ضمیر فروشی پر اعتراض کیوں

سچ پوچھئے تو ضمیر فروشی پر ہمیں بھی غصہ آتا ہے۔

barq@email.com

KARACHI:
ویسے تو ہمارے خان کپتان خان صاحب کا ہر '' بیانیہ '' اتنا زیادہ بیانیہ ہوتا ہے جیسے عبد الرحمان کی عبد الرحمنیہ لیکن بعض '' بیانیہ '' پڑھ کر نہ صرف ہمارا عش عش کرنے کو جی چاہتا ہے بلکہ ہمارا ٹٹوئے تحقیق بھی فش فش کرکے رسہ تڑانے لگتا ہے ۔

اب یہ خواہ مخواہ کی ضد انھوں نے پکڑ لی ہے ورنہ جب پارٹیوں میں ہر قسم کے فروش پائے جاتے ہیں وہاں اگر ضمیر فروش بھی ہوں تو کیا برائی ہے اور یہ تو بازار نہیں بلکہ میلہ ہے جہاں جتنی بھانت بھانت کی فروشیاں ہوں اتنا ہی زیادہ رش آور لگے گا۔ سچ پوچھئے تو ضمیر فروشی پر ہمیں بھی غصہ آتا ہے کیونکہ ہم نے ساری عمر اسی طلب میں گزاری کہ کاش کاش کوئی ہمارا بھی '' ضمیر '' کا خریدار نکل آئے اورہم بھی اس گھر کے دشمن داڑھ کے کنکر ،کباب کی ہڈی ، حلوے کے کانٹے اور جوتے کی کیل سے چھٹکارا پائیں لیکن راہ دیکھتے دیکھتے آنکھیں پتھرا گئیں کوئی خریدار آتا دکھائی نہیں دیا بلکہ اب تویہ نظر آرہا ہے کہ ہم اپنے دل پر یہ حسرت یہ آرزو یہ تمنا یہ گہرا داغ لے جائینگے بلکہ دو داغ کہیں، ایک وہ لفافے والی خواہش بھی ہے جو پوری نہیں ہوئی حالانکہ سنتے ہیں کہ آج کل صحافت میں لفافوں کا چلن بہت زیادہ ہو رہا ہے لیکن یا حسرتاً ؟

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ '' لفافہ '' یار ہوتا

اور یہ دوسری ضمیر فروشی والی خواہش ہے حالانکہ سنا ہے نہایت ہی ردی اور ماڑے ماٹے قسم کے ضمیر بھی بڑی اچھی قیمت پر بک جاتے ہیں لیکن ہم اپنا ضمیر ہاتھ میں لیے پھر رہے ہیں ہلکی ہلکی آوازیں بھی کبھی کبھی دے دیتے ہیں، اشارے کنائے بھی کر لیتے ہیں لیکن ، اب یہاں کوئی نہیں کوئی نہیں آئے گا ۔ایک زمانے میں تو ہم نے کچھ دلال قسم کے لوگوں سے بھی رابطہ کیا تھا بلکہ خیر سگالی کے طور پر ممکنہ خریداروں یعنی امریکا وغیرہ کی تعریف میں کچھ نظمیں کچھ غزلیں اور کچھ کالم بھی لکھتے تھے لیکن کسی نے اتنا بھی نہیں پوچھا کہ میاں کیا بیچتے ہو؟

پھر ایک '' دانائے راز '' کے مشورے پر ہم نے امریکا میں دنیا بھر کے کیڑے بھی ڈالے اور دنیا کے ہر جرم کے لیے امریکا کو ذمے دار ٹھرایا بلکہ یہ '' حسن طلب '' بھی لانچ کیا کہ ہم امریکا کے خلاف ایک زبردست کتاب لکھنے والے ہیں، کچھ بھی نہیں ہوا اور لفافوں کا تو آج بھی انتظارہے شاید شاید ۔خیر یہ توہم نے اپنے جلے دل کے پھپھولے پھوڑنے تھے سو پھوڑ لیے لیکن یہ خاں صاحب کو آخر ہوا کیا ہے کہ جو اپنے '' بیانئے '' کا رخ اپنی پارٹی کی طرف کردیا وہ بھی بیچارے ضمیر فروشوں کی طرف حالانکہ ہمارا تو خیال ہے کہ خاں صاحب کو ان کا شکر گزار ہونا چاہیے کہ ان کی ساری رونق شونق ان ہی فروشوں کے سر ہے ۔

خان صاحب سے اگر کوئی پوچھے کہ کیا آپ کچھ بھی نہیں بیچ رہے ہیں ؟ تو شاید خفا ہو جائیں ۔

اب ایسے فروشی سے بھر پور بازار میں اگر کوئی بیچارہ کچھ اور نہ پاکر '' ضمیر فروشی '' کرلے تو کیا برا کرتا ہے اور پھر اپنی چیز بیچ رہا ہے کسی اور کی تو نہیں ۔


بلکہ ہمارے حساب سے تو کم از کم ان پارٹیوں سے تو اچھے ہیں جو دوسروں کے ووٹوں بلکہ '' دوسروں '' یعنی انسانوں کو بیچتے ہیں، یہ پارٹی ٹکٹ کیا ہوتا ہے ؟ اور اس میں کیا بیچا جاتا ہے ؟ یہ خدا مارے کالانعام اور ہندسے ہی تو بیچے جاتے ہیں جن کی بیچاروں کو خبر تک نہیں کہ ہمیں کس نے ؟ کب ؟ کتنے میں بیچا ؟

کافی دن ہوئے الیکشن ہی کے دن تھے ہم نے ایک جلسے کے لاؤڈ اسپیکر سے محترمہ بی بی بے نظیر شھید کی ایک ریکارڈ شدہ تقریر سنی کچھ توآواز کی تاثیر ایک ایسی فضا میں جہاں ہم روزانہ لاوڈ اسپیکروں پر مختلف آوازیں سنتے تھے، اس لیے کھڑے ہو کر سننے لگے ، فرما رہی تھیں ۔ موضوع شاید '' ووٹ کا تقدس '' تھا ۔یہ جو تمہارے ووٹ ہیں انھیں احتیاط سے استعمال کرو۔کہ یہ تمہارے ووٹ نہیں میرے ووٹ ہیں قوم کے ووٹ ہیںعوام کے ووٹ ہیں قائد عوام کے ووٹ ہیں جمہوریت کے ووٹ ہیں ۔

اس حلقے میں جو امیدوارکھڑا تھا وہ تازہ تازہ ایک اور پارٹی سے آیا تھا اور دوکروڑ پارٹی چندہ دے کر ٹکٹ کا حق دار ہوا تھا ۔

معلوم نہیں خاں صاحب کی پارٹی میں ایسا ہوتا ہے یا نہیں لیکن بہرحال ٹکٹ فروشی بھی ایک فروشی ہی ہے جس میں فروخت ہونے والوں کو پتہ تک نہیں ہوتا۔

ایسے میں اگر کوئی خود اپنا ذاتی جدی پشتی ملکیت اور بلا شرکت غیرے '' ضمیر '' بیچتا ہے تو آخر کس قانون کے کس دفعہ کے تحت یہ ناجائز فروشی ہے ؟ ذرا سوچنے والی بات ہے اس پر ایک نیک چلن خاتون کی دلیل یاد آجاتی ہے جسے عصمت فروشی کے جرم میں گرفتار کیا گیا تھا اور اس نے عدالت میں یہ عذر پیش کیا تھا کہ میں تو سمجھ رہی تھی کہ عصمت میری اپنی ہے کیا پتہ تھا کہ یہ کسی '' اور '' کی ہے ۔

ضمیر کا سلسلہ بھی ہو بہو ایسا ہے جس پر خاں صاحب تو کیا کسی کو بھی معترض نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہمیں اگر کوئی کہے تو ابھی اور اسی وقت ثابت کر سکتے ہیں کہ انسانی حقوق، انسانی آزادی اور انسانی اخلاق کی صریحً خلاف ورزی ہے کہ کسی کو اس کی اپنی نجی ملکیت کو بیچنے سے روکا جائے ۔

اور پھر سیاست میں تو یہ ضروری اتنی زیادہ ہے کہ ہم چیلنج کرتے ہیں کہ تمام '' سیاسیوں'' کی تلاشی لی جائے، اگر کسی کے پاس ضمیر نکل آیا تو جو سزا ضمیر کی وہ ہماری، اور ہمارے ٹٹوئے تحقیق کی کیونکہ یہ پتہ بہ تحقیق لگایا ہے کہ اس نام کی کوئی چیز کم از کم سیاسی مارکیٹ میں موجود نہیں ہے،سارے کے سارے ہی ۔ مطلب ہے کہ '' فروشی '' کے کاروبار میں مصروف ہیں صرف دکانوں اور قیمتوں کا فرق ہے۔بلکہ ہم تو افسوس کر رہے ہیں کہ کاش ہم بھی سیاسی بازار میں پہنچ چکے ہوتے تو آج اس کم بخت ضمیر کے کچوکوں سے بچے ہوتے لیکن ۔ یہ نہ تھی ۔
Load Next Story