میر پور خاص این اے 226 این اے 277 90 ہزار نئے ووٹوں سے پیپلز پارٹی کو پریشانی

قومی اسمبلی کی نشست این اے 227 میں تعلقہ جھڈو، تعلقہ ڈگری اور تعلقہ کوٹ غلام محمد جزوی شامل ہے۔

قومی اسمبلی کی نشست این اے 227 میں تعلقہ جھڈو، تعلقہ ڈگری اور تعلقہ کوٹ غلام محمد جزوی شامل ہے۔ فوٹو : فائل

RAJANPUR:
صوبہ سندھ کا زرخیز ضلع میرپورخاص سیاسی میدان میں بھی بڑا زرخیز ضلع رہا ہے اس میں قومی اسمبلی کی2 سیٹیں این اے 227 اور این اے 226 جبکہ صوبائی کی چار سیٹیں پی ایس64پی ایس,65 پی ایس,66پی ایس,67شامل ہیں ۔

قومی اسمبلی کی نشست این اے 227 میں تعلقہ جھڈو، تعلقہ ڈگری اور تعلقہ کوٹ غلام محمد جزوی شامل ہے۔ یہاں پر رجسٹرڈ ووٹ کی تعداد 2,92,653 ہے۔ مرد ووٹرز 1,55,642، خواتین ووٹرز 1,37,011 پولنگ اسٹیشن 249، مرد 40عورتوں کے 40مشترکہ 169جبکہ 675ٹوٹل پولنگ بوتھوں میں 399مرد اور276 خواتین کے ہیں۔ اسی حلقہ میں پیپلز پارٹی اور فنکشنل لیگ اور 11جماعتی اتحاد کے مشترکہ امیدوار کے درمیان مقابلے کا امکان ہے۔

اس حلقہ سے 2002ء میں پی پی پی کے قربان علی شاہ 56,627 ووٹ لیکرجیتے اور2008ء میں پی پی پی کے میر منور تالپورجوصدرآصف زرداری کے بہنوئی اورفریال تالپورکے شوہرہیں 82,697 ووٹ لے کرکامیاب ہوئے تھے۔ان کے قریب ترین حریف سیدقربان علی شاہ جو اب ق لیگ کے ٹکٹ پرانتخاب لڑرہے تھے کو31,159 ووٹ ملے تھے۔ مسلم لیگ ن کے امیدوارسردارغلام مصطفی خاصخیلی کو10ہزار359ووٹ ملے تھے۔



یہ حلقہ پیپلزپارٹی کا گڑھ مانا جاتا ہے گیارہ مئی کے انتخابات میں اس حلقے میں پی پی پی کے میر منور تالپور ، مسلم لیگ فنکشنل کے قربان علی شاہ کے علاوہ عبدالغنی تالپور، سردار غلام مصطفی خاصخیلی نور احمد بھرگڑی ، ارباب عنایت اللہ ، نذیر حیدری ، میر بہرام تالپور ، جماعت اسلامی کے طاہر جاٹ اور آصف رضا قائم خانی سمیت 29امیدوار وں نے فارم جمع کرائے ، اسی حلقہ میں اس مرتبہ مہر برادری کے ووٹ تقسیم ہونے کا خدشہ ہے ۔ اس حلقے سے میر منور علی تالپور پی پی پی ، قربان علی شاہ مسلم لیگ فنکشنل اور آزاد امیدوار غلام مصطفی خاصخیلی کے درمیان زبردست مقابلہ متوقع ہے۔فنکشنل لیگ کے قربان علی شاہ اس علاقے میں کافی اثر و سوخ رکھتے ہیں اور اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ ان کا اپنا ووٹ بینک بھی وافرموجود ہے ۔

ایم کیو ایم کی جانب سے اس حلقہ سے شبیر احمدقائم خانی، ضیا الحق اور یوسف بھی امیدوارہیں لیکن ان کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی تک نہیں ہوا کہ کون میدان میں اترے گا اس کا فیصلہ MQM کی اعلیٰ قیادت کی جانب سے جلد متوقع ہے، دوسری جانب حلقہ NA-226میں بھی پی پی پی اور مسلم لیگ (ف) میں کانٹے دار مقابلہ کی توقع کی جارہی ہے ، اس حلقہ میں مجموعی ووٹرز کی تعداد 3لاکھ 24ہزار 839ہے ۔

اس حلقے میں پی پی پی کے پیر آفتاب حسین شاہ جیلانی 2002ء اور 2008ء میں کامیاب رہے ہیں لیکن پی پی پی کی قیادت نے پورے دور میں انہیں مکمل طور پر نظر انداز کیا اور پوری توجہ این اے 227 کامیاب ہونے والے امیدوار میر منور تالپور کے حلقہ این اے 227پر مرکوز رکھی کیونکہ وہ صدر آصف علی زرداری کے بہنوئی تھے۔

اس مرتبہ پیر آفتاب حسین شاہ جیلانی کے چھوٹے بھائی سابق ضلعی ناظم پیر شفقت حسین شاہ جیلانی کوپی پی پی کا امیدوار نامزد کیا گیا ہے۔ جبکہ ان کے مدمقابل فنکشنل لیگ کے قربان علی شاہ بھی ہیں، جبکہ زاہد حسین مری، سابق سنیٹر عبدالغفار قریشی، سابقہ وزیر اعظم محمد خان جونیجو کے صاحبزادے اسد جونیجو (آزاد) حافظ محمد صادق (جے یو آئی)، سرفراز علی جونیجو، جاوید احمد خان پاپا ، سید عنایت علی شاہ جماعت اسلامی کے مولانا عزیز الرحمن

سمیت 38امیدوار میدان میں ہیں۔ واضح رہے کہ قومی اسمبلی کے ان دو نشستوں این اے 226اور 227پر 2008ء کے مقابلے میں 2013کے انتخابات میں 90ہزار سے زائدنئے ووٹ شامل ہونے اور دوہرے ووٹ خارج ہونے سے پی پی پی کو پریشانی کا سامنا ہے جبکہ متحدہ قومی موومنٹ بھی متاثر ہوگی۔



این اے 226پر تقریباً 22ہزار 5سو اور این اے 227پر تقریباً48ہزار سات سو پچاس ووٹ خارج ہوئے ہیں۔ دوسری جانب صوبائی نشستوں حلقہ پی ایس 65پر سترہ ہزار آٹھ سو 28ووٹ خارج اور کم ہوئے، پی ایس 66پر اور 67پر ووٹوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے سپریم کورٹ کے حکم پر بوگس ووٹ کم ہوئے ان میں خارج ہونے والے ووٹوں میں زیادہ تعداد پی پی پی اور ایم کیوایم کی ہے۔ دوسری جانب پی ایس65 کے2008ء میں رجسٹرڈ ووٹوں کی تعداد ایک لاکھ 59ہزار آٹھ سو گیارہ تھی جو کہ اب کم ہوکر ایک لاکھ 46ہزار کے قریب ہوگئی ہے۔


پی ایس 66کے 2008ء میں رجسٹرڈ ووٹ 77ہزار 388تھے جو اب بڑھ کر ایک لاکھ 31ہزار 845ہوگئے ہیں اس طرح پی ایس 67کے 2008میں کل رجسٹرڈ ووٹ ایک لاکھ 7ہزار 669تھے جو اب بڑھ کر 26ہزار 412ہوگئے ہیں۔ دونوں کے فرق سے پی پی اور ایم کیو ایم کے حلقوں میں ووٹرز کی تعداد میں کمی اہمیت اختیار کر جائے گی۔

میرپورخاص ضلع میں اس وقت حلقہ پی ایس67میں 30سے زائد امیدوار وں نے فارم جمع کرائے۔ ان میں بڑی تعداد پہلی دفعہ منظر عام پر آئی ہے اور پرانے کھلاڑی بھی تیاری میں مصرو ف ہیں۔ سابق صوبائی وزیر شبیر احمد قائم خانی، سابق ناظم امیر حسن قائم خانی، نواب عبدالخالد تالپور، محمد حنیف خان جماعت اسلامی ، سردار غلام مصطفی، میر علی رضا، میر جان اللہ، نوابزادہ میر نصر اللہ، سابق ناظم آصف بھرگڑی، میر عتیق تالپور ، محمد نور سانسی، جمیل احمد بھرگڑی، سید شفقت حسین شاہ جیلانی، نواب یونس تالپور اور دیگر حصہ لینے کیلئے تیار ہیں۔

یہ سیٹ ماضی میں پی پی پی کے پاس رہی ہے اور میر محبو ب تالپور 2مرتبہ کامیاب ہوئے ہیں۔ اس مرتبہ انہوں نے پی پی پی کے ٹکٹ کیلئے درخواست نہیں دی۔ اس وقت فنکشنل لیگ نے نوراحمد بھرگڑی کوٹکٹ دیا لیکن بعد ازاں اسے میر جان اللہ کو د ے دیا گیا ہے چونکہ پی پی پی کے امیدوار جمیل احمد بھرگڑی اور نور احمد بھرگڑی دونوں سگے بھائی تھے۔ اس حلقہ پر فنکشنل لیگ اپنا خاصا اثر رکھتی ہے تو دوسری جانب پی پی بھی اپنے امیدوار جتوانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگائے گی۔ اس دفعہ مقابلہ سخت ہونے کی توقع ہے۔

حلقہ پی ایس 64سے ماضی میں 2002کے الیکشن میں شبیر احمد قائم خانی جن کا تعلق ایم کیو ایم سے تھا کامیاب ہوئے جبکہ 2008میں بھی ایم کیو ایم کے ہی امیدوار فہیم الطافی کامیاب ہوئے۔ اب 2013کے الیکشن میں پوزیشن ملی جلی ہے اس وقت تک ایم کیو ایم نے اپنے حتمی امیدوار کو میدان میں لانے کیلئے نام کا اعلان نہیں کیا گوکہ اس حلقہ سے صابر جلیل، شبیر قائم خانی، ارشاد کمالی، ڈاکٹر ظفر کمالی، فہیم احمد الطافی، فرید عالم، عاصم آفریدی، رئیس احمد خان سمیت 14افراد نے کاغذات نامزدگی جمع کرائے ہیں۔



اس حلقہ میں مجموعی طور پر ایک لاکھ 45ہزار 993رجسٹر ووٹ ہیں۔ پی پی نے بھی اس وقت تک اپنے حتمی امیدوار کا نام اعلان نہیں کیا ، تاہم متحدہ دینی محاذ کے امیدوار عطا ء اللہ حیدری آزاد امیدوار زاہد حسین مری اور سعید قریشی، جبکہ جماعت اسلامی کے نور الہیٰ مغل سمیت 60سے زائد امیدوار میدان میں ہیں، اصل مقابلہ ایم کیو ایم، پی پی اور مسلم لیگ (ف) کے درمیان ہونے کی توقع ہے۔

پی ایس 66میں اس وقت بلندو بانگ دعوے جاری ہیں اور اصل مقابلہ پاکستان پیپلز پارٹی کے میرحاجی حیات اور پیپلز مسلم لیگ کے امیدوار سابق وزیراعلیٰ سندھ ارباب غلام رحیم کے صاحبزادے ارباب عنایت اللہ میں ہونے کی توقع ہے۔ ماضی میں اس سیٹ 5مرتبہ پی پی پی کے میر حاجی حیات تالپور کامیاب رہے ہیں۔ اس مرتبہ بھی پی پی پی کی جانب سے ٹکٹ ملنے کے بعد وہ میدان میں ہیں۔بیٹے کی الیکشن مہم چلانے کیلئے ارباب غلام رحیم خود مسلسل میرپورخاص میں ہیں۔

میر حیات پرانے کھلاڑی جبکہ ارباب رحیم بھی سیاست کے ماہر مانے جاتے ہیں۔ امید کی جا رہی ہے کہ سخت مقابلے کے بعد جیت جس کے حصے میں بھی آئے مارجن کم ہوگا ۔ اس حلقہ سے جماعت اسلامی کے راشد آرائیں اور ڈاکٹر شمشاد احمد قائم خانی ، میر ذوالفقار تالپور ، میر ظفر اللہ تالپور ، میر وقار تالپور (مولانا عبدالرحمن بلوچ جمیعت علماء اسلام (ف) ، مجید بھگیو ، ممتاز کھوسو(قومی عوامی تحریک) ایم کیو ایم کے شبیر احمد قائم خانی اور علی حسن قائم خانی نے فارم جمع کرائے ہیں۔ یہاں پر ووٹوں کی مجموعی تعدا ایک لاکھ تین ہزار آٹھ سو پینتالیس رجسٹرڈ ووٹ ہیں۔

حلقہ پی ایس 65میں بھی 2002ء میں پی پی کے سید عرفان شاہ جبکہ 2008ء میں بھی پی پی پی کے علی نواز شاہ کامیاب رہے ہیں۔ اس حلقہ میں ووٹوں کی مجموعی تعدا د ایک لاکھ 41ہزار 983 ہے۔ اس حلقہ سے ایک مرتبہ پھر پی پی پی نے علی نواز شاہ کو ٹکٹ دیا ہے ، ان کے مقابلے میں پیپلز مسلم لیگ کے اے ڈی لاکھو، ذوالفقار لغاری ، امتیار علی شاہ ، ایم کیو ایم کے شبیر قائم خانی، عابد، صادق اور طارق رانا جماعت اسلامی کے عبدالکریم شیخ سمیت 29امیدوار میدان میں ہیں ، یہاں پر بھی مقابلہ پی پی پی، پیپلز مسلم لیگ اور ایم کیو ایم کے درمیان ہونے کی توقع ہے ۔ ضلع میرپورخاص کی مجموعی صورتحال کو اگر دیکھا جائے تو 4 جماعتیں پاکستان پیپلز پارٹی ، مسلم لیگ فنکشنل، ایم کیو ایم اور پیپلز مسلم لیگ کے مابین بڑے معرکے ہوں گے جبکہ 10جماعتی اتحاد بھی کسی کی جیت اور کسی کی ہار میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ اس کا وزن جس پلڑے میں پڑے گا وزن رکھے گا۔

تحریک انصاف نے ضلع میرپورخاص کی این اے حلقہ226,227(قومی اسمبلی) کی سیٹوں پر صرف این اے 266پر میر عتیق اللہ کو میدان میں اتارا ہے ، تحریک انصاف کے ذرائع کے مطابق انہیں مسلم لیگ فنکشنل کی حمایت حاصل ہونے کی توقع ہے جبکہ ضلع میرپورخاص کی پی ایس حلقہ 64,65,66,67 (صوبائی اسمبلی) کی نشستوں سے تین نشستوں پر اپنے امیدوار کھڑے کئے گئے ہیں ، ان میں PS-64پر ڈاکٹر ذوالفقار ملکانی، پی ایس65پر قائم ملکانی ، پی ایس 67پر شفقت شاہ رضوی میدان میں آئے ہیں، جبکہ پی ایس 66 پر کوئی امیدوار میدان میں نہیں ہے ۔

این اے 266پر کھڑے ہونے والے میر عتیق سابقہ ایم پی اے میر لطف اللہ کے بیٹے ہیں جبکہPS-64پر کھڑے ہونے والے ذوالفقار ملکانی سابقہ دور میں مسلم لیگ (ن) کے پلیٹ فارم سے حصہ لے چکے ہیں اور سابقہ یوسی ناظم بھی رہے ہیں ۔ واضح رہے کہ تحریک انصاف میں الیکشن لڑنے والوں کی اکثریت نئی ہے اور میر عتیق اگر دیگر جماعتوں کی حمایت حاصل کرلیتے ہیں تو این اے 226سے مقابلے میں آسکتے ہیں۔
Load Next Story