابھی تک قدیم طریقے سے نکالے جارہے ہیں 70فیصد سے زائد ضایع ہوتے ہیں اور ہاتھ لگنے والا پتھر بھی زیادہ تر خام شکل میں ایکسپورٹ کیا جارہا ہے اس علاقے میں سیاحوں کی آمد میں کمی کے باعث قیمتی اور نیم قیمتی پتھروں کی صنعت بھی بری طرح متاثر ہورہی ہے۔ اس علاقے سے صنعتی استعمال کے لیے معدنی پتھر مائکا اور ٹالکم بھی نکالے جاتے ہیں جن کی دنیا بھر میں بہت مانگ ہے تاہم حکومتی سطح پر کسی قسم کی سہولت فراہم نہ کیے جانے سے ان ذخائر کو قومی مفاد میں استعمال نہیں کیا جارہا۔

انہوں نے بتایا کہ زیادہ تر چین سے آنے والے تاجر اور یورپی جاپانی سیاح ان پتھروں کے خریدار ہیں لیکن حالات خراب ہونے سے سیاحوں کی آمد میں کمی سے یہ صنعت دشواری کا شکار ہے۔ گلگت بلتستان کے علاقے کے تاجروں کے پاس بھی بیرون ملک بڑی تجارتی نمائشوں میں شرکت کے وسائل نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گلگت بلتستان سے بھی کسی ایکسپورٹر کو بیرون ملک ہونے والی نمائش میں شرکت کا موقع نہیں دیا گیا اور تاجر ملک میں ہونے والی نمائشوں میں ہی شرکت تک محدود ہیں پاکستان میں قیمتی یا نیم قیمتی پتھروں کی مارکیٹ بہت محدود ہے اس لیے مقامی نمائشوں میں شرکت سے انڈسٹری کو کوئی فائدہ نہیں پہنچ رہا۔ انہوں نے بتایا کہ گلگت بلتستان میں پتھروں سے گھریلو سطح پر زیورات تیار کیے جاتے ہیں۔ اس صنعت کو ترقی دے کر ان علاقوں سے غربت اور پسماندگی کا مکمل خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔
Load Next Story