متحدہ پی پی اے این پی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے حیدر عباس رضوی
الیکشن کمیشن کے ڈبل اسٹینڈرڈ کو پری الیکشن دھاندلی ہی کہا جائے گا، زاہدعلی خان
سیاستدانوں کو نشانہ بنانا قابل مذمت ہے، خواجہ آصف، اسد عمرکا ٹودی پوائنٹ میں اظہارخیال فوٹو: فائل
FAISALABAD:
ایم کیو ایم کے رہنما حیدر عباس رضوی نے کہا ہے کہ سب جانتے ہیں کہ تین سیاسی جماعتوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔
ایم کیو ایم، اے این پی اور پیپلزپارٹی سے امتیازی سلوک کیا جارہا ہے۔ہم تینوں اتحادی تھے ہم مانتے ہیں کہ ہم نے غلطیاں کیں لیکن اب تو اہل لوگ موجود ہیں اب یہ سارا ماجرا کیا ہے ۔پروگرام ٹودی پوائنٹ میں میزبان شاہ زیب خانزادہ سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ جن جماعتوں کے لیڈروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے انہی کے ورکرز کو گرفتار کیا جارہا ہے شہر میں خوف کا عالم ہے اور جب جگہ جگہ ناکے ہوں گے پورے کے پورے علاقے کا محاصرہ کیا جاتا ہوگا تو پھر ووٹ ڈالنے کے لئے کون گھر سے نکلے گا، ہر کوئی ڈر رہا ہے ۔ہم ٹارگٹڈ آپریشن کی حمایت کرتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمارے کارکنوں کو ڈرایا جائے ۔
ایم کیوایم کا ابھی تک الیکشن لڑنے کا پورا ارادہ ہے ہماری تیاری بھی پوری ہے لیکن جس طرح کے حالات پیدا ہورہے ہیں اس سے ہمیں محسوس ہورہا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے ، مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ نگران حکومت کی ذمہ داری ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں طورپر سیکیورٹی فراہم کریسیاسی رہنمائوں کو نشانہ بنانا قابل مذمت ہے۔۔ اے این پی کے رہنما زاہد علی خان نے کہا کہ اے این پی سے سیکیورٹی واپس لی جارہی ہے اور دوسرے رہنمائوں کو سیکیورٹی دی جارہی ہے۔اگر الیکشن کمشن اس طرح کے ڈبل سٹینڈرڈ رکھے گا تو اس کو الیکشن سے قبل دھاندلی ہی کہا جائے گا۔ تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے کہا کہ اے این پی کی شکایات درست اور جائز ہیں تمام سیاسی جماعتوں کو سیکیورٹی دینا عبوری حکومت کا فرض ہے ۔
ایم کیو ایم کے رہنما حیدر عباس رضوی نے کہا ہے کہ سب جانتے ہیں کہ تین سیاسی جماعتوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔
ایم کیو ایم، اے این پی اور پیپلزپارٹی سے امتیازی سلوک کیا جارہا ہے۔ہم تینوں اتحادی تھے ہم مانتے ہیں کہ ہم نے غلطیاں کیں لیکن اب تو اہل لوگ موجود ہیں اب یہ سارا ماجرا کیا ہے ۔پروگرام ٹودی پوائنٹ میں میزبان شاہ زیب خانزادہ سے گفتگو میں انھوں نے کہاکہ جن جماعتوں کے لیڈروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے انہی کے ورکرز کو گرفتار کیا جارہا ہے شہر میں خوف کا عالم ہے اور جب جگہ جگہ ناکے ہوں گے پورے کے پورے علاقے کا محاصرہ کیا جاتا ہوگا تو پھر ووٹ ڈالنے کے لئے کون گھر سے نکلے گا، ہر کوئی ڈر رہا ہے ۔ہم ٹارگٹڈ آپریشن کی حمایت کرتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمارے کارکنوں کو ڈرایا جائے ۔
ایم کیوایم کا ابھی تک الیکشن لڑنے کا پورا ارادہ ہے ہماری تیاری بھی پوری ہے لیکن جس طرح کے حالات پیدا ہورہے ہیں اس سے ہمیں محسوس ہورہا ہے کہ دال میں کچھ کالا ضرور ہے ، مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف نے کہا کہ نگران حکومت کی ذمہ داری ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں طورپر سیکیورٹی فراہم کریسیاسی رہنمائوں کو نشانہ بنانا قابل مذمت ہے۔۔ اے این پی کے رہنما زاہد علی خان نے کہا کہ اے این پی سے سیکیورٹی واپس لی جارہی ہے اور دوسرے رہنمائوں کو سیکیورٹی دی جارہی ہے۔اگر الیکشن کمشن اس طرح کے ڈبل سٹینڈرڈ رکھے گا تو اس کو الیکشن سے قبل دھاندلی ہی کہا جائے گا۔ تحریک انصاف کے رہنما اسد عمر نے کہا کہ اے این پی کی شکایات درست اور جائز ہیں تمام سیاسی جماعتوں کو سیکیورٹی دینا عبوری حکومت کا فرض ہے ۔