جیلوں میں گنجائش سے 57 فیصد زائد قیدی رکھنے کا انکشاف

جیلیں انتہاپسندی کامرکزبن گئیں،مجموعی تعداد 112، قیدیوں کی تعداد 83718

نیکٹا نے سائبر دہشت گردی  خطرات سے نمٹنے کیلیے نیا ونگ تشکیل دے دیا، مسائل تنہا حل نہیں کیے جا سکتے، کوآرڈینیٹر احسان غنی فوٹو:فائل

پاکستان کے چاروں صوبوں اور آزاد کشمیر کی جیلوں میں گنجائش سے 57 فیصدزائدقیدی رکھنے کا انکشاف ہوا ہے۔

جیلوں میں قیدیوں کی مجموعی تعداد 83718 ہے، صرف گلگت بلتستان کی جیلوں میں گنجائش سے کم قیدی ہیں، گلگت بلتستان کی جیلوں میں 374قیدی ہیں جبکہ ان جیلوں میں 740 قیدیوں کی گنجائش ہے، جیلوں میں خواتین قیدیوں کی کل تعداد 1527جبکہ قید بچوں کی تعداد 1194 ہے، آزاد کشمیر گلگت بلتستان، خیبر پختونخواہ اور بلوچستان میں عورتوں اور بچوں کے لیے کوئی جیل نہیں۔ منگل کواسلام آبادکے مقامی ہوٹل میں پاکستان کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد سے متعلق قومی ادارہ برائے انسداد دہشتگردی ( نیکٹا) اور انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈکراس (آئی سی آرسی) کے زیرانتظام رپورٹ کے اجراء کی تقریب ہوئی۔ رپورٹ میں بتایا گیاکہ پاکستان کی جیلوں میں موجود گنجائش سے57فیصد زیادہ قیدیوں کورکھاگیا،ملک بھر میں جیلوں کی کل تعداد 112ہے ان میں قیدیوں کی گنجائش 53744 قیدیوں کی ہے جبکہ اس وقت ملک کی جیلوں میں قیدیوں کی مجموعی تعداد 83718 ہے۔


پنجاب میں 40 چھوٹی بڑی جیلیں ہیں جن میں بچوں کیلیے دواورعورتوں کیلیے ایک جیل بھی شامل ہے جبکہ سندھ میں 26 جیلیں ہیں، سندھ میں خواتین کیلیے 3، بچوں کیلیے5جیلیں ہیں،پختونخوا میں 22 جیلیں ہیں جہاں عورتوں اور بچوں کیلیے کوئی جیل نہیں۔ بلوچستان کی 11اور آزاد کشمیر کی 7جیلوں میں بھی عورتوں اوربچوں کیلیے کوئی جیل نہیں، گلگت بلتستان میں 6 جیلیں ہیں۔

رپورٹ کے مطابق جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کے رہنے سے بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے نیشنل کوآرڈینیٹراحسان غنی نے کہاکہ جیلوں میں گنجائش سے زیادہ قیدیوں کی تعداد ہے، یہاں جیلوں میں ڈال کربھول جاتے ہیں اور لوگ سالہاسال تک قید رہنے کے بعد بیگناہ ثابت ہوتے ہیں۔انہوں نے کہاکہ جیلیں اصلاح کے بجائے جرائم پیشہ افراد کی منفی تربیت اور انتہا پسندی کامرکز بن گئیں، جیلوں کو درپیش مسائل تنہا حل نہیں کیے جاسکتے۔علاوہ ازیں نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم اتھارٹی( نیکٹا) نے سائبر دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے خطرات سے نمٹنے اور سائبر سیکیورٹی کے معاملات پرجدید تقاضوں کے مطابق حکمت عملی کی تشکیل کیلیے سائبرسیکیورٹی انفارمیشن اینڈکمیونیکشن ٹیکنالوجی (سی ایس آئی سی ایس) کے نام سے ایک ونگ تشکیل دیاہے ، ونگ نے سائبرسکیورٹی کے حوالے سے کئی اقدامات کیے ہیں۔
Load Next Story