پارلیمنٹ کے کرپٹ نمائندوں کے خلاف اقدام
ارکان پارلیمنٹ پر الزام ہے کہ انھوں نے سینیٹ کے انتخابات میں فی ووٹ چار، چارکروڑ کا ہدیہ لیا ہے۔
zaheer_akhter_beedri@yahoo.com
عمران خان نے پارلیمنٹ کے کرپٹ نمائندوں کے خلاف ایک مثبت اور سخت قدم اٹھا کر کرپشن روکنے کے حوالے سے ایک جرأت مندانہ اقدام کیا ہے ۔ اپنی ہی پارٹی کے ایک نہ دو بیس ارکان کو پارٹی سے نکالنا ہماری سیاست کے حوالے سے ایک بہت بڑا رسک ہے اور اس قسم کا رسک پیشہ ور سیاست دان نہیں لے سکتے لیکن ہمیں عمران خان کے اس اقدام سے شکایت ہے، وہ شکایت یہ ہے کہ خان صاحب نے یہ اقدام پری میچور اور غالباً عجلت میں اٹھایا ہے اگر یہ اقدام مذکورہ مہذب ارکان پارلیمنٹ کے خلاف سخت لیکن بلا امتیاز تحقیق کے بعد لیا جاتا تو ان مہذب اور فرشتہ صفت ارکان کی طرف سے وہ اعتراض نہیں اٹھتے جو اٹھائے جارہے ہیں۔
ارکان پارلیمنٹ پر الزام ہے کہ انھوں نے سینیٹ کے انتخابات میں فی ووٹ چار، چارکروڑ کا ہدیہ لیا ہے۔ چارکروڑ کوئی فکس قیمت نہیں بلکہ ہر شخص نے بقدر جثہ کمائی کی اور یہ کمائی اس لیے غلط نہیں کہ ہم جس نظام معیشت میں زندہ ہیں اس میں یہ ضمیر فروشی معمول کی بات ہے۔
ہمارے بعض اعلیٰ درجے اور صف اول کے پارلیمنٹیرین بڑے فخر سے فرماتے رہتے ہیں کہ پارلیمنٹ ملک کا سب سے بڑا اعلیٰ اور محترم ادارہ ہے یہ کرم فرما اعلیٰ عدلیہ سے اس کا مقابلہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جمہوریت میں پارلیمنٹ ہی ریاست کا سب سے سپریم ادارہ ہے۔ کیا سینیٹ کے انتخاب میں چار چار کروڑ کا نذرانہ وصول کرنے کے بعد بھی ہمارے پارلیمنٹیرین پارلیمنٹ کو ریاست کا سب سے بڑا معزز و محترم ادارہ ہونے پر اصرار کریںگے؟ سینیٹ کو ایوان بالا کہا جاتا ہے جس کی حرمت ایوان زیریں سے زیادہ ہوتی ہے، کیونکہ اس ادارے میں عوام کے نہیں خواص کے منتخب نمایندے قدم رنجا فرماتے ہیں۔
جن مہذب ارکان کو عمران خان نے پارٹی سے نکالنے کا اعلان کیا ہے وہ مشروط ہے انھیں پہلے شوکاز نوٹس دیے گئے ہیں۔ ان سے کہا گیا ہے کہ وہ ان الزامات کے جواب میں اپنی صفائی پیش کریں اگر صفائی تسلی بخش نہ ہوئی تو نہ صرف انھیں پارٹی سے نکال دیا جائے گا بلکہ ان کے کیسزکو تحقیق کے لیے نیب کے حوالے کردیا جائے گا۔ کسی بھی سیاسی پارٹی سے اگر ایک ممبر بھی بے وفائی کرجاتا ہے تو اس کا بڑا چرچہ ہوتا ہے اور میڈیا میں وکٹ گرنے کے تذکرے ہوتے ہیں لیکن ہمارے کرکٹ کے سابق اور سیاست کے موجودہ کپتان نے اپنے ہاتھوں سے اپنی مرضی سے 20 وکٹیں گرا کر ایک ایسا ریکارڈ قائم کیا ہے جس کی مثال سیاسی تاریخ میں نہیں ملتی۔
قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں بھی عوام کے ووٹوں کے سودے ہوتے ہیں لیکن یہ سودے اس ہوشیاری، اس راز داری کے ساتھ ہوتے ہیں کہ بے چارے ووٹرکو بھی اس کی خبر نہیں ہوتی۔ ہمارے معتوب وزیراعظم جنھیں اب سابق وزیراعظم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ووٹ کے تقدس کے بڑے حمایتی ہیں بلکہ ووٹ کا احترام کرو تحریک چلانے کی تیاری کررہے ہیں۔ پتہ نہیں ان کی نظروں سے 20 ارکان پارلیمنٹ کی چار چار کروڑ میں ایک ایک ووٹ کی خرید و فروخت کی خبر گزری ہے یا نہیں، اگر گزری ہے تو ان 20 ارکان پارلیمنٹرین کو ووٹ کا احترام کرو تحریک کا ہر اول دستہ بنانا چاہیے تاکہ تحریک انصاف کے ان 20 اکابرین ''قومی خدمت'' کا اعتراف ہو سکے۔
یہ مبینہ طور پر چار چارکروڑ سکۂ رائج الوقت لینے والے نہ مزدور ہیں، نہ کسان، نہ ان کا تعلق غریب طبقات سے ہے یہ لگژری زندگی گزارنے والے اشرافیہ کے کارندے ہیں۔ بنگلا، گاڑی، نوکر چاکر کی موجودگی کے باوجود مبینہ طور پر اپنے ضمیرکے سودے کرنے کا اس کے علاوہ کوئی جواز ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں اشرافیہ اور اس کے کارندوں کا واحد مقصد کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ دولت کمانا ہوتا ہے۔ ہمارے کرناٹک کے شہر بیدر میں آج سے 50 سال پہلے نہ سیوریج کا نظام تھا نہ گھروں میں باتھ روم ہوا کرتے تھے۔ بھنگی حضرات جنھیں اس زمانے میں ''مہتر'' کہا جاتا تھا جب گھروں سے باہر بہتے ہوئے بیت الخلاؤں میں فضلا اٹھانے آتے تھے تو اس کام کو مہذب زبان میں یہ کہا جاتا تھا کہ ''جمعدار ''کمانے'' آیا ہے۔ ہمارے جدید اور مہذب جمہوری دور میں عوام کے منتخب نمایندے قانون ساز اداروں میں جاتے ہیں تو کہاجاتا ہے کہ ''بھائی کمانے گیا ہے۔''
70 سالوں کے دوران جب بھی ملک میں انتخابات ہوئے دھاندلی کی صدائیں بلند ہوتی رہیں۔ 2013ء کے انتخابات تو ''ووٹ کی حرمت'' کی ایسی مثال ہیں جس کا جواب ماضی کی جمہوریت میں نہیں ملتا، آج کل ہمارے ملک میں جو سیاسی جنگ ہورہی ہے اس کی بنیادی وجہ بتائی جارہی ہے کہ ''ادارے اپنے دائرۂ کار'' سے تجاوز کر رہے ہیں اور اس حوالے سے مبینہ طور پر اہل سیاست کا اشارہ اعلیٰ عدلیہ کی طرف ہوتا ہے یہ الزام جمہوریت کے وہ زعما لگا رہے ہیں جو ''دائرۂ کار'' کے معنی سمجھنے کی زحمت ہی نہیں کرتے اور گھسے پٹے انداز میں اپنے بزرگوں کی اتباع کرتے ہیں۔
مثلاً موٹی سی بات ہے کہ حکومتوں کا کام منتخب حکومتوں کا دائرۂ کار عوام کے مسائل کا حل ہے، لیکن ہمارا حکمران طبقہ وہ بھی منتخب حکمران طبقہ اپنے دائرۂ کار سے نکل کر پاناما لیکس کے دائرۂ کار میں گھس گیا ہے اور اس حوالے سے ''عوامی خدمات'' کے جو جو کارنامے منظر عام پر آرہے ہیں وہ دیکھ کر اور سن کر عوام کو اندازہ ہو رہا ہے کہ اداروں کا دائرۂ کار کیا ہے؟ ہمارے چیف جسٹس اپنے دائرۂ کار سے باہر نکل کر دودھ میں ملاوٹ، پانی میں ملاوٹ، دواؤں میں ملاوٹ، پرائیویٹ اسکولوں کی فیسوں میں اضافے جیسے مسائل کا از خود نوٹس لے رہے ہیں اور گنگا رام اسپتال جاکر مریضوں سے ان کی مشکلات معلوم کررہے ہیں۔ بخدا سچ کہیے یہ کام ''عدلیہ کے دائرۂ کار'' سے تجاوز نہیں ہے؟
بات چلی تھی تحریک انصاف کے 20 پارلیمنٹیرین کی جن پر سینیٹ کے الیکشن میں اپنا ایک ایک ووٹ چار چار کروڑ میں بیچنے کا الزام ہے۔ یہ منتخب نمایندے دو وقت کی روٹی سے محتاج ووٹروں کے ووٹ سے منتخب ہوتے ہیں۔ اگر وہ اپنا ووٹ چارکروڑ میں بیچتے ہیں تو در اصل وہ دو دو تین تین لاکھ غریب ووٹروں کا اعتماد بیچ رہے ہوتے ہیں اور یہ سب جمہوریت میں ہو رہا ہے۔ جمہوریت دنیا کا سب سے بہترین اور اعلیٰ ترین نظام ہے جس کے تحفظ کے لیے آج تک سیکڑوں غریب سیاسی کارکنوں کی ''بلی'' چڑھائی گئی اور اس کا فائدہ پاناما لیکس کے مردانِ مجاہد اٹھا رہے ہیں۔ بے چارہ عمران خان اشرافیہ کے پھٹے میں ٹانگ اڑا رہا ہے یہ سوچے سمجھے کہ ہمارے عوام ابھی تک شخصیت پرستی کے مریض ہیں۔
ارکان پارلیمنٹ پر الزام ہے کہ انھوں نے سینیٹ کے انتخابات میں فی ووٹ چار، چارکروڑ کا ہدیہ لیا ہے۔ چارکروڑ کوئی فکس قیمت نہیں بلکہ ہر شخص نے بقدر جثہ کمائی کی اور یہ کمائی اس لیے غلط نہیں کہ ہم جس نظام معیشت میں زندہ ہیں اس میں یہ ضمیر فروشی معمول کی بات ہے۔
ہمارے بعض اعلیٰ درجے اور صف اول کے پارلیمنٹیرین بڑے فخر سے فرماتے رہتے ہیں کہ پارلیمنٹ ملک کا سب سے بڑا اعلیٰ اور محترم ادارہ ہے یہ کرم فرما اعلیٰ عدلیہ سے اس کا مقابلہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جمہوریت میں پارلیمنٹ ہی ریاست کا سب سے سپریم ادارہ ہے۔ کیا سینیٹ کے انتخاب میں چار چار کروڑ کا نذرانہ وصول کرنے کے بعد بھی ہمارے پارلیمنٹیرین پارلیمنٹ کو ریاست کا سب سے بڑا معزز و محترم ادارہ ہونے پر اصرار کریںگے؟ سینیٹ کو ایوان بالا کہا جاتا ہے جس کی حرمت ایوان زیریں سے زیادہ ہوتی ہے، کیونکہ اس ادارے میں عوام کے نہیں خواص کے منتخب نمایندے قدم رنجا فرماتے ہیں۔
جن مہذب ارکان کو عمران خان نے پارٹی سے نکالنے کا اعلان کیا ہے وہ مشروط ہے انھیں پہلے شوکاز نوٹس دیے گئے ہیں۔ ان سے کہا گیا ہے کہ وہ ان الزامات کے جواب میں اپنی صفائی پیش کریں اگر صفائی تسلی بخش نہ ہوئی تو نہ صرف انھیں پارٹی سے نکال دیا جائے گا بلکہ ان کے کیسزکو تحقیق کے لیے نیب کے حوالے کردیا جائے گا۔ کسی بھی سیاسی پارٹی سے اگر ایک ممبر بھی بے وفائی کرجاتا ہے تو اس کا بڑا چرچہ ہوتا ہے اور میڈیا میں وکٹ گرنے کے تذکرے ہوتے ہیں لیکن ہمارے کرکٹ کے سابق اور سیاست کے موجودہ کپتان نے اپنے ہاتھوں سے اپنی مرضی سے 20 وکٹیں گرا کر ایک ایسا ریکارڈ قائم کیا ہے جس کی مثال سیاسی تاریخ میں نہیں ملتی۔
قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات میں بھی عوام کے ووٹوں کے سودے ہوتے ہیں لیکن یہ سودے اس ہوشیاری، اس راز داری کے ساتھ ہوتے ہیں کہ بے چارے ووٹرکو بھی اس کی خبر نہیں ہوتی۔ ہمارے معتوب وزیراعظم جنھیں اب سابق وزیراعظم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ووٹ کے تقدس کے بڑے حمایتی ہیں بلکہ ووٹ کا احترام کرو تحریک چلانے کی تیاری کررہے ہیں۔ پتہ نہیں ان کی نظروں سے 20 ارکان پارلیمنٹ کی چار چار کروڑ میں ایک ایک ووٹ کی خرید و فروخت کی خبر گزری ہے یا نہیں، اگر گزری ہے تو ان 20 ارکان پارلیمنٹرین کو ووٹ کا احترام کرو تحریک کا ہر اول دستہ بنانا چاہیے تاکہ تحریک انصاف کے ان 20 اکابرین ''قومی خدمت'' کا اعتراف ہو سکے۔
یہ مبینہ طور پر چار چارکروڑ سکۂ رائج الوقت لینے والے نہ مزدور ہیں، نہ کسان، نہ ان کا تعلق غریب طبقات سے ہے یہ لگژری زندگی گزارنے والے اشرافیہ کے کارندے ہیں۔ بنگلا، گاڑی، نوکر چاکر کی موجودگی کے باوجود مبینہ طور پر اپنے ضمیرکے سودے کرنے کا اس کے علاوہ کوئی جواز ہے کہ سرمایہ دارانہ نظام میں اشرافیہ اور اس کے کارندوں کا واحد مقصد کم سے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ دولت کمانا ہوتا ہے۔ ہمارے کرناٹک کے شہر بیدر میں آج سے 50 سال پہلے نہ سیوریج کا نظام تھا نہ گھروں میں باتھ روم ہوا کرتے تھے۔ بھنگی حضرات جنھیں اس زمانے میں ''مہتر'' کہا جاتا تھا جب گھروں سے باہر بہتے ہوئے بیت الخلاؤں میں فضلا اٹھانے آتے تھے تو اس کام کو مہذب زبان میں یہ کہا جاتا تھا کہ ''جمعدار ''کمانے'' آیا ہے۔ ہمارے جدید اور مہذب جمہوری دور میں عوام کے منتخب نمایندے قانون ساز اداروں میں جاتے ہیں تو کہاجاتا ہے کہ ''بھائی کمانے گیا ہے۔''
70 سالوں کے دوران جب بھی ملک میں انتخابات ہوئے دھاندلی کی صدائیں بلند ہوتی رہیں۔ 2013ء کے انتخابات تو ''ووٹ کی حرمت'' کی ایسی مثال ہیں جس کا جواب ماضی کی جمہوریت میں نہیں ملتا، آج کل ہمارے ملک میں جو سیاسی جنگ ہورہی ہے اس کی بنیادی وجہ بتائی جارہی ہے کہ ''ادارے اپنے دائرۂ کار'' سے تجاوز کر رہے ہیں اور اس حوالے سے مبینہ طور پر اہل سیاست کا اشارہ اعلیٰ عدلیہ کی طرف ہوتا ہے یہ الزام جمہوریت کے وہ زعما لگا رہے ہیں جو ''دائرۂ کار'' کے معنی سمجھنے کی زحمت ہی نہیں کرتے اور گھسے پٹے انداز میں اپنے بزرگوں کی اتباع کرتے ہیں۔
مثلاً موٹی سی بات ہے کہ حکومتوں کا کام منتخب حکومتوں کا دائرۂ کار عوام کے مسائل کا حل ہے، لیکن ہمارا حکمران طبقہ وہ بھی منتخب حکمران طبقہ اپنے دائرۂ کار سے نکل کر پاناما لیکس کے دائرۂ کار میں گھس گیا ہے اور اس حوالے سے ''عوامی خدمات'' کے جو جو کارنامے منظر عام پر آرہے ہیں وہ دیکھ کر اور سن کر عوام کو اندازہ ہو رہا ہے کہ اداروں کا دائرۂ کار کیا ہے؟ ہمارے چیف جسٹس اپنے دائرۂ کار سے باہر نکل کر دودھ میں ملاوٹ، پانی میں ملاوٹ، دواؤں میں ملاوٹ، پرائیویٹ اسکولوں کی فیسوں میں اضافے جیسے مسائل کا از خود نوٹس لے رہے ہیں اور گنگا رام اسپتال جاکر مریضوں سے ان کی مشکلات معلوم کررہے ہیں۔ بخدا سچ کہیے یہ کام ''عدلیہ کے دائرۂ کار'' سے تجاوز نہیں ہے؟
بات چلی تھی تحریک انصاف کے 20 پارلیمنٹیرین کی جن پر سینیٹ کے الیکشن میں اپنا ایک ایک ووٹ چار چار کروڑ میں بیچنے کا الزام ہے۔ یہ منتخب نمایندے دو وقت کی روٹی سے محتاج ووٹروں کے ووٹ سے منتخب ہوتے ہیں۔ اگر وہ اپنا ووٹ چارکروڑ میں بیچتے ہیں تو در اصل وہ دو دو تین تین لاکھ غریب ووٹروں کا اعتماد بیچ رہے ہوتے ہیں اور یہ سب جمہوریت میں ہو رہا ہے۔ جمہوریت دنیا کا سب سے بہترین اور اعلیٰ ترین نظام ہے جس کے تحفظ کے لیے آج تک سیکڑوں غریب سیاسی کارکنوں کی ''بلی'' چڑھائی گئی اور اس کا فائدہ پاناما لیکس کے مردانِ مجاہد اٹھا رہے ہیں۔ بے چارہ عمران خان اشرافیہ کے پھٹے میں ٹانگ اڑا رہا ہے یہ سوچے سمجھے کہ ہمارے عوام ابھی تک شخصیت پرستی کے مریض ہیں۔