حیدرآباد تنخواہ سے محروم بلدیاتی ملازمین نے ہڑتال کر دی
دفاتر کو تالے لگا دیے، مین بلڈنگ پر مظاہرہ، ریلی نکالی، پریس کلب کے سامنے دھرنا.
تنخواہیں و پنشن فوری ادا اور ادارے میں کرپشن کی تحقیقات کرائی جائے، یونین رہنما. فوٹو: فائل
BOSTON:
حیدرآباد میں بلدیاتی ملازمین نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف کام چھوڑ ہڑتال اور دفاتر کی تالابندی کر کے احتجاج کیا۔
پریس کلب تک ریلی نکالی اور دھرنا بھی دیا۔ تفصیلات کے مطابق ملازمین کو بروقت تنخواہیں نہ دینے اور غیر قانونی پروموشنز کے خلاف تحصیل مونسپل حیدرآباد سٹی اسٹاف یونین سی بی اے نے پیر کی صبح ہڑتال کر تے ہوئے دفاتر کی تالا بندی کر دی اور بلدیہ کے مرکزی دفتر کے سامنے مظاہرہ کیا اور اسٹیشن روڈ بلاک کر کے نعرے لگائے ، ملازمین اپنے ساتھ کچرے سے بھری گاڑیاں بھی لائے تھے۔
سی بی اے کے صدر غلام محمد قریشی، سیکرٹری اکرم راجپوت نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 3 ماہ سے تنخواہیں اور ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن نہیں ملی جس کے باعث ان کے گھروں میں فاقہ کشی کی صورتحال ہے۔ اگر فوری طور پر تنخواہیں اور پنشن ادا نہ کی گئی تو 17 اپریل کو آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔
مقررین کا کہنا تھا ادارے میں کرپشن اور اقربا پروری کے خلاف 12 برسوں سے جد وجہد کر رہے ہیں لیکن موجودہ نااہل انتظامیہ ملازمین میں پھوٹ ڈال کرکرپشن پر پردہ ڈالنے کی کوشیش کر رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ادارے کی قیمتی املاک کو ٹھکانے لگانے کی تحقیقات کرائی جائے خصوصاً عظیم الشان کلاتھ مارکیٹ کی 30 سال کیلیے نہایت کم پیسوں میں لیز کر کے موجودہ میونسپل کمشنر نے ادارے کو جو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا ہے اس کی نیب سے تحقیقات کرائی جائے۔
حیدرآباد میں بلدیاتی ملازمین نے تنخواہوں کی عدم ادائیگی کے خلاف کام چھوڑ ہڑتال اور دفاتر کی تالابندی کر کے احتجاج کیا۔
پریس کلب تک ریلی نکالی اور دھرنا بھی دیا۔ تفصیلات کے مطابق ملازمین کو بروقت تنخواہیں نہ دینے اور غیر قانونی پروموشنز کے خلاف تحصیل مونسپل حیدرآباد سٹی اسٹاف یونین سی بی اے نے پیر کی صبح ہڑتال کر تے ہوئے دفاتر کی تالا بندی کر دی اور بلدیہ کے مرکزی دفتر کے سامنے مظاہرہ کیا اور اسٹیشن روڈ بلاک کر کے نعرے لگائے ، ملازمین اپنے ساتھ کچرے سے بھری گاڑیاں بھی لائے تھے۔
سی بی اے کے صدر غلام محمد قریشی، سیکرٹری اکرم راجپوت نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 3 ماہ سے تنخواہیں اور ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن نہیں ملی جس کے باعث ان کے گھروں میں فاقہ کشی کی صورتحال ہے۔ اگر فوری طور پر تنخواہیں اور پنشن ادا نہ کی گئی تو 17 اپریل کو آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔
مقررین کا کہنا تھا ادارے میں کرپشن اور اقربا پروری کے خلاف 12 برسوں سے جد وجہد کر رہے ہیں لیکن موجودہ نااہل انتظامیہ ملازمین میں پھوٹ ڈال کرکرپشن پر پردہ ڈالنے کی کوشیش کر رہی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ادارے کی قیمتی املاک کو ٹھکانے لگانے کی تحقیقات کرائی جائے خصوصاً عظیم الشان کلاتھ مارکیٹ کی 30 سال کیلیے نہایت کم پیسوں میں لیز کر کے موجودہ میونسپل کمشنر نے ادارے کو جو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا ہے اس کی نیب سے تحقیقات کرائی جائے۔