الیکشن کمیشن ووٹر لسٹیں جاری کرنے میں ناکام سیاسی جماعتوں کو مشکلات کا سامنا
الیکشن کمیشن نے اعدادو شمار جاری کردیے،لسٹیں پانچوں ضلعی دفاتر کو ارسال کردیں،پراسرار وجوہ کے باعث جاری نہ ہوسکیں.
امیدواروں کو حلقے کے ووٹرز کا پتہ نہیں چل رہا،واسع جلیل،انتخابی عمل شروع نہ ہوسکا،قادر پٹیل،انتخابی مہم مشکل ہوگئی،بشیر جان۔ فوٹو: فائل
KARACHI:
الیکشن کمیشن کی جانب سے تاحال نئی ووٹر لسٹیں قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں کی سطح پر جاری نہ ہونے سے سیاسی جماعتوں کو انتخابی مہم چلانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
سیاسی جماعتوں نے اس کا ذمے دار الیکشن کمیشن سندھ کو ٹھہراتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی کے حلقوں کی سطح پر نئی ووٹر لسٹیں جاری کرکے سیاسی جماعتوں کو فراہم کی جائیں، انتخابی عمل میں 24 دن رہ گئے تاحال نئی ووٹر لسٹیں جاری نہیں ہوسکی ہیں،تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن نے گزشتہ ہفتے کراچی کی نئی ووٹر لسٹوں کے حتمی اعداد و شمار ضلعی سطح پر جاری کیے تھے جن کے مطابق شہر میں ووٹرز کی تعداد 71 لاکھ 71 ہزار 534 ہے۔
الیکشن کمیشن نے گزشتہ ہفتے ووٹرز لسٹیں تقسیم کیلیے پانچوں ضلعی الیکشن کمیشن دفاتر کے حوالے کی تھیں جو اب تک کسی پراسرار وجوہ کے باعث سیاسی جماعتوں جاری نہیں کی گئی ہیں،اس حوالے سے متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے رکن واسع جلیل نے بتایا کہ کراچی میں نئی ووٹر لسٹیں اب تک سیاسی جماعتوں کو فراہم نہیں کی گئی ہیں،امیدواروں کو پتہ ہی نہیں کہ ان کے حلقے کے کس علاقے میں کتنے ووٹ ہیں۔
الیکشن کمیشن فی الفور ووٹر لسٹیں حلقوں کی سطح پر جاری کرے،عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے سیکریٹری جنرل بشیر جان نے بتایا کہ ہمارے انتخابی امیدواروں کو پہلے ہی سیکیورٹی خدشات کا سامنا ہے،ووٹر لسٹیں جاری نہ ہونے سے امیدواروں کو انتخابی مہم شروع کرنے میں مشکلات درپیش ہیں۔
پیپلزپارٹی کراچی ڈویژن کے صدر قادر پٹیل نے بتایا کہ انتخابی فہرستیں18مارچ کو جاری ہونی تھیں لیکن الیکشن کمیشن تاحال ووٹر لسٹیں جاری کرنے میں ناکام رہا ہے، جب تک حلقوں کی سطح پر ووٹر لسٹیں جاری نہیں ہوتیں انتخابی عمل شروع نہیں ہوسکتا،جماعت اسلامی کراچی کے امیر محمد حسین محنتی نے کہا کہ ووٹر لسٹیں جاری نہ ہونے کی وجہ سے کراچی میں تمام جماعتیں اب تک انتخابی مہم شروع نہیں کرسکی ہیں اگر یہ ووٹر لسٹیں چند روز میں جاری ہو بھی جاتی ہیں تو لاکھوں ووٹرز تک پولنگ کارڈ کیسے پہنچائے جائیں گے۔
الیکشن کمیشن کی جانب سے تاحال نئی ووٹر لسٹیں قومی اور صوبائی اسمبلی کے حلقوں کی سطح پر جاری نہ ہونے سے سیاسی جماعتوں کو انتخابی مہم چلانے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
سیاسی جماعتوں نے اس کا ذمے دار الیکشن کمیشن سندھ کو ٹھہراتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ کیا ہے کہ کراچی کے حلقوں کی سطح پر نئی ووٹر لسٹیں جاری کرکے سیاسی جماعتوں کو فراہم کی جائیں، انتخابی عمل میں 24 دن رہ گئے تاحال نئی ووٹر لسٹیں جاری نہیں ہوسکی ہیں،تفصیلات کے مطابق الیکشن کمیشن نے گزشتہ ہفتے کراچی کی نئی ووٹر لسٹوں کے حتمی اعداد و شمار ضلعی سطح پر جاری کیے تھے جن کے مطابق شہر میں ووٹرز کی تعداد 71 لاکھ 71 ہزار 534 ہے۔
الیکشن کمیشن نے گزشتہ ہفتے ووٹرز لسٹیں تقسیم کیلیے پانچوں ضلعی الیکشن کمیشن دفاتر کے حوالے کی تھیں جو اب تک کسی پراسرار وجوہ کے باعث سیاسی جماعتوں جاری نہیں کی گئی ہیں،اس حوالے سے متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے رکن واسع جلیل نے بتایا کہ کراچی میں نئی ووٹر لسٹیں اب تک سیاسی جماعتوں کو فراہم نہیں کی گئی ہیں،امیدواروں کو پتہ ہی نہیں کہ ان کے حلقے کے کس علاقے میں کتنے ووٹ ہیں۔
الیکشن کمیشن فی الفور ووٹر لسٹیں حلقوں کی سطح پر جاری کرے،عوامی نیشنل پارٹی سندھ کے سیکریٹری جنرل بشیر جان نے بتایا کہ ہمارے انتخابی امیدواروں کو پہلے ہی سیکیورٹی خدشات کا سامنا ہے،ووٹر لسٹیں جاری نہ ہونے سے امیدواروں کو انتخابی مہم شروع کرنے میں مشکلات درپیش ہیں۔
پیپلزپارٹی کراچی ڈویژن کے صدر قادر پٹیل نے بتایا کہ انتخابی فہرستیں18مارچ کو جاری ہونی تھیں لیکن الیکشن کمیشن تاحال ووٹر لسٹیں جاری کرنے میں ناکام رہا ہے، جب تک حلقوں کی سطح پر ووٹر لسٹیں جاری نہیں ہوتیں انتخابی عمل شروع نہیں ہوسکتا،جماعت اسلامی کراچی کے امیر محمد حسین محنتی نے کہا کہ ووٹر لسٹیں جاری نہ ہونے کی وجہ سے کراچی میں تمام جماعتیں اب تک انتخابی مہم شروع نہیں کرسکی ہیں اگر یہ ووٹر لسٹیں چند روز میں جاری ہو بھی جاتی ہیں تو لاکھوں ووٹرز تک پولنگ کارڈ کیسے پہنچائے جائیں گے۔