گریک سپر لیگ فٹبال اسٹیڈیمز میں جنگ چھڑ پڑی
دو اہم میچز پولیس و شائقین کے درمیان جھگڑوں کی وجہ سے افراتفری کا شکار ، پلیئرزپرحملے کی کوشش ناکام۔
فائربم اور پتھر پھینکے جانے پر پولیس نے آنسو گیس وگرینیڈزاستعمال کیے،اسپورٹس رپورٹرکی پسلیاں توڑ دی گئیں. فوٹو: اے ایف پی
یونان میں فٹبال اسٹیڈیمزمیں جنگ چھڑ پڑی،گریک سپر لیگ میں اتوار کو کھیلے جانے والے دو اہم میچز پولیس اور شائقین کے درمیان جھگڑوں کی وجہ سے افراتفری کا شکار ہوئے۔
شائقین نے پتھراؤ کیا جبکہ پولیس نے مجمع کو منتشر کرنے کیلیے آنسو گیس کے گولے اور گرینیڈز استعمال کیے،انتہائی سنگین واقعہ ایتھنز اولمپک اسٹیڈیم میں پیش آیا جہاں میزبان ٹیم اے ای کے اور پینتھراکیکوز کے مابین میچ ملتوی کردیا گیا، مقابلے کو اس وقت روکنا پڑا جب سینکڑوں غضبناک شائقین87 ویںمنٹ میں اون گول کے نتیجے میں مہمان ٹیم کی ایک، صفر سے فوقیت پر میدان میں داخل ہوگئے۔ پینتھراکیکوز اور اے ای کے کھلاڑیوں کو فوری طور پر میدان چھوڑنا پڑا جبکہ ہنگامہ کرنے والے افراد نے چینجنگ روم تک ان کا پیچھا کیا۔
اسٹیڈیم خالی ہونے کے باوجود تقریباً300 افراد وہاں موجود پلاسٹک کی کرسیوں کو توڑنے میں مصروف رہے، پولیس نے آنسو گیس شیل استعمال کرکے مجمع کو منتشر ہونے پر مجبور کیا۔ پینتھراکیکوز اور اے ای کے آفیشلز ایک گھنٹے سے زائد وقت تک ریفری اسٹیوروس ٹرٹسونس کو میچ دوبارہ شروع کرانے کیلیے قائل کرنے کی کوششیں کرتے رہے لیکن کامیاب نہ رہے، میچ کو معطل کرنے کے حتمی فیصلے سے اے ای کے کو ٹورنامنٹ سے اخراج اور بھاری جرمانے کا سامنا ہے۔
ٹرٹسونس نے اپنی میچ رپورٹ میں لکھاکہ اے ای کے کے سینکڑوں شائقین ڈنڈوں، پتھروں اور لوہے کی سلاخوں کے ساتھ گراؤنڈ پر داخل ہوگئے اور اپنے سامنے آئی ہوئی ہر چیز کو تباہ کردیا، انھوں نے ہمارا پیچھا بھی کیا، انھوں نے لکھاکہ ہنگامہ کرنے والے افراد نے کھلاڑیوں، کوچز اور آفیشلز پر حملے کیلیے چینجنگ رومز میں بھی داخل ہونے کی ناکام کوشش کی۔ انھوں نے کہاکہ تقریباً 20 منٹ بعد میں نے پچ کا دورہ کیا اور سمجھ لیا کہ ہنگامہ اب بھی جاری ہے، کارنر فلیگز غائب اور ٹیم کی بینچز تباہ ہوچکی تھیں، یہ ایک جنگ کا نقشہ تھا اور اسی لیے میں نے میچ معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تقریباً 30 ہزار شائقین کے سامنے کھیلے جانے والا میچ اس لیے بھی اہمیت رکھتا تھا کیونکہ دونوں ٹیموں کو ہار کی صورت میں سپر لیگ سے دستبردار ہونے کا سامنا تھا،اے ای کے نے گذشتہ7 میچز میں سے صرف ایک میں کامیابی حاصل کی تھی اور اسے اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ ٹورنامنٹ سے اخراج کا خطرہ تھا، میچ کے آغاز سے ڈیڑھ گھنٹے قبل اولمپیاکوز کے شائقین، پینتھراکیکوز کے حامیوں اور پولیس کے مابین کاریزکاکی اسٹیڈیم کے باہر جھگڑا ہوا تھا، میچ ایک، ایک ڈرا کے ساتھ ختم ہوا جبکہ پینتھراکیکوز کو یورپ لیگ کے پوسٹ سیزن پلے آف کوالیفائی کرنے کیلیے کامیابی کی ضرورت تھی، البتہ اولمپیاکوز پہلے ہی گذشتہ ماہ سپر لیگ ٹائٹل جیت چکی ہے، پولیس پر فائر بم اور پتھر پھینکے گئے۔
جبکہ جواب میں پولیس نے آنسو گیس اور گرینیڈز استعمال کیے، کسی بھی شخص کو حراست میں لینے کی خبر نہیں ملی لیکن جھگڑے کے دوران شائقین کے گروپ نے ایک ٹی وی اسپورٹس رپورٹر کی پٹائی کردی، رپورٹر کو ٹوٹی ہوئی پسلیوں کے ساتھ علاج کیلیے اسپتال لے جایا گیا،اس واقعے پر احتجاج کرتے ہوئے صحافیوں نے تمام سپر لیگ میچز کے دوران کچھ وقت کیلیے کام روک دیا تھا۔
شائقین نے پتھراؤ کیا جبکہ پولیس نے مجمع کو منتشر کرنے کیلیے آنسو گیس کے گولے اور گرینیڈز استعمال کیے،انتہائی سنگین واقعہ ایتھنز اولمپک اسٹیڈیم میں پیش آیا جہاں میزبان ٹیم اے ای کے اور پینتھراکیکوز کے مابین میچ ملتوی کردیا گیا، مقابلے کو اس وقت روکنا پڑا جب سینکڑوں غضبناک شائقین87 ویںمنٹ میں اون گول کے نتیجے میں مہمان ٹیم کی ایک، صفر سے فوقیت پر میدان میں داخل ہوگئے۔ پینتھراکیکوز اور اے ای کے کھلاڑیوں کو فوری طور پر میدان چھوڑنا پڑا جبکہ ہنگامہ کرنے والے افراد نے چینجنگ روم تک ان کا پیچھا کیا۔
اسٹیڈیم خالی ہونے کے باوجود تقریباً300 افراد وہاں موجود پلاسٹک کی کرسیوں کو توڑنے میں مصروف رہے، پولیس نے آنسو گیس شیل استعمال کرکے مجمع کو منتشر ہونے پر مجبور کیا۔ پینتھراکیکوز اور اے ای کے آفیشلز ایک گھنٹے سے زائد وقت تک ریفری اسٹیوروس ٹرٹسونس کو میچ دوبارہ شروع کرانے کیلیے قائل کرنے کی کوششیں کرتے رہے لیکن کامیاب نہ رہے، میچ کو معطل کرنے کے حتمی فیصلے سے اے ای کے کو ٹورنامنٹ سے اخراج اور بھاری جرمانے کا سامنا ہے۔
ٹرٹسونس نے اپنی میچ رپورٹ میں لکھاکہ اے ای کے کے سینکڑوں شائقین ڈنڈوں، پتھروں اور لوہے کی سلاخوں کے ساتھ گراؤنڈ پر داخل ہوگئے اور اپنے سامنے آئی ہوئی ہر چیز کو تباہ کردیا، انھوں نے ہمارا پیچھا بھی کیا، انھوں نے لکھاکہ ہنگامہ کرنے والے افراد نے کھلاڑیوں، کوچز اور آفیشلز پر حملے کیلیے چینجنگ رومز میں بھی داخل ہونے کی ناکام کوشش کی۔ انھوں نے کہاکہ تقریباً 20 منٹ بعد میں نے پچ کا دورہ کیا اور سمجھ لیا کہ ہنگامہ اب بھی جاری ہے، کارنر فلیگز غائب اور ٹیم کی بینچز تباہ ہوچکی تھیں، یہ ایک جنگ کا نقشہ تھا اور اسی لیے میں نے میچ معطل کرنے کا فیصلہ کیا۔
تقریباً 30 ہزار شائقین کے سامنے کھیلے جانے والا میچ اس لیے بھی اہمیت رکھتا تھا کیونکہ دونوں ٹیموں کو ہار کی صورت میں سپر لیگ سے دستبردار ہونے کا سامنا تھا،اے ای کے نے گذشتہ7 میچز میں سے صرف ایک میں کامیابی حاصل کی تھی اور اسے اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ ٹورنامنٹ سے اخراج کا خطرہ تھا، میچ کے آغاز سے ڈیڑھ گھنٹے قبل اولمپیاکوز کے شائقین، پینتھراکیکوز کے حامیوں اور پولیس کے مابین کاریزکاکی اسٹیڈیم کے باہر جھگڑا ہوا تھا، میچ ایک، ایک ڈرا کے ساتھ ختم ہوا جبکہ پینتھراکیکوز کو یورپ لیگ کے پوسٹ سیزن پلے آف کوالیفائی کرنے کیلیے کامیابی کی ضرورت تھی، البتہ اولمپیاکوز پہلے ہی گذشتہ ماہ سپر لیگ ٹائٹل جیت چکی ہے، پولیس پر فائر بم اور پتھر پھینکے گئے۔
جبکہ جواب میں پولیس نے آنسو گیس اور گرینیڈز استعمال کیے، کسی بھی شخص کو حراست میں لینے کی خبر نہیں ملی لیکن جھگڑے کے دوران شائقین کے گروپ نے ایک ٹی وی اسپورٹس رپورٹر کی پٹائی کردی، رپورٹر کو ٹوٹی ہوئی پسلیوں کے ساتھ علاج کیلیے اسپتال لے جایا گیا،اس واقعے پر احتجاج کرتے ہوئے صحافیوں نے تمام سپر لیگ میچز کے دوران کچھ وقت کیلیے کام روک دیا تھا۔