اکنامک فورم کا انعقاد تعلیم توانائی اور پانی کا ضیاع بڑے معاشی چیلنجز قرار

علاقائی تجارت اور سماجی تحفظ بھی سنگین چیلنجز ہیں،60 ارب ڈالر کا پانی بچانے کیلیے بڑے آبی ذخائر تعمیر، تعلیمی بجٹ۔۔۔

وزارت توانائی قائم، سماجی شعبے کیلیے قومی پیداوار کا 3 فیصد مختص، سرکاری اداروں کی نجکاری، ٹیکس اصلاحات، بجلی پر سبسڈی کم اور دیگر سفارشات پیش۔ فوٹو : ایکسپریس

پاکستان کی کاروباری اشرافیہ پاکستان بزنس کونسل نے تعلیم، توانائی، معاشی استحکام، علاقائی تجارت اور سماجی تحفظ کے ساتھ پانی کے ضیاع کو بھی معیشت کے سنگین چینلج قرار دے دیا ہے۔

پاکستان بزنس کونسل کے تحت دوسرا اکنامک فورم کراچی میں منعقد ہوا جس میں ملک بھر سے مختلف شعبوں کے ماہرین نمایاں کاروباری شخصیات نے شرکت کی۔ فورم میں چھ بنیادی شعبوں تعلیم، توانائی، معاشی استحکام ،علاقائی تجارت، سماجی تحفظ اور پانی کے کفایت بخش استعمال پر پاکستان بزنس کونسل کی تکنیکی کمیٹیوں کے پینل مذاکرے منعقد ہوئے جس میں ہر پینل کے چیئرمین نے ان بنیادی موضوعات پر کمیٹی کی ریسرچ اور تجاویز پیش کیں جن پر فورم کے شرکا نے سوالات اٹھائے جن کے جواب پینل میں شامل ماہرین نے دیے۔

اکنامک فورم کے دوران تجاویز دی گئی کہ پانی کے ضیاع کو روکنے کیلیے ملک میں فوری طور پر بڑے آبی ذخائر کی تعمیر ضروری ہے کیونکہ ملک میں سالانہ 60 ارب ڈالر مالیت کا 30ملین کیوبک فٹ پانی سمندر میں گر کر ضائع ہورہا ہے، تعلیم کی بہتری کے لیے ایجوکیشن بجٹ جی ڈی پی کے 5 فیصد تک بڑھانے، توانائی کے شعبے کے مسائل حل کرنے کیلیے متعلقہ محکموں کو ملا کر وزارت توانائی کی تشکیل، غربت کے خاتمے اور روزگار کی فراہمی اور خواتین کی بہبود سمیت سماجی شعبے کیلیے جی ڈی پی کے 3 فیصد بجٹ مختص کرنے، خسارے میں چلنے والے سرکاری اداروں کا نقصان کم کرنے یا نجکاری، ٹیکس اصلاحات، پاورسیکٹر کی سبسڈی کم کرنے، صوبوں کا ریونیو بڑھانے سمیت دیگر اہم سفارشات پیش کی گئیں۔

اس موقع پر ڈاکٹر شمس قاسم لاکھا نے کہا کہ دنیا بھر میں ہر دس میں سے جو ایک بچہ اسکول نہیں جاتا اس کا تعلق پاکستان سے ہے، ملک میں فوری طور پالیسی اصلاحات کی ضرور ت ہے جو نہ صرف تعلیم تک رسائی بڑھائے بلکہ تمام سطحوں پر تعلیم کی خاصیت اور معیار تعلیم کو بہتر بنانے میں مدد کرے، آئندہ 5 سال میں تعلیمی بجٹ 2 فیصد سے بڑھا کر جی ڈی پی کا 5 فیصد کرنا ضروری ہے ، نصاب اور معیار تدریس کی بہتری کے ساتھ صوبوں اور ڈسٹرکٹ کی سطح پر پالیسیوں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے مدرسوں میں تکنیکی تربیت کے پروگرام اور علما پر مشتمل مشاورتی بورڈ کے ذریعے مدارس کے نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کی تجاویز دیں۔




چیئرمین سکندر مصطفیٰ خان نے پانی پر پریزنٹیشن میں نشاندہی کی کہ پاکستان فی کس 1000 مکعب میٹر پانی کی کمی کی حد سے اوپر ہے، پاکستان کی بڑھتی آبادی کے ساتھ، زراعت اور صنعتوں کیلیے پانی کا استعمال ضروری ہے، پانی کے وسائل کا سب سے زیادہ موثر طریقے سے استعمال یقینی بنانے اور وسط مدتی بحرانوں سے بچنے کیلیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ انجینئر سلیمان نجیب نے کہا کہ پاکستان میں سالانہ 30 ملین کیوبک فٹ پانی سمندر میں گر کر ضائع ہوتا ہے جس میں سے ہر ایک ملین کیوبک فٹ پانی کی معاشی قیمت 2 ارب ڈالر ہے۔ فاروق رحمت اللہ کی زیر صدارت توانائی پینل نے توانائی کے بحران پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ توانائی بحران نے پاکستان کی معاشی ترقی کی رفتار گزشتہ 4 سال میں 3 سے 4 فیصد کم کردی ہے اور ملک میں کسی بھی قابل ذکر مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو روک دیا ہے، 2030 تک پاکستان میں توانائی کی طلب رسد سے تقریباً 64 فیصد زیادہ ہونے کا اندازہ ہے۔ پینل نے سفارش کی کہ توانائی کی ایک ایسی وزارت قائم کی جائے جسے توانائی کی مربوط منصوبہ بندی ڈیزائن کرنے کا فرض سونپا جائے۔

ڈاکٹر اسد سید نے سوشل پروٹیکشن پینل کی صدارت کرتے ہوئے نشاندہی کی کہ تقریباً پاکستان کی آبادی کا آدھا (49 فیصد) آج غربت میں ہے اور حکومت جی ڈی پی کا صرف 1فیصد سے کم سماجی تحفظ پر خرچ کرتی ہے، ملک میں غربت اور عدم مساوات کو کم کرنے کے لیے پینل نے حکومت سے ایک مؤثر سماجی تحفظ کی پالیسی لاگو کرنے کی سفارش کی اور کہا کہ آئندہ 3سے 5 سال میں ٹارگٹڈ سبسڈیز کے لیے جی ڈی پی کا کم سے کم 3 فیصد تک اضافہ کیا جائے۔

میکرو اکنامک پینل کی سربراہی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے سابق گورنر ڈاکٹر عشرت حسین نے کی۔ پینل نے زور دیا کہ طویل عرصے سے موجود میکرواکنامک کمزوری بڑے پیمانے پر لیے جانیوالے حکومتی قرضوں اور افراط زر کی شرح میں اضافے کی وجہ ہے جس کی وجہ سے مالیاتی خسارہ 8 فیصد تک پہنچ گیا ہے اس کو کم کر کے 4 تک لانا ضروری ہے، اگر مجموعی ملکی پیداوار کی شرح کو مستقبل میں 6 سے 7 فیصد تک لے جانا ہے تو ان مسائل، پالیسیوں کی بے یقینی اور کمزور انداز حکمرانی فوری حل طلب معاملات ہیں، آخری پریزینٹیشن علاقائی تجارت کے موضوع پر تھی، اس پینل کی سربراہی ڈاکٹر اعجاز نبی نے کی۔

پینل نے سفارش کی کہ بھارت کے ساتھ تجارت کیلیے پالیسی احتیاط سے مرتب کی جائے۔پینل نے دیگر علاقائی ملکوں سے تجارت کی بھی سفارش کی۔فورم کے اختتام پر مقامی ہوٹل میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان بزنس کونسل کے چیئرمین سکندرمصطفیٰ خان، ڈاکٹر عشرت حسین، شمس قاسم لاکھا، فاروق رحمت اﷲ، بشیر علی محمد، انجینئر سلیمان نجیب خان و دیگر نے میڈیا کو بتایا کہ دوسرے اکنامک فورم میں ماہرین کی تجاویز پر مبنی قومی معاشی ایجنڈا مرتب کرکے آنیوالی حکومت اور تمام سیاسی جماعتوں کو فراہم کیا جائیگا تاکہ اس ایجنڈے کی روشنی میں آئندہ کی پالیسیاں مرتب کی جاسکیں۔
Load Next Story