خلاف ضابطہ بھرتیوں میں ملوث نیازلغاری ڈائریکٹراسکولزتعینات
بھرتیوں میں ملوث دوسرے افسرشمس الدین دل ڈائریکٹراسکولز حیدرآباد مقرر.
شمس الدین دل نے 1100بھرتیاں،نیاز لغاری نے قریبی عزیزوںسمیت 150 بھرتیاں کیں. فوٹو: فائل
نگراں صوبائی حکومت نے حیرت انگیز طور پر سابق دورحکومت میں کراچی کے سرکاری اسکولوں میں خلاف ضابطہ بھرتیاں کرنے والے افسر نیازلغاری کو ڈائریکٹر اسکولز کراچی تعینات کردیا ہے۔
جبکہ خلاف ضابطہ بھرتیوں میں ملوث شمس الدین دل کوڈائریکٹراسکولز حیدرآباد تعینات کیا گیا ہے، سابق ڈائریکٹراسکولزنیاز لغاری نے اپنی تقرری کے نوٹیفکیشن کے اجرا کے بعد بدھ کوعہدے کا چارج سنبھال لیا ہے، نیاز لغاری کے دورمیں سرکاری اسکولوں میں 150 سے زائد افراد کو غیرتدریسی اسامیوں پر بغیرکسی اشتہار کے براہ راست تعینات کیا گیا تھا ، خلاف ضابطہ بھرتی کیے جانے کے سبب ان میں سے اکثرکوآج تک تنخواہیں بھی جاری نہیں کی جاسکیں تاہم بھرتی ہونے والوں میں سے نیاز لغاری کے قریبی عزیز بھی شامل تھے جوکراچی کے سرکاری اسکولوں میں تعینات اور تنخواہیں وصول کررہے ہیں تاہم باقی بھرتی کیے گئے اکثر افراد تا حال تنخواہوںکے بغیرکام کررہے ہیں۔
مزید براں نیازلغاری کے دور میں کراچی کے سرکاری اسکولوں میں سندھی لینگویج ٹیچرز، عربی لینگویج ٹیچرز اور ڈرائنگ ٹیچرزکی اسامیوں کے لیے تحریری ٹیسٹ دینے والے امیدواروں کے نتائج روک لیے گئے اور ٹیسٹ میں شریک نہ ہونے والے سیکڑوں افراد کو انٹرویولیٹرجاری کردیے گئے ہیں تاہم بدعنوانی انتہا پرپہنچی اورمعاملہ ذرائع ابلاغ میں آیا توڈائریکٹراسکولزنیازلغاری اپنادامن بچاکردوماہ کی رخصت پرچلے گئے اوران کے دورمیں ٹیسٹ کے بغیرانٹرویودینے والے افرادمحکمہ سے تقرری کا تقاضا کرنے لگے ،محکمہ کی جانب سے اس اثناء میں شمس الدین دل کو ڈائریکٹر اسکولزکراچی تعینات کردیا۔
شمس الدین دل نے ابتدا میں تدریسی اور غیر تدریسی اسامیوں پر 423 اور بعد ازاں 624 افراد کو خلاف ضابطہ بھرتی کرلیا تا حال ان افراد کو بھی تنخواہوں کااجرا ممکن نہیں ہوسکا ہے اور محکمہ تعلیم کی ایک کمیٹی قائم مقام سیکریٹری تعلیم شفیق میسہڑکی سربراہی میں ان معاملات پرتحقیقات کررہی ہے جس کی رپورٹ بھی تا حال جاری نہیں ہوسکی،تاہم ابھی تحقیقات مکمل نہیں ہوئی تھیں۔
جبکہ خلاف ضابطہ بھرتیوں میں ملوث شمس الدین دل کوڈائریکٹراسکولز حیدرآباد تعینات کیا گیا ہے، سابق ڈائریکٹراسکولزنیاز لغاری نے اپنی تقرری کے نوٹیفکیشن کے اجرا کے بعد بدھ کوعہدے کا چارج سنبھال لیا ہے، نیاز لغاری کے دورمیں سرکاری اسکولوں میں 150 سے زائد افراد کو غیرتدریسی اسامیوں پر بغیرکسی اشتہار کے براہ راست تعینات کیا گیا تھا ، خلاف ضابطہ بھرتی کیے جانے کے سبب ان میں سے اکثرکوآج تک تنخواہیں بھی جاری نہیں کی جاسکیں تاہم بھرتی ہونے والوں میں سے نیاز لغاری کے قریبی عزیز بھی شامل تھے جوکراچی کے سرکاری اسکولوں میں تعینات اور تنخواہیں وصول کررہے ہیں تاہم باقی بھرتی کیے گئے اکثر افراد تا حال تنخواہوںکے بغیرکام کررہے ہیں۔
مزید براں نیازلغاری کے دور میں کراچی کے سرکاری اسکولوں میں سندھی لینگویج ٹیچرز، عربی لینگویج ٹیچرز اور ڈرائنگ ٹیچرزکی اسامیوں کے لیے تحریری ٹیسٹ دینے والے امیدواروں کے نتائج روک لیے گئے اور ٹیسٹ میں شریک نہ ہونے والے سیکڑوں افراد کو انٹرویولیٹرجاری کردیے گئے ہیں تاہم بدعنوانی انتہا پرپہنچی اورمعاملہ ذرائع ابلاغ میں آیا توڈائریکٹراسکولزنیازلغاری اپنادامن بچاکردوماہ کی رخصت پرچلے گئے اوران کے دورمیں ٹیسٹ کے بغیرانٹرویودینے والے افرادمحکمہ سے تقرری کا تقاضا کرنے لگے ،محکمہ کی جانب سے اس اثناء میں شمس الدین دل کو ڈائریکٹر اسکولزکراچی تعینات کردیا۔
شمس الدین دل نے ابتدا میں تدریسی اور غیر تدریسی اسامیوں پر 423 اور بعد ازاں 624 افراد کو خلاف ضابطہ بھرتی کرلیا تا حال ان افراد کو بھی تنخواہوں کااجرا ممکن نہیں ہوسکا ہے اور محکمہ تعلیم کی ایک کمیٹی قائم مقام سیکریٹری تعلیم شفیق میسہڑکی سربراہی میں ان معاملات پرتحقیقات کررہی ہے جس کی رپورٹ بھی تا حال جاری نہیں ہوسکی،تاہم ابھی تحقیقات مکمل نہیں ہوئی تھیں۔