فتح سندھ کے واقعے کو اصل روح کے ساتھ سمجھنا چاہیے
ہمیں اس عظیم واقعے کے پیچھےکارفرما اصل جذبےکو پہنچانا اوراس سےسبق حاصل کرنا چاہیے،ایسوسی ایٹ پروفیسرڈاکٹر نرگس رشید.
ہمارے آج کے رویے اسلام کے تصور و پیغام کے خلاف ہیں اسی لیے ہم اتنی مشکلات سے دوچار ہیں،ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر نرگس رشید. فوٹو عبدسمد
ISLAMABAD:
کراچی یونیورسٹی کے ڈپارٹمنٹ آف جنرل ہسٹری کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر نرگس رشید نے کہا ہے کہ محمد بن قاسم کی ذات میں پاکستانی نوجوانوں کیلیے ہمت و شجاعت، برداشت و حوصلے، تدبر، رواداری' انصاف، متوازن رویے، قوت فیصلہ، حسن سلوک اور قائدانہ صلاحیت کے بہت سے سبق ہیں جن سے انھیں تحریک حاصل کرنی چاہیے۔
فتح سندھ کے واقعے کو اصل روح کے ساتھ سمجھنا چاہیے ،وہ بطور مہمان خصوصی ہمدرد کالج آف سائنس اینڈ کامرس کے زیراہتمام بیت الحکمہ آڈیٹوریم ، مدینتہ الحکمہ کراچی میں ''یوم باب الاسلام'' کے موضوع پر لیکچر دے رہی تھیں، انھوں نے مزید کہا کہ فتح سندھ کے واقعے کو روایتی انداز میں زیر بحث لاناکافی نہیں ہمیں اس عظیم واقعے کے پیچھے کارفرما اصل جذبے کو پہنچانا اور اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے، انھوں نے طلبا سے کہا کہ وہ جس عمر میں ہیں اسے کم نہ سمجھیں اور اس عمر میں بھی وہ محمد بن قاسم کی طرح بڑے کارنامے انجام دے سکتے ہیں۔
انھوں نے سلائیڈ کی مدد سے اسلامی خلافت کے تحت 637 سے 712 عیسوی تک مسلم اقتدار کی توسیع کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دراصل اسلام کی کامیابی تھی اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ اسلام نے ذات پات اور رنگ و نسل کے امتیازات کو مٹاکر انصاف و مساوات پر مبنی ایک عادل انسانی معاشرے کا تصور اور پیغام دیا تھا لیکن ہمارے آج کے رویے اسلام کے تصور و پیغام کے خلاف ہیں اسی لیے ہم اتنی مشکلات سے دوچار ہیں، اس صورت حال سے ہم علم اور تعلیم کی مدد سے ہی باہر نکل سکتے ہیں۔
کراچی یونیورسٹی کے ڈپارٹمنٹ آف جنرل ہسٹری کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر نرگس رشید نے کہا ہے کہ محمد بن قاسم کی ذات میں پاکستانی نوجوانوں کیلیے ہمت و شجاعت، برداشت و حوصلے، تدبر، رواداری' انصاف، متوازن رویے، قوت فیصلہ، حسن سلوک اور قائدانہ صلاحیت کے بہت سے سبق ہیں جن سے انھیں تحریک حاصل کرنی چاہیے۔
فتح سندھ کے واقعے کو اصل روح کے ساتھ سمجھنا چاہیے ،وہ بطور مہمان خصوصی ہمدرد کالج آف سائنس اینڈ کامرس کے زیراہتمام بیت الحکمہ آڈیٹوریم ، مدینتہ الحکمہ کراچی میں ''یوم باب الاسلام'' کے موضوع پر لیکچر دے رہی تھیں، انھوں نے مزید کہا کہ فتح سندھ کے واقعے کو روایتی انداز میں زیر بحث لاناکافی نہیں ہمیں اس عظیم واقعے کے پیچھے کارفرما اصل جذبے کو پہنچانا اور اس سے سبق حاصل کرنا چاہیے، انھوں نے طلبا سے کہا کہ وہ جس عمر میں ہیں اسے کم نہ سمجھیں اور اس عمر میں بھی وہ محمد بن قاسم کی طرح بڑے کارنامے انجام دے سکتے ہیں۔
انھوں نے سلائیڈ کی مدد سے اسلامی خلافت کے تحت 637 سے 712 عیسوی تک مسلم اقتدار کی توسیع کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دراصل اسلام کی کامیابی تھی اور اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ اسلام نے ذات پات اور رنگ و نسل کے امتیازات کو مٹاکر انصاف و مساوات پر مبنی ایک عادل انسانی معاشرے کا تصور اور پیغام دیا تھا لیکن ہمارے آج کے رویے اسلام کے تصور و پیغام کے خلاف ہیں اسی لیے ہم اتنی مشکلات سے دوچار ہیں، اس صورت حال سے ہم علم اور تعلیم کی مدد سے ہی باہر نکل سکتے ہیں۔