معاشی عدم تحفظ پاکستانی کرکٹرز کیریبیئن لیگ میں شرکت کیلیے بے قرار

بنگلہ دیشی اورانڈین لیگزمیں بھاری کمائی سےمحروم پلیئرزدورئہ جنوبی افریقہ کی میچ فیس اوراسپانسرکی رقم پانے کےمنتظر.

ایونٹ کے منتظمین اسٹار آل رائونڈر شاہد آفریدی، شعیب ملک،سعید اجمل،جنید خان، احمد شہزاد سمیت چند پاکستانی اسٹارز سے رابطہ بھی کرچکے ہیں،ذرائع. فوٹو: اے ایف پی

معاشی عدم تحفظ کا شکار پاکستانی کرکٹرز کیریبیئن ( ویسٹ انڈین ) پریمیئر لیگ میں شرکت کیلیے بے قرار ہوگئے۔

بنگلہ دیشی اور انڈین لیگز میں بھاری کمائی سے محروم رہنے والے کھلاڑی تاحال دورئہ جنوبی افریقہ کی میچ فیس اور اسپانسر لوگو کی مد میں ملنے والی رقم کی ادائیگی کے منتظر ہیں، سینٹرل کنٹریکٹ کے معاملات میں تاخیر بھی پریشانی کا سبب بن گئی، بھاری معاوضے پر کوچنگ اسٹاف رکھنے والے پی سی بی کی طرف سے تنخواہوں میں اضافہ کیے جانے کی امیدیں مایوسی میں بدلنے لگیں، پلیئرز کے خدشات ہیں کہ گزشتہ معاہدے کی طرح اس بار بھی چیمپئنز ٹرافی سے قبل عین وقت پر افراتفری میں دستخط کروالیے جائیں گے۔

ویسٹ انڈیز میں اولین ٹوئنٹی20ایڈیشن کیلیے محمد حفیظ حامی بھر چکے، کئی پلیئرز کو فرنچائزز میں شمولیت کی پیش کش بھی ہو چکی ہے، این او سی کیلیے بورڈ کا گرین سگنل بے چینی ختم کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بھارت کی طرف سے کشیدہ تعلقات کا ملبہ کھیلوں پر گرائے جانے کے منفی رجحان نے پاکستانی کرکٹرز کو آئی پی ایل کی بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے سے محروم رکھا ہے، بنگلہ دیش کی بار بار وعدہ خلافیوں کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے کرکٹرز کو پریمیئر لیگ کیلیے این او سی دینے سے انکار کرکے اپنا غصہ تو ٹھنڈا کیا مگر کھلاڑیوں کو بھاری مالی نقصان برداشت کرنا پڑا۔

دوسری طرف قومی کرکٹرز کو صرف دورئہ جنوبی افریقہ کی میچ فیس بلکہ اسپانسر لوگو کی رقم بھی موصول نہیں ہوسکی، سینٹرل کنٹریکٹ کے معاملات ہوا میں معلق ہونے کی وجہ سے بھی پلیئرز معاشی عدم تحفظ کا شکار نظر آتے ہیں، کئی کھلاڑیوں نے معاوضوں میں اضافہ نہ کیے جانے کی اطلاعات پر مایوسی کااظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف کوچ ڈیو واٹمور 15اور فیلڈنگ کوچ جولین فونٹین 8 لاکھ روپے ماہانہ وصول کررہے ہیں جبکہ جن کرکٹرز کی وجہ سے ساری رونقیں اور ذرائع آمدن برقرار ہیںان کی معاشی آسودگی کو بری طرح نظر انداز کیا جارہا ہے۔




یاد رہے کہ پی سی بی نے گذشتہ سینٹرل کنٹریکٹ کے معاملات کو بھی غیر معمولی تاخیر کا شکار کرنے کے بعد دورئہ بھارت سے قبل اچانک دستخط کروانے کی مہم شروع کردی تھی، کئی نے تو ٹور شروع ہونے پر کاغذات واپس بھجوائے، ذرائع کے مطابق ایک بار پھر فہرستوں کی تیاری میں غورو فکر کے نام پر تاخیری حربہ استعمال کرنے کے بعد چیمپئنز ٹرافی سے قبل کنٹریکٹ پانے والوں کے ناموں کا اعلان کردیا جائے گا اور پلیئرز افراتفری میں اپنے وکلاء سے مشاورت کیے بغیر دستخط کرنے پر مجبور ہوں گے، بے چینی میں مبتلا کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کے پروفیشنل کرکٹرز کے برعکس ہمارے پاس لیگز کھیلنے کے مواقع کئی ناگزیر وجوہات کی بنا پر محدود ہوچکے، موجودہ صورتحال میں کیریبیئن اور سری لنکن لیگ کے ذریعے مالی آسودگی حاصل ہوسکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ منتظمین دونوں لیگز کی تاریخیں متصادم ہونے کا بھی کوئی نہ کوئی حل نکال ہی لیں گے، کھلاڑیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہمارے کرکٹرز کا ویسٹ انڈین ایونٹ میں شرکت کرنا پاکستان سپر لیگ کیلیے بھی فائدہ مند ہوگا،انگلینڈ، آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ سے زیادہ پلیئرز کے آنے کی توقع نہیں، بنگلہ دیش سے تعلقات بھی بگڑ چکے، اس صورت میں ویسٹ انڈین اور سری لنکن اسٹارز ہمارے میدانوں کی رونقیں بڑھا سکتے ہیں، ہم اپنے ملک کے سفیر بن کر نہیں جائیں گے تو دوسرے بورڈز اپنے کرکٹرز کو کیسے آنے دیں گے۔

ذرائع کے مطابق کیریبیئن پریمیئر لیگ کے منتظمین شاہد آفریدی، شعیب ملک، سعید اجمل، جنید خان، احمد شہزاد سمیت چند پاکستانی اسٹارز سے رابطہ بھی کرچکے ہیں، تاہم اس ضمن میں این او سی کے حوالے سے کچھ بھی یقینی طور پر نہیں کہا جاسکتا، بورڈ ذرائع کے مطابق ابھی تک محمد حفیظ نے بھی شرکت کی حامی بھری ہے، دیگر کئی امور پر غور کرکے وقت آنے پر فیصلہ کرینگے، دیگر کرکٹرز کی بے چینی اپنی جگہ مگر این او سی کے حوالے سے ابھی حتمی طور پر کوئی بات نہیں کی جاسکتی، قومی ٹیم کی انٹرنیشنل مصروفیات اور سری لنکن لیگ سمیت دیگر معاملات دیکھ کر ہی کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔
Load Next Story