ہمیں دیوار سے لگایا جا رہا ہے بات بغاوت تک پہنچ سکتی ہے فضل الرحمٰن

قوم ہمارے ساتھ ہے بغاوت جیسے حالات کی ذمے داری ریاستی داروں پرعائد ہوگی،سیاست کومذاق بنا دیا گیا، سربراہ جے یو آئی(ف)

34 آف شورکمپنیاں رکھنے والوں کوعمران پناہ دیے ہوئے ہیں، ایسے احتساب پرکون اعتمادکرے گا، کانفرنس سے خطاب۔ فوٹو: فائل

جمعیت علمائے اسلام ف کے قائد مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ بیورو کریسی اور اسٹیبلشمنٹ ملک میں بغاوت کے حالات پیدا کر رہی ہے، میرے راستے کو روکا جا رہا ہے، اس لیے آج میں ان سے اختلاف کرتا ہوں کل بات بغاوت تک پہنچ سکتی ہے۔

لکی مروت میں اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ روشن خیال اور مادر پدر آزاد لوگ ہمارامقابلہ نہیں کر سکتے۔ پاکستان میں ہم مذہبی فکر اور مذہبی تہذیب کے حوالے سے ہم ان پرغالب ہیں وہ قوتیں جو مذہب سے بیزار ہیں، اپنے آپ کو روشن خیال کہتے ہیں، مادر پدر آزاد فکرکے حامل یہ لوگ ہمارا مقابلہ نہیں کرسکتے۔

فضل الرحمن نے کہا کہ ظاہری بات ہے کہ اگریہ بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ ان بے دین اورلادین عناصر کی پشت پر نہ کھڑی ہو، ان کی سرپرستی نہ کررہی ہو تویہ پاکستان میں دو دن حکومت نہیں کرسکتے، اس کی بنیادپرہم ریاستی اداروں کوکہناچاہتے ہیں کہ ہمیں دیوارسے نہ لگایاجائے ،قوم ہمارے ساتھ ہے ،میری قوم کی نمائندگی کو تسلیم کرنا پڑے گا، میرے راستے کونہ روکا جائے اوراگر چوری سے میرے راستے کوروکاگیا تو آج اختلاف ہے کل یہ بات بغاوت تک پہنچ سکتی ہے۔ اس ملک میں بغاوت کے حالات کی ذمہ داری آپ کے رویئے ہونگے۔ میری جنگ نظریاتی ہے۔


مولانافضل الرحمن نے سیف اللہ برادران کانام لئے بغیرکہاکہ نوازشریف پر چوری کا دعویٰ ہے جبکہ پاکستان میں سب سے زیادہ 34 آف شورکمپنیاں رکھنے والوں کو عمران خان اپنے دامن میں پناہ دیئے ہوئے ہیں، ایسے احتساب پرکون اعتمادکرے گا، سیاست کومذاق بنادیاگیاہے، کوئی سنجیدگی نہیں رہی، ایک دوسرے کوچورکہاجارہاہے۔

سربراہ جے یو آئی (ف) نے کہا کہ نوازشریف کو عدالتوں میں گھسیٹا جارہا ہے جبکہ لکی مروت کے خوانین کو تحریک انصاف میں پناہ دی جائے یہ کونسااحتساب ہے، کہاں گیاتمہارااحتساب، قوم سے کیوں جھوٹ بولتے ہو،پی ٹی آئی نے ایک اتحادی پارٹی کواقتدارسے نکالا اور پھر گھر جا کر معافی مانگی اوردوبارہ شامل کرلیا، 350ڈیم بنانے کااعلان کیااور ایک ڈیم تک نہ بناسکے۔

فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت میں بدعنوانی عروج پر رہی، چیف سیکریٹری نے صوبائی حکومت کی بدعنوانیوںکیخلاف خط لکھا اور صوبائی حکومت کی بے قاعدگیوں اور بدعنوانیوں کی فہرست پیش کی اورمستعفی ہوکرچلاگیا لیکن کسی ادارے نے اس بڑے خط کی تحقیقات نہیں کی۔ پیڈوکے چیئرمین ،بورڈآف گورنرکے سربراہ نے کرپشن کی وجہ سے استعفیٰ دیا اور پھر بھی کرپشن کیخلاف جنگ کانعرہ لگاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی حکومت نے ایک ارب درخت لگانے کیلیے اربوں روپے مختص کیے لیکن صرف بیس کروڑ درخت لگائے، اربوں روپے لوٹے گئے، کوئی ادارہ ہے کہ ان کااحتساب کرے، کوئی حساب دینے کوتیار ہے اور نہ ہی کوئی احتساب کرنے کو تیار ہے۔ بعد ازاں پیر ذوالفقار نقشبندی اورمولانافضل الرحمن نے فضلا کی دستاربندی کی۔
Load Next Story