سیمنٹ 15 سے 30 روپے فی بوری مہنگی ہونے کاامکان
ٹرانسپورٹرز نے کرائے بڑھادیے، پیداواری لاگت میں اضافہ صارفین کو منتقل کیا جائیگا، ذرائع
ٹرانسپورٹرز نے کرائے بڑھادیے، پیداواری لاگت میں اضافہ صارفین کو منتقل کیا جائیگا، ذرائع فوٹو: فائل
ٹرانسپورٹرز کی جانب سے کوئلے کی ترسیل کے لیے کرایوں میں فی ٹن 900 سے 1400 روپے اضافے کا اعلان کردیا گیا ہے جس سے سیمنٹ کی پیداواری لاگت میں فی بوری 12 سے 15 روپے کا اضافہ ہوگا۔
صنعتی شعبے کے مطابق ملک کی اہم صنعتیں کراچی سے ملک بھر میں صنعتی خام مال کی ترسیل کرنیو الے ٹرانسپورٹرز کے ہاتھوں بے بس ہیں، ٹرانسپورٹرز کی اس اعلان کا اطلاق 14 اپریل سے کردیا گیا ہے۔ سیمنٹ صنعت کے ذرائع نے بتایا کہ ذرائع نقل و حمل کے کرائے میں یہ اضافہ مختلف اشیا خصوصاً سیمنٹ کو بری طرح متاثر کریگا جنہیں خام مال کی نقل و حرکت اور پورٹس سے کوئلہ ملک کے دیگر حصوں میں لے جانے، تیار اشیا کو برآمدی مقاصد کیلیے پورٹس اور گھریلو استعمال کیلیے مقام منڈیوں تک لانے کیلیے کئی بار اس اضافے سے متاثرہونا پڑے گا۔
سیمنٹ کی صنعت ایندھن کے طور پر درآمدی کوئلہ استعمال کرتی ہے اور ایکسل لوڈ کے اطلاق کی وجہ سے کوئلے کی نقل و حرکت کی لاگت میں ملک کے دیگر حصوں میں فیکٹریوں میں ترسیل کے اعتبار سے فی ٹن 900 روپے سے1400 روپے کا اضافہ ہوگیاہے، لاگت میں اس ردوبدل کی وجہ سے فی بوری سیمنٹ کی لاگت پر12 سے 15 روپے کا فرق پڑنے کا اندیشہ ہے، سیمنٹ پیداکرنے والوں کی لاگت کے اضافے کولامحالہ اضافی بوجھ میںحصہ ڈالنے کیلیے ریٹیلرزکو منتقل کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب مقامی منڈی (جنوبی زون) اور اس کے ساتھ ساتھ برآمدی مقاصد کیلیے سیمنٹ کی ترسیل، نقل وحرکت کی لاگت میں یونٹ کے محل وقوع کے اعتبار سے فی ٹن 300 سے 600 روپے اضافہ کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے فی بوری سیمنٹ کی قیمت میں مزید 15 سے 30 روپے اضافہ ہوگا، مزید برآں وزن کی حد پرڈیوسرز کو اس بات کی پابند بنا رہی ہے کہ وہ خام مال اور تیار اشیا 14 اپریل کے بعد سے 50 ٹن سے زیادہ نہ لے جا سکیں۔
ذرائع نے کہا کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ شاہراہوں پر وزن کو محدود کرنے کا فیصلہ بغیر کسی منصوبہ بندی کے اچانک کیا گیا ہوگا، قدرتی طور پر صنعت کا پہیہ چلاتے رہنے کیلیے پہلے کی نسبت دگنے ٹرک درکار ہوں گے اور نقل و حرکت پر لاگت بھی دگنی ہوجائیگی جس کا براہ راست اثر تیار اشیاکی قیمتوں پر پڑے گا۔ سیمنٹ سیکٹرکے ذرائع نے متعلقہ حکام سے درخواست کی ہے کہ ایکسل لوڈ کی حد کا اطلاق منسوخ کیا جائے تاکہ گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے اس کی موزوں انداز میں منصوبہ بندی کی جاسکے۔
صنعتی شعبے کے مطابق ملک کی اہم صنعتیں کراچی سے ملک بھر میں صنعتی خام مال کی ترسیل کرنیو الے ٹرانسپورٹرز کے ہاتھوں بے بس ہیں، ٹرانسپورٹرز کی اس اعلان کا اطلاق 14 اپریل سے کردیا گیا ہے۔ سیمنٹ صنعت کے ذرائع نے بتایا کہ ذرائع نقل و حمل کے کرائے میں یہ اضافہ مختلف اشیا خصوصاً سیمنٹ کو بری طرح متاثر کریگا جنہیں خام مال کی نقل و حرکت اور پورٹس سے کوئلہ ملک کے دیگر حصوں میں لے جانے، تیار اشیا کو برآمدی مقاصد کیلیے پورٹس اور گھریلو استعمال کیلیے مقام منڈیوں تک لانے کیلیے کئی بار اس اضافے سے متاثرہونا پڑے گا۔
سیمنٹ کی صنعت ایندھن کے طور پر درآمدی کوئلہ استعمال کرتی ہے اور ایکسل لوڈ کے اطلاق کی وجہ سے کوئلے کی نقل و حرکت کی لاگت میں ملک کے دیگر حصوں میں فیکٹریوں میں ترسیل کے اعتبار سے فی ٹن 900 روپے سے1400 روپے کا اضافہ ہوگیاہے، لاگت میں اس ردوبدل کی وجہ سے فی بوری سیمنٹ کی لاگت پر12 سے 15 روپے کا فرق پڑنے کا اندیشہ ہے، سیمنٹ پیداکرنے والوں کی لاگت کے اضافے کولامحالہ اضافی بوجھ میںحصہ ڈالنے کیلیے ریٹیلرزکو منتقل کرنا پڑے گا۔
دوسری جانب مقامی منڈی (جنوبی زون) اور اس کے ساتھ ساتھ برآمدی مقاصد کیلیے سیمنٹ کی ترسیل، نقل وحرکت کی لاگت میں یونٹ کے محل وقوع کے اعتبار سے فی ٹن 300 سے 600 روپے اضافہ کردیا گیا ہے جس کی وجہ سے فی بوری سیمنٹ کی قیمت میں مزید 15 سے 30 روپے اضافہ ہوگا، مزید برآں وزن کی حد پرڈیوسرز کو اس بات کی پابند بنا رہی ہے کہ وہ خام مال اور تیار اشیا 14 اپریل کے بعد سے 50 ٹن سے زیادہ نہ لے جا سکیں۔
ذرائع نے کہا کہ یہ ممکن نہیں ہے کہ شاہراہوں پر وزن کو محدود کرنے کا فیصلہ بغیر کسی منصوبہ بندی کے اچانک کیا گیا ہوگا، قدرتی طور پر صنعت کا پہیہ چلاتے رہنے کیلیے پہلے کی نسبت دگنے ٹرک درکار ہوں گے اور نقل و حرکت پر لاگت بھی دگنی ہوجائیگی جس کا براہ راست اثر تیار اشیاکی قیمتوں پر پڑے گا۔ سیمنٹ سیکٹرکے ذرائع نے متعلقہ حکام سے درخواست کی ہے کہ ایکسل لوڈ کی حد کا اطلاق منسوخ کیا جائے تاکہ گاڑیوں کی تعداد میں اضافہ کرتے ہوئے اس کی موزوں انداز میں منصوبہ بندی کی جاسکے۔