لٹیروں اور نوجوانوں میں فیصلہ کن جنگ ہوگی عمران خان
پنجاب میں اصل مقابلہ ن لیگ سے ہو گا، عوام تبدیلی چاہتے ہیں تو ’’نیا پاکستان فنڈ‘‘ میں رقم دیں، پریس کانفرنس سے خطاب
اسلام آباد:تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان پریس کانفرنس سے خطاب کررہے ہیں فوٹو: فائل
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہاہے کہ ہم نے80فیصد نئے امیدواروں کو ٹکٹ دیے،تاریخ میں پہلی بار35 فیصد ٹکٹ نوجوانوں کودیکر یوتھ سونامی کا آغازکر دیا، آئندہ الیکشن میں لٹیروں اور نوجوانوں میں فیصلہ کن جنگ ہو گی، خواتین کی مخصوص نشستوں پر کسی رہنماکی رشتے دارکو ٹکٹ نہیں دیا جائے گا۔
عوام تبدیلی چاہتے ہیں تو ''نیا پاکستان فنڈ'' میں رقم دیں۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ نظریے کی سیاست 85 کے بعد ختم ہو گئی، آئندہ الیکشن 1992کے ورلڈکپ کی طرح ہیں۔ پارٹی الیکشن نہ کروانے والی جماعتیں بچ نہیں سکتیں، ہم نے انتخابات کے سال میں ہی پارٹی الیکشن کروا کے دوسری جماعتوں کو امتحان میں ڈال دیا ۔ برصغیرکی تاریخ میں اتنے بڑے انتخابات کسی پارٹی نے نہیں کروائے۔ نوجوان پارلیمنٹ میں آئیں گے تو تبدیلی آئے گی۔ پرانے لوگ تبدیلی نہیں لاسکتے، کسی جماعت نے بلدیاتی نظام نہیں چلنے دیا۔
نوجوانوں نے ثابت کر دیا انھیں لیپ ٹاپ سے نہیں خریدا جا سکتا، تحریک انصاف نے میوزیکل چیئر کا کھیل ختم کر دیا، پیپلز پارٹی اور نواز لیگ لیفٹ اور رائٹ کی پارٹیاں رہی ہیں مگر دونوں جماعتیں پانچ سال حکومت میں رہیں، پیپلز پارٹی اور نواز لیگ آخر تک بلوچستان میں اکٹھے رہے، پنجاب میں دونوں جماعتیں ساڑھے تین سال اکٹھے حکومت میں رہیں، دونوں جماعتیں 1988سے اب تک حکمران رہیں اور انھوں نے پولیس، تعلیم، صحت، پی آئی اے سمیت تمام ادارے تباہ کر دیے اور اب تبدیلی لانے کی باتیں کر رہی ہیں۔
گذشتہ 25 سال میں کوئی ادارہ ٹھیک نہیں کیا گیا، دنیا میںکوئی ایسی مثال نہیں کہ ادارے تباہ کرنیوالے انھیں ٹھیک کر سکیں۔ آئندہ الیکشن میں لٹیروں اور نوجوانوں میں فیصلہ کن جنگ ہو گی، نیا پاکستان، نیا نظام ہو گا۔ ہم نے امیدواروں کو منتخب تنظیموں کے کہنے پر ٹکٹ دیے ورنہ پیسے لیکر ٹکٹ دینے سے بہت مال بنایا جا سکتا ہے۔ اس ملک میں انتخابی امیدواروںکی قیمتیں لگتی ہیں اور الیکشن جیت کر امیدوار خود کو نیلام کر دیتے ہیں۔ تحریک انصاف میں بڑے بڑے لوگ آئے اور چلے گئے جبکہ نظریاتی لوگ موجود ہیں۔
80 فیصد امیدواروں کا پہلی بار الیکشن لڑنا تبدیلی کی علامت ہے۔ ان لوگوں کے پاس پیسے بھی نہیں، ہم ملکی تاریخ میں پہلی بار فنڈز اکٹھا کر کے انتخابات لڑ رہے ہیں جس کے لیے ہم اپنا اکائونٹ نمبر بھی دینگے، لوگ ''نیا پاکستان فنڈ'' میں پیسے دیں تاکہ نوجوان آگے آئیں اور ملک میں تبدیلی لائی جا سکے، صدر زرداری نے پیپلز پارٹی کو تباہ کر دیا، اس طرح تو ڈکٹیٹر بھی نہیں کرتا جسطرح انھوں نے پیپلز پارٹی کے ساتھ کیا، پنجاب میں ہمارا اصل مقابلہ ن لیگ سے ہو گا۔ آئندہ انتخابات ملکی تاریخ کے دلچسپ اور تاریخی انتخابات ہوں گے، سب سے زیادہ ٹرن آؤٹ ہو گا،4کروڑ نوجوان ملکی تقدیر کا فیصلہ کریں گے۔
دریں اثنا ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ اقتدار میں آ کر ایم این ایز اور ایم پی ایز کے فنڈز ختم کر دیں گے،90 روز میں بلدیاتی انتخابات کرائیں گے اور وہاں منتخب نمائندوں کے ذریعے ترقیاتی فنڈز خرچ کریں گے۔ میں وزیر اعظم بن گیا تو صدر زرداری سے حلف نہیں لوں گا، پرویز مشرف نے جن کی حکومت ختم کی وہ اب کیوں خاموش ہیں۔
عوام تبدیلی چاہتے ہیں تو ''نیا پاکستان فنڈ'' میں رقم دیں۔ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ نظریے کی سیاست 85 کے بعد ختم ہو گئی، آئندہ الیکشن 1992کے ورلڈکپ کی طرح ہیں۔ پارٹی الیکشن نہ کروانے والی جماعتیں بچ نہیں سکتیں، ہم نے انتخابات کے سال میں ہی پارٹی الیکشن کروا کے دوسری جماعتوں کو امتحان میں ڈال دیا ۔ برصغیرکی تاریخ میں اتنے بڑے انتخابات کسی پارٹی نے نہیں کروائے۔ نوجوان پارلیمنٹ میں آئیں گے تو تبدیلی آئے گی۔ پرانے لوگ تبدیلی نہیں لاسکتے، کسی جماعت نے بلدیاتی نظام نہیں چلنے دیا۔
نوجوانوں نے ثابت کر دیا انھیں لیپ ٹاپ سے نہیں خریدا جا سکتا، تحریک انصاف نے میوزیکل چیئر کا کھیل ختم کر دیا، پیپلز پارٹی اور نواز لیگ لیفٹ اور رائٹ کی پارٹیاں رہی ہیں مگر دونوں جماعتیں پانچ سال حکومت میں رہیں، پیپلز پارٹی اور نواز لیگ آخر تک بلوچستان میں اکٹھے رہے، پنجاب میں دونوں جماعتیں ساڑھے تین سال اکٹھے حکومت میں رہیں، دونوں جماعتیں 1988سے اب تک حکمران رہیں اور انھوں نے پولیس، تعلیم، صحت، پی آئی اے سمیت تمام ادارے تباہ کر دیے اور اب تبدیلی لانے کی باتیں کر رہی ہیں۔
گذشتہ 25 سال میں کوئی ادارہ ٹھیک نہیں کیا گیا، دنیا میںکوئی ایسی مثال نہیں کہ ادارے تباہ کرنیوالے انھیں ٹھیک کر سکیں۔ آئندہ الیکشن میں لٹیروں اور نوجوانوں میں فیصلہ کن جنگ ہو گی، نیا پاکستان، نیا نظام ہو گا۔ ہم نے امیدواروں کو منتخب تنظیموں کے کہنے پر ٹکٹ دیے ورنہ پیسے لیکر ٹکٹ دینے سے بہت مال بنایا جا سکتا ہے۔ اس ملک میں انتخابی امیدواروںکی قیمتیں لگتی ہیں اور الیکشن جیت کر امیدوار خود کو نیلام کر دیتے ہیں۔ تحریک انصاف میں بڑے بڑے لوگ آئے اور چلے گئے جبکہ نظریاتی لوگ موجود ہیں۔
80 فیصد امیدواروں کا پہلی بار الیکشن لڑنا تبدیلی کی علامت ہے۔ ان لوگوں کے پاس پیسے بھی نہیں، ہم ملکی تاریخ میں پہلی بار فنڈز اکٹھا کر کے انتخابات لڑ رہے ہیں جس کے لیے ہم اپنا اکائونٹ نمبر بھی دینگے، لوگ ''نیا پاکستان فنڈ'' میں پیسے دیں تاکہ نوجوان آگے آئیں اور ملک میں تبدیلی لائی جا سکے، صدر زرداری نے پیپلز پارٹی کو تباہ کر دیا، اس طرح تو ڈکٹیٹر بھی نہیں کرتا جسطرح انھوں نے پیپلز پارٹی کے ساتھ کیا، پنجاب میں ہمارا اصل مقابلہ ن لیگ سے ہو گا۔ آئندہ انتخابات ملکی تاریخ کے دلچسپ اور تاریخی انتخابات ہوں گے، سب سے زیادہ ٹرن آؤٹ ہو گا،4کروڑ نوجوان ملکی تقدیر کا فیصلہ کریں گے۔
دریں اثنا ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ اقتدار میں آ کر ایم این ایز اور ایم پی ایز کے فنڈز ختم کر دیں گے،90 روز میں بلدیاتی انتخابات کرائیں گے اور وہاں منتخب نمائندوں کے ذریعے ترقیاتی فنڈز خرچ کریں گے۔ میں وزیر اعظم بن گیا تو صدر زرداری سے حلف نہیں لوں گا، پرویز مشرف نے جن کی حکومت ختم کی وہ اب کیوں خاموش ہیں۔