تنازعہ کشمیر پر صدر مملکت کا درست موقف

بھارت نے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو دبانے کے لیے ظلم و ستم کا ہر حربہ آزمایا مگر وہ اس میں ناکام ہو گیا۔

صدر مملکت کے اس بیان سے یہ پیغام واضح ہو جاتا ہے کہ وہ بھارت کی تمام تر ہٹ دھرمی کے باوجود اسے مذاکرات کی دعوت دے رہے ہیں۔ فوٹو: فائل

کشمیر، پاکستان اور بھارت کے درمیان گزشتہ 65 سال سے وجہ تنازعہ چلا آ رہا ہے۔ یہ مسئلہ اس قدر حساس اور جذباتی نوعیت کا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اس پر جنگیں ہو چکی ہیں اور آج بھی کنٹرول لائن پر چلنے والی ایک بھی گولی کی آواز سے جنگ کے شعلے بھڑکنے کا خوف فضا میں چھا جاتا ہے۔ یہ مسئلہ جنگوں سے حل نہ ہوا تو دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر آنا پڑا۔

آج جب پاک بھارت ایٹمی اسلحے اور جدید ترین میزائلوں سے لیس ہیں تو دونوں ممالک کواس امر کا بخوبی ادراک ہے کہ اگر اب جنگ ہوئی تو پھر نہ کوئی فاتح ہو گا اور نہ مفتوح' دونوں کا وجود صفحہ ہستی پر ماضی کا قصہ بن جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان اس مسئلے کو پر امن طور پر حل کرنے کے لیے کئی بار سیکریٹری سطح کے مذاکرات ہوئے۔ نواز شریف دور میں بھی وزرائے اعظم کی سطح پر بات چیت ہوئی پھر مشرف دور میں بھی صدر مشرف مذاکرات کے لیے بھارت تشریف لے گئے' ان تمام کوششوں کے باوجود مسئلہ کشمیر جوں کا توں چلا آ رہا ہے اور بات چیت کا کوئی بھی عمل نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکا۔

اب کنٹرول لائن پر پیدا ہونے والی کسی بھی کشیدگی کے بعد دونوں ممالک کے حکام فوری طور پر امن بات چیت کی کوششیں شروع کر دیتے ہیں کیونکہ وہ بخوبی جانتے ہیں کہ خوفناک ہتھیاروں کی موجودگی میں جنگ کا نعرہ دونوں کے لیے صرف اور صرف تباہی کا پیغام لے کر آئے گا۔ مسئلہ کشمیر کا حل کیا جانا اس خطے میں مستقل امن کے لیے ناگزیر ہے جب تک یہ مسئلہ موجود ہے جنوبی ایشیا میں کشیدگی کا عنصر موجود رہے گا۔ صدر آصف علی زرداری نے بھی اسی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے مسئلہ کشمیر حل کرنا لازم ہے۔ بدھ کو مظفر آباد میں آزاد جموں و کشمیر کونسل اور قانون ساز اسمبلی کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے واضح طور پر کہا کہ مسئلہ کشمیر 65 سال سے لٹک رہا ہے' عالمی برادری بدقسمتی سے یہ مسئلہ حل کرانے میں کامیاب نہ ہو سکی ہے۔

انھوں نے پاکستانی موقف بیان کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے مذاکرات پر یقین رکھتے ہیں اور آیندہ بھی اسے بین الاقوامی فورمز پر اٹھاتے رہیں گے۔ صدر مملکت کے اس بیان سے یہ پیغام واضح ہو جاتا ہے کہ وہ بھارت کی تمام تر ہٹ دھرمی کے باوجود اسے مذاکرات کی دعوت دے رہے ہیں اور خطے میں کسی قسم کی کشیدگی نہیں چاہتے اور جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے خواہاں ہیں۔ پاکستان نے مسئلہ کشمیر کے ابتدا ہی میں اس کے حل کے لیے اقوام متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ بھارت پہلے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے کرانے پر رضا مند ہو گیا مگر جب پاکستان نے استصواب رائے پر دبائو بڑھایا تو بھارت ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے وعدے سے مکر گیا اس کی اس وعدہ خلافی پر کشمیری سراپا احتجاج بن گئے۔


بھارت نے کشمیریوں کے جذبہ حریت کو دبانے کے لیے ظلم و ستم کا ہر حربہ آزمایا مگر وہ اس میں ناکام ہو گیا۔ جوں جوں بھارتی مظالم میں اضافہ ہوتا چلا گیا کشمیریوں کا جذبہ آزادی بھی توں توں بڑھتا چلا گیا۔ جب کشمیریوں کے جذبہ آزادی کی پکار وادی سے نکل کر چہار سو پھیلی تو بھارت نے اپنی ناکامی پر پردہ ڈالنے اور پوری دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے کشمیریوں کو دہشت گرد قرار دے کر پاکستان پر ان کی تربیت کے الزامات عائد کرنا شروع کر دیے اور وادی کشمیر میں فوجی نفری میں اضافہ کر دیا۔ آج چھ لاکھ سے زائد بھارتی فوج کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رہے ہیں۔ وہ کشمیریوں کے گھر کے دروازے توڑ کر اندر داخل ہو جاتے' نوجوانوں کو اغوا کرتے اور خواتین کی بے حرمتی کرتے ہیں۔ بعدازاں ان مغوی نوجوانوں کی لاشیں برآمد ہوتی ہیں۔ آج تک ہزاروں بے گناہ نوجوان شہید ہو چکے ہیں۔

وادی کشمیر میں جا بجا ان شہدا کے قبرستان دکھائی دیتے ہیں۔ ظلم و بربریت کے تمام حربے آزمانے کے باوجود بھارتی بنیا نہ کشمیریوں کو جھکا سکا اور نہ ایک قدم بھی پیچھے ہٹا سکا۔ صدر آصف علی زرداری نے صائب کہا کہ کشمیری ایک قوم ہیں اور قوموں کو شکست نہیں دی جا سکتی' کشمیریوں کی تحریک مقامی ہے جس کو دبایا نہیں جا سکتا' پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی' سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان نے ہمیشہ کشمیریوں کی اخلاقی حمایت کی ہے ، نہ تو اس نے کبھی کشمیری حریت پسندوں کو تربیت دی اور نہ بھارتی فوج کے خلاف کشمیریوں کی کسی کارروائی میں ان کی معاونت کی۔ آج کشمیری آزادی چاہتے ہیں' وہ پوری طرح متحد ہیں' وہ کسی بھی قیمت پر پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔

لاکھوں قربانیاں دینے کے باوجود ان کے قدم نہیں ڈگمگائے اور وہ کفن باندھے بھارتی سنگینوں کا صرف پتھرائو کرکے مقابلہ کر رہے ہیں۔ ہر سال 5 فروری کو دنیا بھر کے کشمیری پرامن رہتے ہوئے بھارتی مظالم کے خلاف اظہار یک جہتی مناتے اور اپنا احتجاج غیر ملکی سفارتخانوں میں جمع کراتے ہیں۔ اقوام متحدہ اور او آئی سی کئی بار کشمیریوں پر بھارتی مظالم کا نوٹس لے چکے ہیں مگر بھارتی حکومت کبھی کسی نوٹس کو خاطر میں نہیں لائی اور کشمیریوں پر ظلم و ستم کا بازار مسلسل گرم رکھے ہوئے ہے۔ پاکستان نے بارہا اقوام متحدہ اور عالمی قوتوں کی اس جانب توجہ دلائی اور مسئلے کا پر امن حل تلاش کرنے کے لیے کہا مگر اقوام متحدہ اور عالمی قوتوں کا رویہ مسلسل سرد مہری کا شکار چلا آ رہا ہے۔

اگر اقوام متحدہ اور عالمی قوتیں اس مسئلہ کا پرامن چاہتی ہیں تو انھیں بھارت پر اس مسئلے کے حل کے لیے حقیقی معنوں میں دبائو ڈالنا ہوگا۔ بھارت کو بھی اب اس کا ادراک کر لینا چاہیے کہ وہ تمام تر ہتھیاروں اور وسائل کے باوجود کشمیریوں کے جذبہ حریت کو شکست نہیں دے سکتا لہذا اسے اس خطے میں پائیدار امن کے لیے اس کے مناسب حل کی جانب پیش رفت کرنا ہو گی۔ صدر مملکت نے بالکل درست کہا ہے کہ بھارت تشدد کا راستہ ترک کرکے کشمیریوں کو اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق حق خود ارادیت دے۔
Load Next Story