عمر کم لکھوانے والے سرکاری ملازمین کی چھان بین شروع

محکمہ تعلیم میں سرد خانے کی نذرکیے گئے کیس ایک بار پھرکھولے جا رہے ہیں

پروفیسرصلاح الدین ثانی سمیت دیگر کی عمر کے کیس پر دوبارہ انکوائری کرانے پر غور فوٹو: فائل

حکومت سندھ نے ملازمت کے لیے عمرکم کر کے تاریخ پیدائش لکھوانے والے ملازمین کے معاملے کی چھان بین شروع کردی۔


اس سلسلے میں تعلیم کے محکموں (اسکول و کالج ایجوکیشن) میں موجود ایسے کیسزکی جانچ پڑتال کے ساتھ ساتھ سرکاری ریکارڈ میں عمرکم کرکے لکھوانے والے ملازمین کے خلاف کارروائی کا اصولی فیصلہ کرلیا۔ ماضی میں اس سلسلے میں کئی گئی تحقیقات کوسرد خانے کی نذرکیے گئے کیسز ایک بار پھرکھولے جارہے ہیں '' ایکسپریس'' کوحکومت سندھ کے ذرائع نے بتایا کہ محکمہ کالج ایجوکیشن میں گورنمنٹ شپ اونرکالج کے پرنسپل پروفیسرصلاح الدین ثانی سمیت دیگر کی عمرکے کیسز پر دوبارہ انکوائری کرانے پرغور ہورہا ہے ، ماضی میں یہ کیسز دبا دیے گئے تھے، یاد رہے کہ حکومت سندھ کی جانب سے قائم ''چیف منسٹر انسپکشن ، انکوائریز اینڈ امپلیمنٹیشن ٹیم'' نے پروفیسرصلاح الدین ثانی کی سرکاری ریکارڈ میںاصل عمر چھپانے اوراس کی مدت میں کمی کے معاملے پر تحقیقات شروع کی تھی۔

اس سلسلے میں ستمبر2016 میں محکمہ تعلیم کی جانب سے ڈائریکٹرجنرل کالجزکو بھجوائے گئے ایک خط میں معاملے کی تحقیقات کرکے '' کمنٹس'' بھجوانے کی ہدایت کی گئی تھی، اس وقت کے ڈائریکٹرکالجزکی جانب سے معاملے پرانکوائری کرنے کے بجائے اسے سرد خانے کی نذرکردیا گیا تھا ،ذرائع کے مطابق اب حکومت سندھ کی جانب سے معاملے کی ایک بار پھرچھان بین کا فیصلہ کیا گیا ہے، پروفیسرصلاح الدین ثانی کا کہنا تھا کہ سرکاری ریکارڈ میں عمر کم نہیں کرائی نہ ہی ان کے خلاف کبھی انکوائری ہوئی ہے ،ایک پروفیسر ان کے خلاف غلط خبریں پھیلارہے ہیں۔
Load Next Story