بے جا تنقید منزل میں رکاوٹ نہیں سارہ لورین نے2نئی بھارتی فلمیں سائن کرلیں

جوکام پسند ہے وہی کرتی ہوں،جوسمجھ سے بالاترہو اس پرتوجہ نہیں دیتی،حسد کرنیوالے محنت کریں توکامیابی ان کے ساتھ ہوگی.

بالی وڈ میں زبردست رسپانس ملا،نئے پراجیکٹ بھی ’مرڈرتھری‘ کی طرح کامیاب ہونگے،اداکارہ کا فون پر ’’ ایکسپریس ‘‘ کوخصوصی انٹرویو ۔ فوٹو : فائل

مونالیزا ماضی ہے ، اب لوگ صرف اورصرف سارہ لورین کوجانتے ہیں، پسند کرتے ہیں اوراس کے کام کوسراہتے ہیں۔

'مرڈرتھری' نے بالی وڈ میں میرے کیرئیرکی نئی شروعات کی اوراب آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا ؟ دونئی فلمیں سائن کرلیں جب کہ بولڈ فوٹوشوٹس کا سلسلہ بھی جاری ہے ، بے جا تنقید میری منزل میں رکاوٹ پیدا نہیں کرسکتی۔ مجھے جوکام پسند آتا ہے وہ کرتی ہوں اورجوسمجھ سے بالاترہو اس کو توجہ نہیں دیتی۔ جولوگ میری شہرت سے جیلس ہورہے ہیں وہ بھی محنت کریں توکامیابی ان کے ساتھ ہوگی۔ ان خیالات کااظہارمعروف اداکارہ سارہ لورین المعروف مونالیزا نے گزشتہ روزممبئی سے فون پر'' ایکسپریس '' کوخصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔

انھوں نے کہا کہ وشیش فلمزکے ساتھ دونئی فلمیں سائن کرلی ہیں مگران فلموں کے نام اورکہانی کے بارے میں فی الحال کچھ نہیں بتا سکتی، لیکن اتنا ضرورکہنا چاہوںگی کہ یہ پراجیکٹس بھی 'مرڈرتھری' کی طرح کامیاب رہیں گے۔ اس کے علاوہ بالی وڈ کے دوبڑے فلمسازاداروں کی جانب سے مجھے اہم کرداروں میں سائن کرنے کے لیے رابطہ کیا گیا ہے جن سے معاملات جلد طے پا جائیں گے اورپھر یہ پاکستان ہی نہیں بلکہ بالی وڈ کی '' سپراسٹارز ہیروئنوں '' کے لیے بھی بریکنگ نیوزہوگی۔

ان فلموں میں جہاں میرے کردارمنفرد ہونگے وہیں ان کی کہانی اورجدید ٹیکنالوجی سے بھی استفادہ کیا جائے گا جوفلم بینوں کے لیے حیرت کا باعث بنے گا۔ انھوں نے کہا کہ بالی وڈ میں زبردست رسپانس مل رہا ہے، ایک طرف بالی وڈ کے فنکاروںکا رویہ بہت مثبت اورسپورٹنگ ہے تودوسری جانب میڈیا کی طرف سے میرے کام کوسراہنے کے ساتھ ساتھ بالی وڈ میں میرے مستقبل کو لے کربہترین مضامین بھی اعزازسے کم نہیں ہیں۔ فلم کی کامیابی سے جہاں مجھ پرمستقبل میں مزید بہتر کام کرنے کی ذمے داری بڑھ گئی ہے وہیں مجھے اپنی منفردپہچان بنانے کے لیے بھی سخت محنت کرنا ہے۔

یہ سب کچھ کرنے کے لیے میں شیڈول کے مطابق کام کررہی ہوں۔ویسے بھی ایک پروفیشنل فنکارکے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ وقت کا بہت خیال رکھے۔ ایک سوال کے جواب میں سارہ لورین نے کہا کہ بالی وڈ میں بڑے اورکم بجٹ کی سالانہ ایک ہزار سے زائد فلمیں بنتی ہیں لیکن میں نے یہ کبھی نہیں سوچا کہ یہ بڑے بینر کی فلم ہے یا چھوٹے بینرکی۔ میرے نزدیک سب سے زیادہ ضروری میرا کرداراورفلم کی کہانی ہوتے ہیں۔ میں نے جب پاکستان میں ڈراموںمیں کام شروع کیا تواس وقت بھی میں اپنے کرداراورڈرامے کی کہانی پرخاص توجہ دیتی تھی۔




جب تک اسکرپٹ پڑھ نہیں لیتی تھی اس وقت تک ڈرامہ سائن نہیں کرتی تھی۔ بالی وڈ میں بھی یہی میرا معمول ہے۔ سب لوگ یہ بات بخوبی جان چکے ہیں کہ میں اپنے کرداراورفلم کی کہانی کوپڑھے بغیر کسی فلم کو سائن نہیں کرتی۔ وشیش فلمز کی دونئی فلمیں بھی انھی شرائط کے ساتھ سائن کی ہیں جب کہ دوبڑے بینرکی فلمیں بھی اسی طرح سائن کی جائینگی۔ انھوں نے کہا کہ پہلے پہل میرے کچھ قریبی دوست مجھے مشورہ دیتے تھے کہ بالی وڈ میں جو بھی کام ملتاہے ، پاکستان کی دوسری اداکاراؤں کی طرح فوری سائن کرلینا، کیونکہ یہاں چانس بہت مشکل سے ملتاہے، لیکن مجھے خودپراوراپنے کام پربھروسہ تھا اس لیے اپنی شرائط پرکام کررہی ہوں۔

دوسری جانب بالی وڈ میں میرے اس اندازکوسراہا گیا ہے۔ میرا یہ ماننا ہے کہ جو میرے نصیب میںہوگا وہ مجھے ضرور ملے گا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ بھارت فیشن انڈسٹری کے کچھ بڑے برانڈز کے لیے فوٹوشوٹ کروائے ہیں جوبولڈہیں ،مگریہ شوٹ ولگرنہیں ہیں۔ ان فوٹوشوٹس میں میری شخصیت پرکشش دکھائی دیتی ہے جوپراڈکٹ کی تشہیرکی ڈیمانڈ تھی، لیکن کچھ لوگوں نے اس پربھی پراپیگنڈہ شروع کردیا۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ لوگوں کے پاس اتنا فالتووقت بھی ہوتا ہے کہ وہ دوسروں پرتنقید کرتے رہتے ہیں۔

اگروہ لوگ مجھ پراورمیرے کام پر تنقید کرنے کی بجائے اپنے کام کومحنت، لگن اورتوجہ سے کریں تووہ بھی کامیابی حاصل کرسکتے ہیں۔ بے جاتنقید کاکوئی فائدہ نہیں ، کیونکہ میں تووہی کرتی ہوں جو مجھے ٹھیک لگتاہے۔ میں ایک فنکارہ ہوں اورکرداروں میں حقیقت کارنگ بھرنے کے لیے بہت کچھ کرنا پڑتاہے۔

دنیا بھر میں مختلف موضوعات پر فلمیں بنائی جاتی ہیں۔ اگرکسی طوائف کی زندگی پرفلم بنائی جائے اوراس میں''بازار حسن '' کا ماحول نہ نظرآئے توفلم بین اس کو پسند نہیں کرینگے۔ لہٰذا ہر فنکارکے لیے یہ بات ضروری ہوتی ہے کہ وہ اپنے کردارکی ڈیمانڈ کوپوراکرتے ہوئے ایسا پرفارم کرے کہ اس کی اپنی شخصیت دکھائی نہ دے۔

بس لوگ اس کردار کویادرکھیں۔ مگرہمارے ہاں ایسے کردار ادا کرنے کے بعد بعض ناکام لوگ منفی پراپیگنڈہ شروع کردیتے ہیں جس سے چاردن وہ میڈیا میں رہتے ہیں لیکن اس کا حل نہیں نکل پاتا۔ واضح رہے کہ سارہ لورین کی آئندہ ماہ کے پہلے ہفتے لاہورآمد متوقع ہے۔ اس دوران وہ ایک فلم کی شوٹنگ میں حصہ بھی لیں گی۔
Load Next Story