گڈ لک گرین کیپس مگر
سیریز میں اظہرعلی کے ساتھ اسد شفیق اور سرفراز احمدکو زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا
سیریز میں اظہرعلی کے ساتھ اسد شفیق اور سرفراز احمدکو زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ فوٹو :فائل
کراچی کی تیز دھوپ میں اس وقت بغیر کام کے گھر سے نکلنے کا شاید کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا مگر یو بی ایل اسپورٹس کمپلیکس میں ایک نوجوان گراؤنڈ کے چکر لگا رہا تھا، پسینے میں شرابور ہو کر کچھ دیر بعد وہ واپس آیا اور ٹرینر سے پوچھنے لگا '' کتنا ٹائم لیا میں نے'' اس نے جواب دیا تو کہا کہ نہیں یہ زیادہ ہے پھر کوشش کرتا ہوں، یہ کہہ کر وہ پھر دوڑنے لگا۔
یہ کسی اورکا نہیں بلکہ قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کا ہی ذکر ہو رہا ہے جو چند روز قبل اس انداز سے ٹریننگ کر رہے تھے، پھر لاہور کے گرم موسم میں بھی کیمپ لگا، اب سرفراز سمیت پوری ٹیم پاکستان سے بالکل مختلف موسم میں سیریز کھیلنے برطانیہ پہنچ چکی ہے، کنڈیشنز سے جلد ہم آہنگ ہونا اس کیلیے سب سے بڑا چیلنج ہوگا، البتہ چند روز پہلے پہنچ کر ٹریننگ اور دو وارم اپ میچز مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔
اس بار ابتدا اچھی نہیں ہوئی ہے، دور کپتانی میں ڈکٹیٹر کا لقب پانے والے انضمام الحق اب چیف سلیکٹر بن کر بھی وہی رویہ اپنائے ہوئے ہیں، انھوں نے سلیکشن میں من مانیاں کیں اور فواد عالم سمیت کئی باصلاحیت کرکٹرز کو لفٹ نہ کرائی، اس کا خمیازہ ٹیم کو بھگتنا پڑ سکتا ہے، میڈیا منیجر عون زیدی نے کل ٹیم کی کینٹربری سے کچھ تصاویر بھیجیں، گروپ فوٹو دیکھ کر میرے ذہن میں پھر وہی بات آئی کہ اسکواڈ میں بیشتر کھلاڑی ناتجربہ کار ہیں، اس کی دلچسپ منطق چیف سلیکٹر صاحب نے یہ دی کہ ''اگلے سال ورلڈکپ انگلینڈ میں ہوگا اس لیے نوجوانوں کو تجربہ حاصل کرنے بھیجا ہے''۔
اس باردورئہ برطانیہ کا آغاز آئرلینڈ کے اولین ٹیسٹ سے ہو رہا ہے جسے کمزور سمجھنا احمقانہ بات ہوگی،اپنی سرزمین پر وہ ٹف ٹائم دینے کے قابل ہے، خصوصاً بولرز سے ہوشیار رہنا ہوگا جو انگلش کاؤنٹی کرکٹ کے تجربے کی وجہ سے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
میں 2016میں پاکستان کے آخری انگلش ٹیسٹ ٹور کی کوریج کیلیے گیا تھا، اس وقت لارڈز ٹیسٹ سے سیریزکاآغاز ہوا، مصباح الحق کی زیرقیادت گرین کیپس نے 75 رنز سے کامیابی حاصل کی، میچ کے بعد پش اپس تو اب تک شائقین کو یاد ہوں گے، کپتان کی سنچری کے ساتھ یاسر شاہ کی عمدہ بولنگ کا فتح میں اہم کردار تھا، مگر اب وہ انجری کے سبب ٹیم میں شامل نہیں۔
بولنگ پر پابندی کے بعد سے محمد حفیظ بھی مینجمنٹ کا اعتماد کھو بیٹھے، سب سے بڑا فرق مصباح اور یونس خان جیسے اسٹارز کا نہ ہونا ہی ہے،فاتح اسکواڈ کے شان مسعود اور وہاب ریاض بھی اس ٹور کے دستے میں شامل نہیں،اظہر علی، اسد شفیق، سرفراز احمد، راحت علی اور محمد عامر ہی وہ کھلاڑی ہیں جو گذشتہ لارڈز ٹیسٹ بھی کھیلے تھے، اب تک یہ بھی پکا نہیں کہ اظہر کے ساتھ اوپننگ کون کرے گا۔
مجھے ڈر ہے کہ کہیں نیوزی لینڈ کی طرح امام الحق انگلینڈ میں بھی ''ان فٹ '' نہ ہو جائیں، فخرزمان مختصر طرز میں صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے مگر ٹیسٹ بالکل مختلف گیم ہے،قائد اعظم ٹرافی کے چار روزہ میچز میں حاصل شدہ تجربہ ٹیسٹ میں کیسے ان کے کام آتا ہے یہ دیکھنا دلچسپی سے خالی نہ ہو گا، اسی طرح سمیع اسلم گوکہ گذشتہ دورئہ انگلینڈ کے ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل رہے اور بطور اوپنر برمنگھم ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں نصف سنچریاں بھی بنائیں مگر ان کی کارکردگی میں تسلسل کا فقدان ہے،آخری12 اننگز میں ان کی صرف2 ہی نصف سنچریاں ہیں،کیریئر کے 13 ٹیسٹ میں وہ کوئی سنچری نہیں بنا سکے جو کسی ٹاپ آرڈر بیٹسمین کیلیے یقیناً تشویش کی بات ہے، سمیع ایک بڑی اننگز کے بعد کئی میں ناکام اور پھر نصف سنچری بنا دیتے ہیں،البتہ موجودہ آپشنزمیں وہی بہتر انتخاب ثابت ہو سکتے ہیں ۔
سیریز میں اظہرعلی کے ساتھ اسد شفیق اور سرفراز احمدکو زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا کیونکہ اب ڈریسنگ روم میں مصباح اور یونس موجود نہیں ہوں گے جو مشکل صورتحال میں ٹیم کو سنبھالیں، سعد علی اور عثمان صلاح الدین ڈومیسٹک کرکٹ میں صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے مگر اب کیریئر کا آغاز مشکل انگلش کنڈیشنز میں کرنا ہوگا، دیکھنا ہوگا کہ یہ دونوں کیسا پرفارم کرتے ہیں، بابراعظم کی سلیکشن پر خاصی تنقید ہو رہی ہے، ٹیسٹ میں واقعی وہ زیادہ کامیاب ثابت نہیں ہوئے ہیں،البتہ ان میں اتنا ٹیلنٹ موجود ہے کہ انگلینڈ میں ٹیم کیلیے کارآمد ثابت ہو سکیں، بولنگ میںسب سے بڑا نقصان یاسر شاہ کی عدم موجودگی ہے ،انگلش سرزمین پر گذشتہ سیریز ڈرا کرانے میں ان کا اہم کردار تھا، شاداب خان خاصے ناتجربہ کار مگر اب انہی پر انحصار کرنا ہوگا، پیس اٹیک میں وہاب ریاض کو شامل نہیں کیا گیا اور عامر نہ چاہتے ہوئے بھی ٹیسٹ کرکٹ کھیلیں گے۔
عباس گوکہ کاؤنٹی کرکٹ کھیل رہے تھے مگر اس دوران کارکردگی غیرمعمولی نہیں رہی، حسن علی اور فہیم اشرف محدود اوورز میں تو کامیاب ہیں مگر ٹیسٹ بالکل مختلف کرکٹ ہے، اس میں انھیںاور زیادہ جان لڑانا ہوگی، راحت علی حریف بیٹسمینوں کیلیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں، اگر ہم کاغذ پر دیکھیں تو پاکستانی ٹیم میں زیادہ دم خم نظر نہیں آتا، زیادہ تر نوجوان کھلاڑی موجود ہیں مگر یہی کرکٹ کی خوبی ہے، انہی ناتجربہ کار کھلاڑیوں میں سے اچانک کوئی سنچری بنا کر یا پانچ وکٹیں لے کے ہیرو بن جائے گا، ہمیں بھی ایسی مثبت توقعات رکھنی چاہئیں، ساتھ یہ بات بھی یاد رکھیںکہ انگلش ٹیم ناقابل تسخیرنہیں، ویسٹ انڈیز تو بیحد کمزور سائیڈ شمار ہوتی ہے، گذشتہ برس اس نے بھی انگلینڈ میں ایک ٹیسٹ جیت لیا تھا تو ہم کیوں فتح حاصل نہیں کر سکتے، انگلینڈ کو ایشز سیریز میں 0-4 اور نیوزی لینڈ کیخلاف 0-1 سے شکست ہوئی۔
اس کا مورال اتنا بلند نہیں ہوگا اس کا پاکستانی ٹیم فائدہ اٹھا سکتی ہے،مجھے ڈر صرف اس بات کا ہے کہ اس بار میچز جلدی ہو رہے ہیں، 2016میں تو اچھی خاصی گرمی تھی اور پسینے چھوٹ رہے تھے البتہ ابھی موسم سرد اور پچز نئی ہیں،ایسے میں سوئنگ بولنگ پر ہمارے بیٹسمینوں کو مشکل پیش آ سکتی ہے، انھیں احتیاط سے کھیلنا ہوگا،ہمارے بولرز کیلیے یہ پلس پوائنٹ ہے، عامر،راحت ، عباس، فہیم جسے بھی موقع ملے وہ انگلینڈ کو پریشان کر سکتا ہے، سرفراز احمد ٹیسٹ میں کپتانی کا زیادہ تجربہ نہیں رکھتے البتہ ان کے حوصلے بلند ہیں،بھرپور اعتماد کے ساتھ میدان میں اتریں تو فتح حاصل ہو سکتی ہے، ہماری نیک تمنائیں بھی ٹیم کے ساتھ ہیں گڈ لک گرین کیپس۔
(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)
یہ کسی اورکا نہیں بلکہ قومی کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کا ہی ذکر ہو رہا ہے جو چند روز قبل اس انداز سے ٹریننگ کر رہے تھے، پھر لاہور کے گرم موسم میں بھی کیمپ لگا، اب سرفراز سمیت پوری ٹیم پاکستان سے بالکل مختلف موسم میں سیریز کھیلنے برطانیہ پہنچ چکی ہے، کنڈیشنز سے جلد ہم آہنگ ہونا اس کیلیے سب سے بڑا چیلنج ہوگا، البتہ چند روز پہلے پہنچ کر ٹریننگ اور دو وارم اپ میچز مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔
اس بار ابتدا اچھی نہیں ہوئی ہے، دور کپتانی میں ڈکٹیٹر کا لقب پانے والے انضمام الحق اب چیف سلیکٹر بن کر بھی وہی رویہ اپنائے ہوئے ہیں، انھوں نے سلیکشن میں من مانیاں کیں اور فواد عالم سمیت کئی باصلاحیت کرکٹرز کو لفٹ نہ کرائی، اس کا خمیازہ ٹیم کو بھگتنا پڑ سکتا ہے، میڈیا منیجر عون زیدی نے کل ٹیم کی کینٹربری سے کچھ تصاویر بھیجیں، گروپ فوٹو دیکھ کر میرے ذہن میں پھر وہی بات آئی کہ اسکواڈ میں بیشتر کھلاڑی ناتجربہ کار ہیں، اس کی دلچسپ منطق چیف سلیکٹر صاحب نے یہ دی کہ ''اگلے سال ورلڈکپ انگلینڈ میں ہوگا اس لیے نوجوانوں کو تجربہ حاصل کرنے بھیجا ہے''۔
اس باردورئہ برطانیہ کا آغاز آئرلینڈ کے اولین ٹیسٹ سے ہو رہا ہے جسے کمزور سمجھنا احمقانہ بات ہوگی،اپنی سرزمین پر وہ ٹف ٹائم دینے کے قابل ہے، خصوصاً بولرز سے ہوشیار رہنا ہوگا جو انگلش کاؤنٹی کرکٹ کے تجربے کی وجہ سے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔
میں 2016میں پاکستان کے آخری انگلش ٹیسٹ ٹور کی کوریج کیلیے گیا تھا، اس وقت لارڈز ٹیسٹ سے سیریزکاآغاز ہوا، مصباح الحق کی زیرقیادت گرین کیپس نے 75 رنز سے کامیابی حاصل کی، میچ کے بعد پش اپس تو اب تک شائقین کو یاد ہوں گے، کپتان کی سنچری کے ساتھ یاسر شاہ کی عمدہ بولنگ کا فتح میں اہم کردار تھا، مگر اب وہ انجری کے سبب ٹیم میں شامل نہیں۔
بولنگ پر پابندی کے بعد سے محمد حفیظ بھی مینجمنٹ کا اعتماد کھو بیٹھے، سب سے بڑا فرق مصباح اور یونس خان جیسے اسٹارز کا نہ ہونا ہی ہے،فاتح اسکواڈ کے شان مسعود اور وہاب ریاض بھی اس ٹور کے دستے میں شامل نہیں،اظہر علی، اسد شفیق، سرفراز احمد، راحت علی اور محمد عامر ہی وہ کھلاڑی ہیں جو گذشتہ لارڈز ٹیسٹ بھی کھیلے تھے، اب تک یہ بھی پکا نہیں کہ اظہر کے ساتھ اوپننگ کون کرے گا۔
مجھے ڈر ہے کہ کہیں نیوزی لینڈ کی طرح امام الحق انگلینڈ میں بھی ''ان فٹ '' نہ ہو جائیں، فخرزمان مختصر طرز میں صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے مگر ٹیسٹ بالکل مختلف گیم ہے،قائد اعظم ٹرافی کے چار روزہ میچز میں حاصل شدہ تجربہ ٹیسٹ میں کیسے ان کے کام آتا ہے یہ دیکھنا دلچسپی سے خالی نہ ہو گا، اسی طرح سمیع اسلم گوکہ گذشتہ دورئہ انگلینڈ کے ٹیسٹ اسکواڈ میں شامل رہے اور بطور اوپنر برمنگھم ٹیسٹ کی دونوں اننگز میں نصف سنچریاں بھی بنائیں مگر ان کی کارکردگی میں تسلسل کا فقدان ہے،آخری12 اننگز میں ان کی صرف2 ہی نصف سنچریاں ہیں،کیریئر کے 13 ٹیسٹ میں وہ کوئی سنچری نہیں بنا سکے جو کسی ٹاپ آرڈر بیٹسمین کیلیے یقیناً تشویش کی بات ہے، سمیع ایک بڑی اننگز کے بعد کئی میں ناکام اور پھر نصف سنچری بنا دیتے ہیں،البتہ موجودہ آپشنزمیں وہی بہتر انتخاب ثابت ہو سکتے ہیں ۔
سیریز میں اظہرعلی کے ساتھ اسد شفیق اور سرفراز احمدکو زیادہ ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا کیونکہ اب ڈریسنگ روم میں مصباح اور یونس موجود نہیں ہوں گے جو مشکل صورتحال میں ٹیم کو سنبھالیں، سعد علی اور عثمان صلاح الدین ڈومیسٹک کرکٹ میں صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے مگر اب کیریئر کا آغاز مشکل انگلش کنڈیشنز میں کرنا ہوگا، دیکھنا ہوگا کہ یہ دونوں کیسا پرفارم کرتے ہیں، بابراعظم کی سلیکشن پر خاصی تنقید ہو رہی ہے، ٹیسٹ میں واقعی وہ زیادہ کامیاب ثابت نہیں ہوئے ہیں،البتہ ان میں اتنا ٹیلنٹ موجود ہے کہ انگلینڈ میں ٹیم کیلیے کارآمد ثابت ہو سکیں، بولنگ میںسب سے بڑا نقصان یاسر شاہ کی عدم موجودگی ہے ،انگلش سرزمین پر گذشتہ سیریز ڈرا کرانے میں ان کا اہم کردار تھا، شاداب خان خاصے ناتجربہ کار مگر اب انہی پر انحصار کرنا ہوگا، پیس اٹیک میں وہاب ریاض کو شامل نہیں کیا گیا اور عامر نہ چاہتے ہوئے بھی ٹیسٹ کرکٹ کھیلیں گے۔
عباس گوکہ کاؤنٹی کرکٹ کھیل رہے تھے مگر اس دوران کارکردگی غیرمعمولی نہیں رہی، حسن علی اور فہیم اشرف محدود اوورز میں تو کامیاب ہیں مگر ٹیسٹ بالکل مختلف کرکٹ ہے، اس میں انھیںاور زیادہ جان لڑانا ہوگی، راحت علی حریف بیٹسمینوں کیلیے مشکلات پیدا کر سکتے ہیں، اگر ہم کاغذ پر دیکھیں تو پاکستانی ٹیم میں زیادہ دم خم نظر نہیں آتا، زیادہ تر نوجوان کھلاڑی موجود ہیں مگر یہی کرکٹ کی خوبی ہے، انہی ناتجربہ کار کھلاڑیوں میں سے اچانک کوئی سنچری بنا کر یا پانچ وکٹیں لے کے ہیرو بن جائے گا، ہمیں بھی ایسی مثبت توقعات رکھنی چاہئیں، ساتھ یہ بات بھی یاد رکھیںکہ انگلش ٹیم ناقابل تسخیرنہیں، ویسٹ انڈیز تو بیحد کمزور سائیڈ شمار ہوتی ہے، گذشتہ برس اس نے بھی انگلینڈ میں ایک ٹیسٹ جیت لیا تھا تو ہم کیوں فتح حاصل نہیں کر سکتے، انگلینڈ کو ایشز سیریز میں 0-4 اور نیوزی لینڈ کیخلاف 0-1 سے شکست ہوئی۔
اس کا مورال اتنا بلند نہیں ہوگا اس کا پاکستانی ٹیم فائدہ اٹھا سکتی ہے،مجھے ڈر صرف اس بات کا ہے کہ اس بار میچز جلدی ہو رہے ہیں، 2016میں تو اچھی خاصی گرمی تھی اور پسینے چھوٹ رہے تھے البتہ ابھی موسم سرد اور پچز نئی ہیں،ایسے میں سوئنگ بولنگ پر ہمارے بیٹسمینوں کو مشکل پیش آ سکتی ہے، انھیں احتیاط سے کھیلنا ہوگا،ہمارے بولرز کیلیے یہ پلس پوائنٹ ہے، عامر،راحت ، عباس، فہیم جسے بھی موقع ملے وہ انگلینڈ کو پریشان کر سکتا ہے، سرفراز احمد ٹیسٹ میں کپتانی کا زیادہ تجربہ نہیں رکھتے البتہ ان کے حوصلے بلند ہیں،بھرپور اعتماد کے ساتھ میدان میں اتریں تو فتح حاصل ہو سکتی ہے، ہماری نیک تمنائیں بھی ٹیم کے ساتھ ہیں گڈ لک گرین کیپس۔
(نوٹ: آپ ٹویٹر پر مجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)