دانش کنیریا کیریئر کے بقا کی جنگ لڑنے لندن روانہ
22 اپریل کو اپیل کی سماعت میں دامن پر لگے داغ دھونے کی کوشش کریں گے.
منصفانہ وغیرجانبدارانہ کارروائی کی امید ہے،پابندی نے روزی روٹی بند کردی،اسپنر فوٹو: فائل
لیگ اسپنر دانش کنیریا کیریئر کے بقا کی جنگ لڑنے لندن روانہ ہوگئے۔
22 اپریل کو اپیل کی سماعت میں اپنے دامن پر لگے داغ دھونے کی کوشش کریں گے، ان کا کہنا ہے کہ مجھے منصفانہ اور غیرجانبدارانہ کارروائی کی امید ہے، انگلش بورڈ کی پابندی نے میری روزی روٹی بند کردی، میں نے کچھ غلط نہیں کیا قوم میرا ساتھ دے۔ تفصیلات کے مطابق دانش کنیریا خود پر عائد تاحیات پابندی کے خاتمے کی امیدیں لے کر لندن روانہ ہوگئے ہیں، انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے انھیں اسپاٹ فکسنگ میں ملوث قرار دیتے ہوئے عمر بھر کے لیے ان پر کھیل کے دروازے بند کردیے جبکہ ساتھ ایک لاکھ پاؤنڈ جرمانہ بھی کیا تھا۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے قانون کی وجہ سے پی سی بی نے بھی اس پابندی کو تسلیم کیا۔دانش کنیریا نے اس کے خلاف اپیل کی جس کی سماعت دسمبر میں ہونے تھی، مگر کیس کے اہم گواہ میرون ویسٹ فیلڈ کی غیرحاضری کے باعث یہ 22 اپریل تک ملتوی کردی گئی تھی۔ اب انگلش کرکٹ بورڈ نے لندن ہائیکورٹ کی مدد سے ویسٹ فیلڈ کی سماعت میں شرکت یقینی بنالی ہے۔ دانش کنیریا نے کہاکہ مجھے اپنے کلیئر ہونے کی پوری امید ہے، میرے خلاف کوئی بھی ثبوت موجود نہیں ، میں شروع سے ہی یہ کہتا رہا ہوں کہ پابندی غیرمنصفانہ ہے۔
میں آخری لمحے تک اس کے خلاف فائٹ کروں گا۔ دانش کنیریا نے مزید کہا کہ مجھے پوری امید ہے کہ پینل اس سماعت میں مکمل طور پر خود مختار اور غیرجانبدار ہوگا، انگلش بورڈ کے فیصلے کی وجہ سے میری روزی روٹی بند ہوگئی ہے، ویسٹ فیلڈ کی سماعت میں موجودگی سے تمام چیزیں واضح ہوجائیں گے۔ دانش کنیریا نے مزید کہا کہ میں اس جنگ میں خود کو تنہا محسوس کررہا ہوں، کوئی بھی مجھے سپورٹ نہیں کررہا ہے، اس کیس نے میرے کیریئراور میری زندگی کو تباہ کرکے رکھ دیا، میں اپنے ہم وطنوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ مجھے سپورٹ کریں کیونکہ میں نے کچھ بھی غلط نہیں کیا ہے۔
22 اپریل کو اپیل کی سماعت میں اپنے دامن پر لگے داغ دھونے کی کوشش کریں گے، ان کا کہنا ہے کہ مجھے منصفانہ اور غیرجانبدارانہ کارروائی کی امید ہے، انگلش بورڈ کی پابندی نے میری روزی روٹی بند کردی، میں نے کچھ غلط نہیں کیا قوم میرا ساتھ دے۔ تفصیلات کے مطابق دانش کنیریا خود پر عائد تاحیات پابندی کے خاتمے کی امیدیں لے کر لندن روانہ ہوگئے ہیں، انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ نے انھیں اسپاٹ فکسنگ میں ملوث قرار دیتے ہوئے عمر بھر کے لیے ان پر کھیل کے دروازے بند کردیے جبکہ ساتھ ایک لاکھ پاؤنڈ جرمانہ بھی کیا تھا۔
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے قانون کی وجہ سے پی سی بی نے بھی اس پابندی کو تسلیم کیا۔دانش کنیریا نے اس کے خلاف اپیل کی جس کی سماعت دسمبر میں ہونے تھی، مگر کیس کے اہم گواہ میرون ویسٹ فیلڈ کی غیرحاضری کے باعث یہ 22 اپریل تک ملتوی کردی گئی تھی۔ اب انگلش کرکٹ بورڈ نے لندن ہائیکورٹ کی مدد سے ویسٹ فیلڈ کی سماعت میں شرکت یقینی بنالی ہے۔ دانش کنیریا نے کہاکہ مجھے اپنے کلیئر ہونے کی پوری امید ہے، میرے خلاف کوئی بھی ثبوت موجود نہیں ، میں شروع سے ہی یہ کہتا رہا ہوں کہ پابندی غیرمنصفانہ ہے۔
میں آخری لمحے تک اس کے خلاف فائٹ کروں گا۔ دانش کنیریا نے مزید کہا کہ مجھے پوری امید ہے کہ پینل اس سماعت میں مکمل طور پر خود مختار اور غیرجانبدار ہوگا، انگلش بورڈ کے فیصلے کی وجہ سے میری روزی روٹی بند ہوگئی ہے، ویسٹ فیلڈ کی سماعت میں موجودگی سے تمام چیزیں واضح ہوجائیں گے۔ دانش کنیریا نے مزید کہا کہ میں اس جنگ میں خود کو تنہا محسوس کررہا ہوں، کوئی بھی مجھے سپورٹ نہیں کررہا ہے، اس کیس نے میرے کیریئراور میری زندگی کو تباہ کرکے رکھ دیا، میں اپنے ہم وطنوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ مجھے سپورٹ کریں کیونکہ میں نے کچھ بھی غلط نہیں کیا ہے۔