2013ء میں ہم نے الیکشن نہیں لڑا جنازے اٹھائے اسفند یار ولی
اس بار جنات کی مداخلت نہ ہوئی تو ہم بتائیں گے کہ الیکشن کیسے لڑا جاتا ہے، مرکزی صدر اے این پی
فوج نے دہشتگردی کیخلاف جنگ لڑی جسے ہم نے سپورٹ کیا، خطاب۔ فوٹو: فائل
اے این پی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ اے این پی نے 2013 میں الیکشن نہیں لڑا بلکہ جنازے اٹھائے۔
درگئی میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے اسفندریار ولی نے کہا کہ ہم نے 2013 میں الیکشن نہیں لڑا بلکہ جنازے اٹھائے تاہم اس بار خدا کرے کہ جنات کی مداخلت نہ ہو تو ہم بتائیں گے کہ الیکشن کیسے لڑا جاتا ہے۔
اسفندریار ولی نے کہا کہ فوج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی جسے ہم نے سپورٹ کیا،فاٹا میں چیک پوسٹوں پر ایسے اہلکار تعینات کیے جائیں جو پختونوں کے رسم و رواج سے واقف ہوں۔پختون تحفظ مومنٹ کے مطالبات جائز ہیں تاہم فاٹا انضمام کا ایشو وہ اپنے مطالبات میں شامل کریں۔ان کو تشدد کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔
اے این پی کے مرکزی صدر نے کہا کہ کٹھ پتلی وزیراعلیٰ کی ڈوریں بنی گالہ سے ہلائی جارہی ہیں۔افغان جہاد کو ہم نے فساد کہا تو ہمیں کافر کہاگیا، آج پوری دنیا ہمارے موقف کی حامی ہے۔
اسفندیار ولی خان نے کہا کہ پختونوں کے حقوق کیلیے جیل کاٹی لیکن کسی کے سامنے نہیں جھکے۔عمران خان نے سیاست میں گالم گلوچ کے کلچر کو فروغ دیا۔انہوں نے کہاکہ پرویز خٹک کو بحیثیت وزیر اعلی نیب نے طلب کیا۔ آج پختون تاریخ کے نازک دور سے گزر رہے ہیں۔پختون قوم کی نسل کو ختم ہونے سے بچانے کیلیے متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے سارا پیسہ بنی گالہ منتقل کیا۔
درگئی میں ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے اسفندریار ولی نے کہا کہ ہم نے 2013 میں الیکشن نہیں لڑا بلکہ جنازے اٹھائے تاہم اس بار خدا کرے کہ جنات کی مداخلت نہ ہو تو ہم بتائیں گے کہ الیکشن کیسے لڑا جاتا ہے۔
اسفندریار ولی نے کہا کہ فوج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی جسے ہم نے سپورٹ کیا،فاٹا میں چیک پوسٹوں پر ایسے اہلکار تعینات کیے جائیں جو پختونوں کے رسم و رواج سے واقف ہوں۔پختون تحفظ مومنٹ کے مطالبات جائز ہیں تاہم فاٹا انضمام کا ایشو وہ اپنے مطالبات میں شامل کریں۔ان کو تشدد کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔
اے این پی کے مرکزی صدر نے کہا کہ کٹھ پتلی وزیراعلیٰ کی ڈوریں بنی گالہ سے ہلائی جارہی ہیں۔افغان جہاد کو ہم نے فساد کہا تو ہمیں کافر کہاگیا، آج پوری دنیا ہمارے موقف کی حامی ہے۔
اسفندیار ولی خان نے کہا کہ پختونوں کے حقوق کیلیے جیل کاٹی لیکن کسی کے سامنے نہیں جھکے۔عمران خان نے سیاست میں گالم گلوچ کے کلچر کو فروغ دیا۔انہوں نے کہاکہ پرویز خٹک کو بحیثیت وزیر اعلی نیب نے طلب کیا۔ آج پختون تاریخ کے نازک دور سے گزر رہے ہیں۔پختون قوم کی نسل کو ختم ہونے سے بچانے کیلیے متحد ہونا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نے سارا پیسہ بنی گالہ منتقل کیا۔