انتخابات میں پہلی بار اسٹیبلشمنٹ کا کردار نہیں ہوگا مشاہد حسین
روایتی سوچ سے حکومت نہیں چل سکتی، ترجیحات بدلنا ہوں گی، مل کرکام کرنا ہوگا
نواز شریف کا 10 سالہ معاہدہ ختم، اب وہ الیکشن لڑسکتے ہیں، کراچی میں پریس کانفرنس فوٹو: فائل
مسلم لیگ (ق)کے رہنما مشاہد حسین سید نے کہا ہے کہ پہلی بار اسٹیبلشمنٹ انتخابات میں حصہ نہیں لے رہی ۔
پنجاب میں پیپلز پارٹی کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوئی ہے ۔ روایتی سوچ سے حکومت نہیں چل سکتی ، اب ترجیحات بدلنا ہوں گی۔وہ پیر کو پارٹی کے صوبائی سیکریٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ اس موقع پر مسلم لیگ (ق) سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ ، اسد جونیجو ، بانو صغیر ، خان بہادر شر ، افتخار علی اور دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے ۔ مشاہد حسین سید نے کہا کہ دہشت گردی صوبائی معاملہ نہیں ، ہم انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی بنانے میں ناکام رہے ہیں ۔
جب تک جمہوریت بنیادی سطح پرنہیں آئے گی ، ملکی مسائل حل نہیں ہوں گے، سب کو مل کرکام کرنا ہوگا ۔ انھوں نے کہا کہ خواتین کے بغیر پاکستان کی سیاست مکمل نہیں ۔ ہم نے واضح منشور دیا ہے کہ ہمارے3 رہنما ہیں ، ایک قائداعظم ، دوسرے شاعر مشرق علامہ اقبال اور تیسری مادرملت ہیں۔
انھوں نے کہا کہ سابق حکمراں اگر اپنے پانچ سالہ دور میں بلدیاتی انتخابات کرواتے تو اس وقت تک بہت سارے مسائل حل ہوجاتے ۔انھوں نے کہا کہ صحافیوں کے تحفظ کا بل ہمارے منشور کا حصہ ہے ۔ میڈیا کے نمائندوں ، رپورٹرز ، فوٹوگرافرز اور کیمرہ مینوں کی انشورنس کے لیے گروپ پالیسی دیں گے ۔ آئندہ آنے والی حکومت میں کوئی ایک جماعت واضح اکثریت سے کامیاب نہیں ہوسکتی ۔ نواز شریف کا دس سالہ معاہدہ ختم ہوچکا ہے، اب وہ الیکشن لڑسکتے ہیں ۔فنکشنل لیگ ،ایم کیو ایم و دیگر جماعتوں سے اچھے تعلقات ہیں۔
پنجاب میں پیپلز پارٹی کے ساتھ سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہوئی ہے ۔ روایتی سوچ سے حکومت نہیں چل سکتی ، اب ترجیحات بدلنا ہوں گی۔وہ پیر کو پارٹی کے صوبائی سیکریٹریٹ میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے ۔ اس موقع پر مسلم لیگ (ق) سندھ کے صدر حلیم عادل شیخ ، اسد جونیجو ، بانو صغیر ، خان بہادر شر ، افتخار علی اور دیگر بھی ان کے ہمراہ موجود تھے ۔ مشاہد حسین سید نے کہا کہ دہشت گردی صوبائی معاملہ نہیں ، ہم انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی بنانے میں ناکام رہے ہیں ۔
جب تک جمہوریت بنیادی سطح پرنہیں آئے گی ، ملکی مسائل حل نہیں ہوں گے، سب کو مل کرکام کرنا ہوگا ۔ انھوں نے کہا کہ خواتین کے بغیر پاکستان کی سیاست مکمل نہیں ۔ ہم نے واضح منشور دیا ہے کہ ہمارے3 رہنما ہیں ، ایک قائداعظم ، دوسرے شاعر مشرق علامہ اقبال اور تیسری مادرملت ہیں۔
انھوں نے کہا کہ سابق حکمراں اگر اپنے پانچ سالہ دور میں بلدیاتی انتخابات کرواتے تو اس وقت تک بہت سارے مسائل حل ہوجاتے ۔انھوں نے کہا کہ صحافیوں کے تحفظ کا بل ہمارے منشور کا حصہ ہے ۔ میڈیا کے نمائندوں ، رپورٹرز ، فوٹوگرافرز اور کیمرہ مینوں کی انشورنس کے لیے گروپ پالیسی دیں گے ۔ آئندہ آنے والی حکومت میں کوئی ایک جماعت واضح اکثریت سے کامیاب نہیں ہوسکتی ۔ نواز شریف کا دس سالہ معاہدہ ختم ہوچکا ہے، اب وہ الیکشن لڑسکتے ہیں ۔فنکشنل لیگ ،ایم کیو ایم و دیگر جماعتوں سے اچھے تعلقات ہیں۔