سہراب گوٹھخاتون کے قتل کے الزام میں شوہراور سسر گرفتار

متوفیہ کے دیور اور ساس کی عدم گرفتاری کیخلاف متوفیہ کے اہلخانہ کا احتجاج

واقعہ گھریلونا چاقی کا نتیجہ ہے،ملزمان سے آلہ قتل پستول برآمدکرلیا،پولیس فوٹو: فائل

BANGALORE:
سہراب گوٹھ میں فائرنگ کر کے قتل کی جانے والی 22 سالہ سمیر کے قتل کا مقدمہ شوہر ، دیور، ساس اور سسر کے خلاف درج کر کے شوہر اور سسر کو باقاعدہ گرفتار کر لیا گیا۔

جبکہ دیگر نامزد ملزمان دیور اور ساس کی عدم گرفتاری کے خلاف متوفیہ کے اہلخانہ کا سہراب گوٹھ تھانے کے سامنے میت رکھ کر گھنٹوں پر امن احتجاج کرتے ہوئے دیگر ملزمان کی گرفتاری کا مطالبہ کرتے رہے،ملزم سلیم کے والد کو پولیس اہلکار بتایاجارہاہے، تفصیلات کے مطابق بدھ کو سہراب گوٹھ فقیرا گوٹھ آر لائن والی گلی نمبر8 سے لاش ملی تھی جسے ضابطے کی کارروائی کے لیے عباسی شہید اسپتال پہنچایا گیا تھا۔

بعد ازاں لاش ورثا کے حوالے کردی گئی تھی،متوفیہ کے شوہر اور سسر کو حراست میں لے کر اسلحہ برآمد کر لیا گیا تھا تاہم رات گئے متوفیہ کے والد برکت علی کی مدعیت میں قتل کا مقدمہ درج کیا گیا تھا جس میں متوفیہ کے شوہر محمد سلیم ،دیور محمد رفیق ، ساس حلیمہ بی بی اور سسر محمد صدیق کو نامزد کیا گیا تھا جس پر پولیس نے متوفیہ کے شوہر محمد سلیم اورسسر محمد صدیق کو گرفتار کرکے آلہ قتل ٹی ٹی پستول برآمد کر لی ہے۔




پولیس کے مطابق متوفیہ سمیرا کی ایک سال قبل محمد سلیم سے شادی ہوئی تھی ،انھوں نے بتایا کہ واقعہ گھریلوناچاقی کا نتیجہ ہے مقدمے میں نامزد دیگر ملزمان دیور محمد رفیق اور ساس حلیمہ بی بی کی عدم گرفتاری کے خلاف متوفیہ کے اہلخانہ نے سہراب گوٹھ تھانے کے سامنے میت رکھ کر گھنٹوں شدید احتجاج کیا۔

اس موقع پر متوفیہ کے والد برکت علی نے ایکسپریس سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا آبائی تعلق حیدر آباد نمبر 11سے ہے ،سمیرا کو شوہر محمد سلیم روزانہ تشدد کا نشانہ بنایا کرتا تھا ، انصاف چاہتے ہیں اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں مقدمے میں نامزد دیگر ملزمان کو بھی جلد از جلد گرفتار کیا جائے اور قتل میں ملوث تمام ملزمان کو قرار واقعے سزا دی جائے ۔
Load Next Story