بلدیاتی ملازمین کی تنخواہوں کے 50 کروڑ روپے عدالت میں جمع کرانے کا حکم

ہرماہ 50کروڑ روپے سندھ ہائیکورٹ کے ناظر کے پاس 10تاریخ سے قبل جمع کرانے کی ہدایت۔

ہرماہ 50کروڑ روپے سندھ ہائیکورٹ کے ناظر کے پاس 10تاریخ سے قبل جمع کرانے کی ہدایت،شہر میں صفائی نہ ہونے پرڈائریکٹر سینی ٹیشن طلب۔ فوٹو: فائل

LONDON:
سندھ ہائیکورٹ نے حکومت سندھ کو کے ایم سی کے 54 ہزار ملازمین وپنشنرزکی رواں ماہ کی تنخواہ 7دن میں سندھ ہائیکورٹ کے ناظر کے پاس جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

عدالت نے آبزرویشن دی کہ حکومت سندھ کی جانب سے عدم توجہی کے باعث معاملہ حل نہیں ہوسکا ،آئندہ گرانٹ کی رقم 50کروڑ روپے ہر ماہ کی 10تاریخ سے قبل ناظر کے پاس جمع کرائی جائے،چیف جسٹس مشیر عالم کی سربراہی میں دورکنی بینچ نے شہر میں صفائی کی ابتر صورتحال اور کچرے کے جمع ہوجانے والے ڈھیروں پر برہمی کااظہار کرتے ہوئے کے ایم سی کے ڈائریکٹر سینیٹیشن کو بھی آئندہ سماعت پر طلب کرلیا ہے۔




کے ایم سی کے ملازمین اور پنشنرز کی تنخواہوں سے متعلق سجن یونین اور ندیم شیخ ایڈوکیٹ کی درخواست کی سماعت کے موقع پر عدالت نے آبزروکیا کہ عدالت نے 27مارچ کو ڈپٹی ڈائریکٹر فنانس شکیل احمد کی موجودگی میں ہدایت کی تھی کہ گرانٹ کی رقم 50 کروڑ روپے ہر ماہ کی 10تاریخ سے قبل ادا کردی جائے تاکہ ملازمین کو بروقت تنخواہوں کی ادائیگی ممکن ہوسکے۔

عدالت نے آبزروکیا کہ چیف سیکریٹری کی سربراہی میں ہونے والا اجلاس بھی نے نتیجہ رہا،چیف سیکریٹری کو عام انتخابات سے قبل صوبائی فنانس کمیشن کامسئلہ حل کرنے کی ہدایت کی گئی تھی مگر وہ بھی طے نہیں ہوسکا ، اس موقع پر ایڈیشنل ایڈوکیٹ جنرل میران محمد شاہ نے عدالت کو بتایا کہ آئندہ سماعت تک یہ مسئلہ حل کرلیا جائے گا، عدالت نے ہدایت کی کہ رواں ماہ کی تنخواہ سات دن میں ادا کی جائے اور ہرماہ گرانٹ کی رقم 50کروڑ روپے سندھ ہائیکورٹ کے ناظر کے پاس 10تاریخ سے قبل جمع کرائی جائے۔
Load Next Story