نشتر روڈ کے3دوستوں کا اغوا کے بعد قتل
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ تہرے قتل کی واردات میں لیاری گینگ وار کے ملزمان ملوث ہیں
سینئر ایم ایل او ڈاکٹر آفتاب چنڑ نے بتایا کہ مقتولین کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد سر اور چہرے پر گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔ فوٹو: عرفان علی / ایکسپریس
KARACHI:
کھارادرسے3مغوی دوستوں کی لاشیں ملی ہیں جنھیں نامعلوم ملزمان نے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد فائرنگ کرکے ہلاک کردیا ۔
تینوں دوستوں کی لاشیں جب ایک ہی گلی میں پہنچیں توکہرام مچ گیا ،تینوں دوستوں کو جس وقت اغوا کیا گیا ،اس وقت علاقے میں لیاری گینگ وار کے ملزمان کا مکمل کنٹرول ہوتا ہے اور پولیس بھی وہاں گشت کرنے سے گریزکرتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق میٹھادر صرافہ بازار پھول چوک کے قریب سے 16سالہ یٰسین کی لاش ملی جبکہ کھاردار تھانے کی حدود مہران بیکری کے قریب سے 17 سالہ محمد مصطفی اور 20 سالہ شہباز کی لاشیں ملیں، اطلاع ملنے پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاشیں ضابطے کی کارروائی کیلیے سول اسپتال پہنچائیں ، سینئر ایم ایل او ڈاکٹر آفتاب چنڑ نے بتایا کہ مقتولین کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد سر اور چہرے پر گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔
کھارادر تھانے کے ڈیوٹی افسر محمد یوسف نے بتایا کہ ملزمان نے تینوں مغوی دوستوں کو صرافہ بازار اور مہران بیکری کے قریب لاکر فائرنگ کر کے ہلاک کیا، مقتول مصطفی کے قریبی عزیز بھٹو نے بتایا کہ تینوں دوست نیپئر کے علاقے بارہ امام نشتر روڈ کے رہائشی ہیں جو کہ فشری پر اسٹار کمپنی میں کام کرتے تھے،بدھ کی رات کو ان کا اہلخانہ سے موبائل فون پر رابطہ ہوا تھا کہ چھٹی ہوگئی ہے اور وہ گھر آرہے ہیں
تاہم تینوں دوست جب موسیٰ لین کے قریب پہنچے تو نامعلوم ملزمان نے انھیں اغوا کرلیا اور چند ہی گھنٹوں کے بعد کھارادر کے مختلف مقامات پر لاکر فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔
انھوں نے بتایاکہ تینوں مقتولین انتہائی غریب گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں ان کے بہیمانہ قتل سے اہلخانہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہوجائیں گے، تینوں دوستوں کی لاشیں ضابطے کی کارروائی کے بعد ان کی رہائش گاہ پہنچائی گئیں تو کہرام مچ گیا، خواتین دھاڑیں مار مار کر لاشوں سے لپٹ گئیں جبکہ اس موقع پر علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
مقتولین غلام مصطفی اور یٰسین کی نماز جنازہ بعد نماز ظہر گھر کے قریب واقع مسجد میں ادا کی گئی اور بعدازاں میوہ شاہ قبرستان میںسپرد خاک کردیا گیا جبکہ مقتول شہباز کی نماز جنازہ ( آج ) جمعے کو ادا کی جائے گی،پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوع سے نائن ایم ایم پستول کے 10سے زائد خالی خول ملے ہیں جنھیں پولیس نے قبضے میں لے لیا۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ تہرے قتل کی واردات میں لیاری گینگ وار کے ملزمان ملوث ہیں کیونکہ تینوں دوستوں کو بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب اغوا کیا گیا اور اس وقت ان علاقوں میں لیاری گینگ وارکے ملزمان کا مکمل کنٹرول ہوتا ہے اور پولیس بھی وہاں پرگشت کرنے سے گریزکرتی ہے، کھارادر پولیس نے تہرے قتل کا مقدمہ نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کرلیا ،مقتول محمد مصطفی 2 بہنوں اور 3 بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا جبکہ یٰسین 4 بھائیوں اور 5 بہنوں میں سب سے چھوٹا تھا۔
کھارادرسے3مغوی دوستوں کی لاشیں ملی ہیں جنھیں نامعلوم ملزمان نے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد فائرنگ کرکے ہلاک کردیا ۔
تینوں دوستوں کی لاشیں جب ایک ہی گلی میں پہنچیں توکہرام مچ گیا ،تینوں دوستوں کو جس وقت اغوا کیا گیا ،اس وقت علاقے میں لیاری گینگ وار کے ملزمان کا مکمل کنٹرول ہوتا ہے اور پولیس بھی وہاں گشت کرنے سے گریزکرتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق میٹھادر صرافہ بازار پھول چوک کے قریب سے 16سالہ یٰسین کی لاش ملی جبکہ کھاردار تھانے کی حدود مہران بیکری کے قریب سے 17 سالہ محمد مصطفی اور 20 سالہ شہباز کی لاشیں ملیں، اطلاع ملنے پر پولیس نے موقع پر پہنچ کر لاشیں ضابطے کی کارروائی کیلیے سول اسپتال پہنچائیں ، سینئر ایم ایل او ڈاکٹر آفتاب چنڑ نے بتایا کہ مقتولین کو تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد سر اور چہرے پر گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔
کھارادر تھانے کے ڈیوٹی افسر محمد یوسف نے بتایا کہ ملزمان نے تینوں مغوی دوستوں کو صرافہ بازار اور مہران بیکری کے قریب لاکر فائرنگ کر کے ہلاک کیا، مقتول مصطفی کے قریبی عزیز بھٹو نے بتایا کہ تینوں دوست نیپئر کے علاقے بارہ امام نشتر روڈ کے رہائشی ہیں جو کہ فشری پر اسٹار کمپنی میں کام کرتے تھے،بدھ کی رات کو ان کا اہلخانہ سے موبائل فون پر رابطہ ہوا تھا کہ چھٹی ہوگئی ہے اور وہ گھر آرہے ہیں
تاہم تینوں دوست جب موسیٰ لین کے قریب پہنچے تو نامعلوم ملزمان نے انھیں اغوا کرلیا اور چند ہی گھنٹوں کے بعد کھارادر کے مختلف مقامات پر لاکر فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔
انھوں نے بتایاکہ تینوں مقتولین انتہائی غریب گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں ان کے بہیمانہ قتل سے اہلخانہ شدید مالی مشکلات کا شکار ہوجائیں گے، تینوں دوستوں کی لاشیں ضابطے کی کارروائی کے بعد ان کی رہائش گاہ پہنچائی گئیں تو کہرام مچ گیا، خواتین دھاڑیں مار مار کر لاشوں سے لپٹ گئیں جبکہ اس موقع پر علاقہ مکینوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
مقتولین غلام مصطفی اور یٰسین کی نماز جنازہ بعد نماز ظہر گھر کے قریب واقع مسجد میں ادا کی گئی اور بعدازاں میوہ شاہ قبرستان میںسپرد خاک کردیا گیا جبکہ مقتول شہباز کی نماز جنازہ ( آج ) جمعے کو ادا کی جائے گی،پولیس کا کہنا ہے کہ جائے وقوع سے نائن ایم ایم پستول کے 10سے زائد خالی خول ملے ہیں جنھیں پولیس نے قبضے میں لے لیا۔
پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ تہرے قتل کی واردات میں لیاری گینگ وار کے ملزمان ملوث ہیں کیونکہ تینوں دوستوں کو بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب اغوا کیا گیا اور اس وقت ان علاقوں میں لیاری گینگ وارکے ملزمان کا مکمل کنٹرول ہوتا ہے اور پولیس بھی وہاں پرگشت کرنے سے گریزکرتی ہے، کھارادر پولیس نے تہرے قتل کا مقدمہ نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کرلیا ،مقتول محمد مصطفی 2 بہنوں اور 3 بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا جبکہ یٰسین 4 بھائیوں اور 5 بہنوں میں سب سے چھوٹا تھا۔