بہتر امیدواروں کو ووٹ دینے سے مسائل حل ہونگےمقررین
مذہب کی بنیاد پرکسی کواقلیت سمجھنا ٹھیک نہیں ہے،زبیدہ مصطفی،سدید انور.
انتہا پسندی سیاسی مقاصدکے حصول کیلیے بڑھائی گئی،حاذق الخیری ودیگرکاخطاب۔ فوٹو: فائل
صحافی،مصنف اور فورم آف سیکولر پاکستان کی رکن زبیدہ مصطفی نے کہا ہے کہ مجھے لفظ ''اقلیت'' سے اختلاف ہے جب فرمان قائد کے مطابق سب پاکستانی ہیں، یکساں حقوق اور ذمے داریاں رکھتے ہیں اور ریاست پاکستان کے برابر کے شہری ہیں تو پھر ملک میں اقلیتیں کہاں رہیں؟
وہ شوریٰ ہمدرد کے اجلاس سے خطاب کررہی تھیں، اجلاس میں ہمدرد فائونڈیشن پاکستان کی صدر سعدیہ راشد بھی موجود تھیں،زبیدہ مصطفی نے مزید کہا کہ مذہب کی بنیاد پرکسی کو اقلیت سمجھنا بھی اس لیے ٹھیک نہیں ہے کہ ہندو، عیسائی، پارسی اور دیگر مذاہب کے لوگ کہتے ہیں کہ وہ پاکستانی ہیں، پاکستان کے وفادار ہیں اور پاکستانی قوانین پر عمل کرتے ہیں پھر انھیں اقلیت کیوں کہا جاتا ہے؟ ۔
صدر مجلس جسٹس (ر) حاذق الخیری نے زبیدہ مصطفی کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ تحریک پاکستان ہندی مسلمانوں کے حقوق کی جنگ تھی، مسلمانوں کو مذہبی آزادی تو حاصل تھی لیکن ان کے ساتھ سیاسی اور معاشی بہت ناانصافیاں کی جا رہی تھیں، ایڈمرل (ر) ایم آئی ارشد نے کہا کہ معاملات اس وقت خراب ہونا شروع ہوگئے جب مذہب کو کم پڑھے لکھے ملائوں کے سپرد کر دیا گیا، تعلیم یافتہ لوگوں کو چاہیے تھا کہ وہ اسلام کو سمجھ کر آگے لے کر چلتے۔
پاکستان کے سابق سفیر مہدی مسعود نے کہا کہ عوام آنے والے الیکشن میں تحمل، برداشت اور رواداری کے حامل امیدواروں کو ووٹ دیں،انوارالحق صدیقی نے کہا کہ صحیح امیدواروں کو ووٹ دینے ہوں گے،معاشرتی اور معاشی انصاف قائم ہوگا۔ کموڈور(ر) سدید انور ملک نے کہا کہ پاکستان میں مذہبی جنونیت بڑھ گئی ہے جس نے اقلیتوں کے مسئلے کو گمبھیر بنا دیا ہے، یہ جنونیت سیاسی مقاصد کے تحت پیدا کی گئی ہے۔
وہ شوریٰ ہمدرد کے اجلاس سے خطاب کررہی تھیں، اجلاس میں ہمدرد فائونڈیشن پاکستان کی صدر سعدیہ راشد بھی موجود تھیں،زبیدہ مصطفی نے مزید کہا کہ مذہب کی بنیاد پرکسی کو اقلیت سمجھنا بھی اس لیے ٹھیک نہیں ہے کہ ہندو، عیسائی، پارسی اور دیگر مذاہب کے لوگ کہتے ہیں کہ وہ پاکستانی ہیں، پاکستان کے وفادار ہیں اور پاکستانی قوانین پر عمل کرتے ہیں پھر انھیں اقلیت کیوں کہا جاتا ہے؟ ۔
صدر مجلس جسٹس (ر) حاذق الخیری نے زبیدہ مصطفی کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ تحریک پاکستان ہندی مسلمانوں کے حقوق کی جنگ تھی، مسلمانوں کو مذہبی آزادی تو حاصل تھی لیکن ان کے ساتھ سیاسی اور معاشی بہت ناانصافیاں کی جا رہی تھیں، ایڈمرل (ر) ایم آئی ارشد نے کہا کہ معاملات اس وقت خراب ہونا شروع ہوگئے جب مذہب کو کم پڑھے لکھے ملائوں کے سپرد کر دیا گیا، تعلیم یافتہ لوگوں کو چاہیے تھا کہ وہ اسلام کو سمجھ کر آگے لے کر چلتے۔
پاکستان کے سابق سفیر مہدی مسعود نے کہا کہ عوام آنے والے الیکشن میں تحمل، برداشت اور رواداری کے حامل امیدواروں کو ووٹ دیں،انوارالحق صدیقی نے کہا کہ صحیح امیدواروں کو ووٹ دینے ہوں گے،معاشرتی اور معاشی انصاف قائم ہوگا۔ کموڈور(ر) سدید انور ملک نے کہا کہ پاکستان میں مذہبی جنونیت بڑھ گئی ہے جس نے اقلیتوں کے مسئلے کو گمبھیر بنا دیا ہے، یہ جنونیت سیاسی مقاصد کے تحت پیدا کی گئی ہے۔