تیل صاف کرنے والے کارخانے ڈیوٹیز اور ٹیکسوں سے مستثنیٰ
20سال کے لیے انکم ٹیکس،ریفائنری کی مرمت،آپریشن، تعمیر، سامان کی خریداری پربھی ٹیکس چھوٹ حاصل ہوگی
ریفائنری منصوبہ ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں قائم کرنے کی صورت میں برآمدات پرڈیولپمنٹ سرچارج بھی معاف ہوگا۔ فوٹو: فائل
ISLAMABAD:
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ملک میں سرمایہ کاری بڑھانے کیلیے تیل صاف کرنے والے جدید کارخانوں کی تنصیب اور موجودہ ریفائنریوں کی کم از کم پیداواری گنجائش ایک لاکھ بیرل یومیہ بڑھانے کیلیے تاریخی رعایتی پیکیج کی منظوری دی۔
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس جمعہ کو وزیراعظم آفس میں ہوا۔ کمیٹی نے ملک میں سرمایہ کاری بڑھانے کیلیے تیل صاف کرنے والے جدید کارخانوں کی تنصیب اور موجودہ ریفائنریوں کی کم از کم پیداواری گنجائش ایک لاکھ بیرل یومیہ بڑھانے کیلیے تاریخی رعایتی پیکیج کی منظوری دی۔ یہ فیصلہ پارکو کوسٹل ریفائنری پروجیکٹ کیلیے بھی قابل عمل ہوگا۔
رعایتی پیکیج میں ہر قسم کی ڈیوٹی، ٹیکسوں، سرچارج، درآمدی اشیا پر لیوی سے استثنیٰ اور 20 سال کیلیے انکم ٹیکس کی چھوٹ کی رعایت شامل ہے۔ پیکیج کے تحت ریفائنری کی مرمت، آپریشن، تعمیر، سامان کی خریداری، انجینئرنگ اور غیرملکی کنٹریکٹرز اور سب کنٹریکٹرز سے متعلقہ درآمدات اور ودہولڈنگ ٹیکس اور ہر قسم کی ڈیوٹی، ٹیکسوں، سرچارج اور لیویز سے استثنیٰ بھی شامل ہے۔
اس کے علاوہ مقامی طور پر تیار ہونے والے تعمیراتی سامان اور ریفائنری کے قیام کی خدمات بھی سیلز ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی سے مستثنٰی ہوںگی۔ نئے منصوبوں کو جیٹیز، سب سی/پائپ لائنوں وغیرہ کے منصوبوں میں بھی سہولت فراہم کی جائے گی۔
ریفائنری منصوبہ ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں قائم کرنے کی صورت میں ای پی زیڈ اے رولز 1981 کے تحت برآمدات کی ویلیو پر قابل اطلاق ڈیولپمنٹ سرچارج بھی معاف تصور ہوگا۔ اس فیصلہ سے ملک کے کسی بھی علاقہ میں نئی جدید ترین ریفائریز کے قیام میں سہولت حاصل ہوگی اور ملک کے مختلف علاقوں میں کم قیمت پر پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کو یقینی بنانے اور پٹرولیم مصنوعات کا درآمدی بل کم کرنے میں مدد ملے گی۔
کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے ملک میں سرمایہ کاری بڑھانے کیلیے تیل صاف کرنے والے جدید کارخانوں کی تنصیب اور موجودہ ریفائنریوں کی کم از کم پیداواری گنجائش ایک لاکھ بیرل یومیہ بڑھانے کیلیے تاریخی رعایتی پیکیج کی منظوری دی۔
وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیرصدارت کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس جمعہ کو وزیراعظم آفس میں ہوا۔ کمیٹی نے ملک میں سرمایہ کاری بڑھانے کیلیے تیل صاف کرنے والے جدید کارخانوں کی تنصیب اور موجودہ ریفائنریوں کی کم از کم پیداواری گنجائش ایک لاکھ بیرل یومیہ بڑھانے کیلیے تاریخی رعایتی پیکیج کی منظوری دی۔ یہ فیصلہ پارکو کوسٹل ریفائنری پروجیکٹ کیلیے بھی قابل عمل ہوگا۔
رعایتی پیکیج میں ہر قسم کی ڈیوٹی، ٹیکسوں، سرچارج، درآمدی اشیا پر لیوی سے استثنیٰ اور 20 سال کیلیے انکم ٹیکس کی چھوٹ کی رعایت شامل ہے۔ پیکیج کے تحت ریفائنری کی مرمت، آپریشن، تعمیر، سامان کی خریداری، انجینئرنگ اور غیرملکی کنٹریکٹرز اور سب کنٹریکٹرز سے متعلقہ درآمدات اور ودہولڈنگ ٹیکس اور ہر قسم کی ڈیوٹی، ٹیکسوں، سرچارج اور لیویز سے استثنیٰ بھی شامل ہے۔
اس کے علاوہ مقامی طور پر تیار ہونے والے تعمیراتی سامان اور ریفائنری کے قیام کی خدمات بھی سیلز ٹیکس اور ایکسائز ڈیوٹی سے مستثنٰی ہوںگی۔ نئے منصوبوں کو جیٹیز، سب سی/پائپ لائنوں وغیرہ کے منصوبوں میں بھی سہولت فراہم کی جائے گی۔
ریفائنری منصوبہ ایکسپورٹ پروسیسنگ زون میں قائم کرنے کی صورت میں ای پی زیڈ اے رولز 1981 کے تحت برآمدات کی ویلیو پر قابل اطلاق ڈیولپمنٹ سرچارج بھی معاف تصور ہوگا۔ اس فیصلہ سے ملک کے کسی بھی علاقہ میں نئی جدید ترین ریفائریز کے قیام میں سہولت حاصل ہوگی اور ملک کے مختلف علاقوں میں کم قیمت پر پٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کو یقینی بنانے اور پٹرولیم مصنوعات کا درآمدی بل کم کرنے میں مدد ملے گی۔