بلدیہ عظمیٰ کے چارجڈ پارکنگ ڈپارٹمنٹ کے اہلکارگرفتار
ایس پی کے حکم کی تعمیل کی ان کی ہدایت پر گرفتار شدگان کوچھوڑا جائیگا، پولیس
پولیس کے عملے نے کوئی وجہ بتائے بغیر ایس ایچ او فیروز آباد اعظم گوپانگ کی ہدایت پر چارجڈ پارکنگ وصول کرنے والے عملے کے سات ارکان کو حراست میں لے لیا. فوٹو: نور/فائل
بلدیہ عظمیٰ کراچی کے ڈائریکٹر چارجڈ پارکنگ سید رضا عباس رضوی نے طارق روڈ پر کے ایم سی چارجڈ پارکنگ کنٹریکٹرکے عملے کی غیرقانونی گرفتاری اور انھیں پولیس کی جانب سے ہراساں کیے جانے کے واقعہ کو بلدیہ عظمیٰ امور میں مداخلت قرار دیتے ہوئے اعلیٰ پولیس حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس واقعہ کا نوٹس لیں،تفصیلات کے مطابق بلدیہ عظمیٰ کراچی نے طارق روڈ پر چارجڈ پارکنگ کی وصولی کا ٹھیکہ پرائیویٹ کنٹریکٹر کو الاٹ کیا تھا۔
جس نے یہاں گاڑیوں کی پارکنگ فیس وصولی کرنے کے لیے اپنا عملہ متعین کر رکھا ہے، منگل کو دوپہر ساڑھے 12 بجے فیروز آباد تھانے کی موبائل طارق روڈ پہنچی جہاں پولیس کے عملے نے کوئی وجہ بتائے بغیر ایس ایچ او فیروز آباد اعظم گوپانگ کی ہدایت پر چارجڈ پارکنگ وصول کرنے والے عملے کے سات ارکان کو حراست میں لے لیا اور انھیں تھانے لے جا کر حبس بے جا میں رکھ دیا، اس پر محکمہ چارجڈ پارکنگ کے افسران نے متعلقہ تھانے سے رجوع کیا اور عملے کی گرفتاری کی وجہ دریافت کی اس پر ایس ایچ او نے کہا کہ انھوں نے اپنے ایس پی عثمان باجوہ کے حکم کی تعمیل کی ہے۔
لہٰذا وہ ان کی ہدایت کے بغیر آپ کے عملے کو نہیں چھوڑ سکتے، علاوہ ازیں انھوں نے طارق روڈ پر چارجڈ پارکنگ کے عملے کی مکمل فہرست اور کنٹریکٹ کی منظوری کی مکمل فائل فراہم کرنے کا بھی کہا، ڈائریکٹر چارجڈ پارکنگ نے پولیس کے اس رویے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی شہر کی سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور صفائی ستھرائی پر سالانہ کروڑوں روپے کا بجٹ خرچ کرتی ہے۔
، ان سڑکوں پر پارک ہونے والی گاڑیوں کی پارکنگ فیس وصول کرنا بلدیہ عظمیٰ کا حق ہے اور اس کی مد میں آنے والا فنڈ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہی خرچ کیا جاتا ہے لہٰذا کسی دوسرے ادارے کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ بلدیہ عظمیٰ کے امور میں مداخلت بے جا کرے، انھوں نے کہا کہ پولیس کے اس اقدام سے بلدیہ عظمیٰ کراچی کی آمدنی میں کمی واقع ہونے کا اندیشہ ہے کیونکہ بلدیہ عظمیٰ کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ پارکنگ فیس مقرر کرنے کے لیے اپنا عملہ تعینات کرسکے۔
جس نے یہاں گاڑیوں کی پارکنگ فیس وصولی کرنے کے لیے اپنا عملہ متعین کر رکھا ہے، منگل کو دوپہر ساڑھے 12 بجے فیروز آباد تھانے کی موبائل طارق روڈ پہنچی جہاں پولیس کے عملے نے کوئی وجہ بتائے بغیر ایس ایچ او فیروز آباد اعظم گوپانگ کی ہدایت پر چارجڈ پارکنگ وصول کرنے والے عملے کے سات ارکان کو حراست میں لے لیا اور انھیں تھانے لے جا کر حبس بے جا میں رکھ دیا، اس پر محکمہ چارجڈ پارکنگ کے افسران نے متعلقہ تھانے سے رجوع کیا اور عملے کی گرفتاری کی وجہ دریافت کی اس پر ایس ایچ او نے کہا کہ انھوں نے اپنے ایس پی عثمان باجوہ کے حکم کی تعمیل کی ہے۔
لہٰذا وہ ان کی ہدایت کے بغیر آپ کے عملے کو نہیں چھوڑ سکتے، علاوہ ازیں انھوں نے طارق روڈ پر چارجڈ پارکنگ کے عملے کی مکمل فہرست اور کنٹریکٹ کی منظوری کی مکمل فائل فراہم کرنے کا بھی کہا، ڈائریکٹر چارجڈ پارکنگ نے پولیس کے اس رویے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی شہر کی سڑکوں کی تعمیر و مرمت اور صفائی ستھرائی پر سالانہ کروڑوں روپے کا بجٹ خرچ کرتی ہے۔
، ان سڑکوں پر پارک ہونے والی گاڑیوں کی پارکنگ فیس وصول کرنا بلدیہ عظمیٰ کا حق ہے اور اس کی مد میں آنے والا فنڈ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہی خرچ کیا جاتا ہے لہٰذا کسی دوسرے ادارے کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ وہ بلدیہ عظمیٰ کے امور میں مداخلت بے جا کرے، انھوں نے کہا کہ پولیس کے اس اقدام سے بلدیہ عظمیٰ کراچی کی آمدنی میں کمی واقع ہونے کا اندیشہ ہے کیونکہ بلدیہ عظمیٰ کے پاس اتنے وسائل نہیں کہ وہ پارکنگ فیس مقرر کرنے کے لیے اپنا عملہ تعینات کرسکے۔