صدر مملکت کا اظہار خیال اور زمینی حقائق

یہی بات شورش زدہ بلوچستان میں بھی غلط ثابت کی جانی چاہیے کہ سردار ترقی اور عوام کی خوشحالی نہیں چاہتے۔

صدر مملکت نے بادی النظر میں حقائق تو فاٹا کے بیان کیے تاہم اس میں پاکستان کا پورا سیاسی،تزویراتی،معاشی اور عسکری آئینہ سامنے آتا ہے۔ فوٹو: فائل

صدرآصف علی زرداری نے کہا ہے کہ فاٹا کے حالات خود ٹھیک کرنا ہوں گے، کوئی تیسری قوت نہیں آئے گی، آیندہ انتخابات فاٹا کے عوام کے لیے اپنی قسمت بدلنے کا اچھا موقع ہے ، قبائلی عوام کو پورا حق حاصل ہے کہ وہاں سے نمایند ے منتخب کر یں جن پر انھیں اعتماد ہو، سیکیورٹی خدشات اور امن وامان کی نازک صورتحال رائے دہندگی کی راہ میں رکاوٹ نہیں ہونی چاہیے۔ گزشتہ روز یہاں ایوان صدر اسلام آباد میں فاٹا کے گرینڈ جرگہ سے خطاب میں انھوں نے کہا کہ ہم فاٹا میں تاریخ لکھ رہے ہیں، طالبان کے ڈر سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔

صدر مملکت نے بادی النظر میں حقائق تو فاٹا کے بیان کیے تاہم اس میں پاکستان کا پورا سیاسی،تزویراتی،معاشی اور عسکری آئینہ سامنے آتا ہے جس میں قوم اب ان دیکھے مناظر اور شنیدہ باتوں سے ہٹ کر فاٹا کی اصل صورتحال کا ادراک کرنا چاہے گی۔ بلاشبہ گزشتہ حکومت نے فاٹا میں ایک صدی سے زائد عرصہ سے اصلاحات کا بند دروازہ کھولا ، اصلاحات کیں، گلگت بلتستان سمیت دیگر دور افتادہ علاقوں کو مین اسٹریم پالیٹکس میں لانے کے لیے قوانین بنائے ۔صدر کا کہنا درست ہے کہ قبائلی عوام کو پہلی مرتبہ سیاسی سرگرمیوں میں آزادانہ شرکت کی اجازت دی گئی ، انھیں نیا عدالتی نظام دیا گیا ہے جو اپیل اور ضمانت کے حق کو یقینی بناتا ہے،وہ یہ مفروضہ غلط قرار دیتے ہیںکہ قبائلی عوام تبدیلی نہیں چاہتے ۔

یہی بات شورش زدہ بلوچستان میں بھی غلط ثابت کی جانی چاہیے کہ سردار ترقی اور عوام کی خوشحالی نہیں چاہتے۔ کتنے سردار باقی رہ گئے ہیں جو بلوچ عوام پر اپنی حاکمیت رکھتے ہیں،وقت کافی کروٹیں لے چکا ہے، مزاحمت پسند بلوچوں کے مقابلے پر سیاسی جماعتیں انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں، جو در حقیقت شہادت گہہ الفت میں قدم رکھنے کے مترادف ہے۔خدارا بلوچستان امریکی استعمار کی شکار گاہ نہ بننے پائے اس لیے کہ وہاں ایک ہولناک کھیل کھیلنے کی تیاریاں ہیں جو ملکی سلامتی کے لیے خطرناک ہوسکتا ہے۔

صدر نے طالبان کے خلاف ڈٹ جانے کا جو عندیہ دیا ہے وہ پاکستان کی داخلی خود مختاری اور قومی یک جہتی کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔ فاٹا ہو یا بلوچستان پاک فوج نے انتہا پسندوں کی طرف سے برپا کردہ دہشت گردی ،لاقانونیت ،انارکی ،شورش اور بدامنی کے خاتمے کے لیے کامیاب آپریشن کیے ، شہریوں ، قبائلی عمائدین ،جرگوں کی معتبر شخصیات ، فورسز کے افسروں اور جوانوں نے وطن عزیز کی خاطر جانیں نثار کیں۔ غربت ، بیروزگاری اور پسماندگی فاٹا کے عوام کا بنیادی مسئلہ ہے تاہم دہشت گردی کے ڈریگن کا سر کچلے بغیر علاقے میں ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔

صدر زرداری نے کہا کہ فاٹا کے عوام فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں جس کی وجہ سے ہم پر سکون زندگی گزارتے ہیں، اسکولوں کو نشانہ بنانے والے تعلیم اور روشن خیالی سے خوفزدہ ہیں، وہ جہالت اور تاریکی کی فضا اور مذہب کی آڑ میں اپنا تنگ نظر ایجنڈا مسلط کرنا چاہتے ہیں، فاٹا میں نہ صرف تباہ شدہ اسکولوں کو دوبارہ تعمیر کریں گے بلکہ نئے اسکول بھی بنائیں گے، فاٹا کاسالانہ بجٹ 16ارب روپے سے بڑھ چکا ہے، گومل زام منصوبہ کے ساتھ باڑہ ڈیم بھی تعمیر کرینگے۔یہ تمام منصوبے ہر حکومت کا ٹارگٹ ہونے چاہئیں۔لیکن حکمراںعالمی قوتون کی حریصانہ نگاہوں کا تعاقب بھی کریں جو فاٹا ، بلوچستان،سندھ اور پنجاب میں انتخابات کو سبوتاژ کرنے کی سازشوں میں مصروف ہیں ۔


ان سازشوں کو خود امریکی میڈیا بے نقاب کررہا ہے ۔ امریکی مورخ اور سیاسی تجزیہ نگار ویسیسٹر ٹار پلے نے ایرانی ٹی وی کو انٹرویو میں کہا کہ امریکا ڈرون حملوں اور افغانستان میں فوجی موجودگی کے ذریعے پاکستان کو تقسیم کرنا چاہتا ہے۔ ڈرون حملے پاکستان میں انتشار کی بڑی وجہ بنے کیونکہ جن علاقوں میں حملے کیے جارہے ہیں ،انھوں نے کہا کہ افغان جنگ کے آغازکاخاص مقصد تھا، امریکی حکام نے افغانستان سے سول جنگ پاکستان برآمد کرنے کی کوشش کی تا کہ پشتونوں، بلوچوں ،سندھیوں اور قبائلیوں میں انتشار پیدا کر سکے ۔ان اقدامات کانتیجہ نکلاکہ پاکستان اور افغانستان نے ایک دوسرے پر دہشت گردی اور انتہا پسندوں کی معاونت کے الزامات لگانے شروع کیے جس سے خطے میں تشدد کو فروغ ملا۔ یہ خوش آیند اقدام ہے کہ پاکستان نے شمالی وزیرستان میں اتوارکو کیے جانے والے امریکی ڈرون حملے کی فوری شدید مذمت کی ہے۔

دفترخارجہ کے ترجمان نے کہاکہ اس طرح کے یکطرفہ حملے عالمی قانون کے منافی اور ملکی استحکام کے لیے غیر سود مند ہیں۔پاکستان کا موقف ہے کہ ڈرون حملے ہماری علاقائی سالمیت اور خود مختاری کے خلاف ہیں۔انھوں نے کہاکہ ایسے حملے ریاستوں کے تعلقات میں خطرناک مثال قائم کریںگے،امریکی حکومت انھیں بند کرے۔ادھر پاک،افغان عسکری حکام نے سرحدی تعاون بڑھانے کے لیے رابطے جاری رکھنے پراتفاق کیاہے ۔ ایک اور امریکی جرید ے فارن پالیسی نے بھی انکشاف کیا ہے کہ امر یکہ کئی بارپاکستان کی داخلی سیاست میںملوث اور مداخلت کرتا رہاہے۔

رپورٹ کے مطابق وزیر خارجہ جان کیری کا پاکستان کا دورہ نہ کرنا درست فیصلہ ہے،اگروہ یہ دورہ کرتے تواس سے تاثر ملتا کہ امر یکہ صدرزرداری اور پیپلز پارٹی کی حمایت کررہا ہے،کئی وجوہ پر امریکا کو بے نظیربھٹوکی شہادت کا ذمے دار اور بعد کے حالات پر مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ پیر کوامریکی جرید ے فارن پالیسی نے اپنی رپورٹ میںلکھاکہ 2006ء میں بے نظیر بھٹو اور اس وقت کے صدر پرویز مشرف کے درمیان شراکت اقتدار میں امریکا نے بروکر کا کردار ادا کیا۔ادھر امریکی سفیر رک اولسن نے کہا ہے کہ مشرف کی واپسی کوئی اہم یا بڑا واقعہ نہیں ۔اس کے ساتھ حمایت کا بڑا معاہدہ نہیں ہوا۔وائٹ ہائوس کے ترجمان نے کہا کہ یہ پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے۔

ارباب اختیار پاکستان کی سالمیت اور کود مختاری کو یقینی بنانے کے لیے تاریخی عوامل اور عالمی قوتوں کے پاکستان کے ساتھ روابط، معاہدوں،ان قوتوں کے حقیقی عزائم اور ملکی جیو پولیٹیکل صورتحال کے تحت دانشمندی، دور اندیشی اور غیر معمولی وژن سے کام لیں ۔ امریکا یا کسی ملک کو پاکستان کی داخلی صورتحال، سیاسی اور اقتصادی ترجیحات اور قومی ترقی کے روڈ میپ میں کسی قسم کی مداخلت کا کوئی راستہ نہ دیا جائے۔ ہماری بدقسمی یہ ہے کہ کئی غلط فیصلے ماضی و حال میں ہمارے حکمرانوںنے کیے، کچھ آمروں نے قوم کو مصائب اور غیر جمہوری نظاموںکے عذابوں سے نڈھال کیا ،ادارے برباد ہوتے گئے، آئین کا مذاق اڑایا گیا ، عوام کو طرح طرح کے سیاسی نعروں سے بہلایا گیا۔ لیکن اب وقت تبدیلیوں کا ہے۔

دہشت گردی کے جن کو سب مل کر ماریں گے تب اہل وطن کو چین نصیب ہوگا۔آنے والے انتخابات قوم کی امیدوںمیں لپٹے ہوئے نقرئی ورق ہیں ۔یہ امر باعث اطمینان ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان انسداد دہشتگردی کے متعلق مذاکرات بیجنگ میں ہوئے، پاکستانی وفدکی قیادت ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ اعزاز احمدچوہدری نے کی جب کہ چینی وفد کی قیادت وزارت خارجہ کے ڈائریکٹرجنرل محکمہ خارجہ سیکیورٹی چوئی گو ہونگ نے کی۔وزارت داخلہ ملکی سیکیورٹی امور پر اہم فیصلوں پر غور وخوض کررہی ہے۔اس سارے منظر نامہ میں چیف الیکشن کمشنر فخرالدین جی ابراہیم کی یہ یقین دہانی طلائی پیغام کی طرح ہے کہ انتخابات میں تاخیر کا امکان نہیں،گیارہ مئی کے الیکشن شیڈول کے مطابق ہوں گے۔
Load Next Story