مقتول اے ایس آئی بیمار بیٹی سے کیا وعدہ پورا نہ کرسکے

مقدمہ درج نہ ہوسکا، مقتول کے بھائیوں کے بیان کے بعد مقدمہ درج ہوگا،پولیس.

مرتضی حسین رضوی۔ فوٹو: فائل

اورنگی ٹائون میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بننے والے اے ایس آئی مرتضیٰ حسن رضوی نے قتل کے روز گھر سے دفتر جاتے ہوئے اپنی بیمار بیٹی سے وعدہ کیا تھا کہ وہ شام کو دفتر سے واپسی پر اسے ڈاکٹر کے پاس لے جا کر دوا دلوائیں گے لیکن زندگی نے انھیں مہلت نہ دی۔

تفصیلات کے مطابق اورنگی ٹائون میں قتل کیے جانے والے پاکستان بازار تھانے کے ہیڈ محرر اے ایس اے45 سالہ مرتضیٰ حسن رضوی3 بچوں کے باپ تھے اور مقتول3 بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے،وہ گزشتہ 12سالوں سے پاکستان بازار تھانے میں خدمات انجام دے رہے تھے جبکہ انھوں نے حال ہی میں اپر کورس مکمل کیا تھا، مقتول 15 روز قبل ہی اے ایس آئی کے عہدے پر فائز ہوئے تھے،ان کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ مرتضیٰ حسن کو یقین تھا کہ انھیں شہادت کا درجہ حاصل ہو گا۔




اہلخانہ نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ مرتضیٰ کے قتل میں ملوث ملزمان کو جلد از جلد گرفتار کیا جائے اور میڈیا پر ان کے چہرے سب کو دکھائے جائیں، واضح رہے کہ پیر کو اورنگی ٹائون کے علاقے سیکٹر ساڑھے11میں جوہر چوک کے قریب موٹر سائیکل سوار ملزمان نے نماز کی ادائیگی کے لیے قریبی امام بار گاہ جانے والے پاکستان بازار تھانے کے ہیڈ محرر اے ایس اے45 سالہ مرتضیٰ حسین رضوی کو فائرنگ کر کے قتل کر دیا تھا اورباآسانی فرار ہو گئے تھے، ادھر پاکستان بازار پولیس نے بتایا کہ مقتول مرتضیٰ کے قتل کا مقدمہ تاحال درج نہیں کیا گیا ہے، مقتول کے بھائیوں کا بیان لینے کے بعد مقدمہ درج کر لیا جائے گا۔
Load Next Story